جنسی ہراسانی سے بچوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے دن کی مسافت

جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی

تو ہم کہتے تھے۔ امی!

تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے

ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں

نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہَوا کے ساتھ

کھڑکی سے بُلاتی ہے۔

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو۔

احمد شمیم کی اس نظم کو پڑھ کر میرے ذہن میں ہمیشہ بچوں کے معصوم اور شرارتی بچپن کا تصور ہی اُبھرا ہے، مگر اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتے ہُوئے منفی رویوں اور آوارہ روش نے ان نازک پھولوں کی مانند بچوں کے چہروں سے ان کی معصومیت اور زندگی کے رنگوں کو چھین کر خوف اور ڈر کی صورت دے دی ہے۔ بچے اس کائنات میں خداکی تراشی ہُوئی سب سے خوبصورت ترین تخلیق ہیں اور کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ بچوں کی معصومیت میں ہم خدا کی جھلک بھی دیکھ سکتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسان نے اپنی سفاکی اور دردنگی کے ذریعے خدا کی اس معصوم تخلیق کے تمام رنگ اور خوشبوؤں کو ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ آج بچے اپنے ہی ملک، شہر، علاقے، محلے اور گھروں میں غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ اور بچوں کے ساتھ اس غیر انسانی سلوک نے انسانیت کو بھی شرمندہ کردیا ہے۔

میں ذکر کر رہی ہوں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال/زیادتی کا، جس کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تحقیق کے مطابق بچوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے گذارنے والے 39 فیصد قریبی رشتہ دار اور جان پہچان کے افراد ہوتے ہیں جبکہ 7 فیصد اجنبی ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں؟ درندہ صفت انسان آخر کیوں بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا پہ پہنچ گئے ہیں؟ وہ کیا وجوہات ہیں جو ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے؟

اِن تمام سوالات سے قطع نظر ہمیں ان باتوں کی یقین دہانی کرنی چاہیے کہ ہم ان معصوم کلیوں کو اس درندگی اور سفاکی سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں! اور یہ ذمہ داری صرف والدین یا بچے کے بڑے اور سمجھدار بہن بھائیوں کی ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے، قوم کی ہے، اُن تمام باشعور افراد کی ہے جو اپنے بچوں کو محفوظ اور ذہنی وجسمانی صحت کے ساتھ زندگی گذارتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر محفوظ اور صحت مند رکھنے کے لیے ہمیں جن باتوں پر توجہ دینے کی خاص طور پر ضرورت ہے، وہ درج ذیل ہیں۔

” والدین اور سمجھدار و با شعور بھا ئی بہن ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری اور فرائض“

  1. گھر میں بچوں کے لیے دوستانہ ماحول بنایا جائے تاکہ دوران ِ گفتگو وہ اپنے آپ کو محفوظ اور قابلِ اعتبار سمجھیں اور ان میں اعتماد پیدا ہو۔
  2. بچوں کو یہ اعتبار دیا جائے کہ وہ اگر کسی ناپسندیدہ عمل یا شخص کے حوالے سے والدین یا بڑے بھائی بہن سے شکایت کریں گے تو ان کی بات پر یقین کیا جائے گا اور انھیں کسی قسم کی ڈانٹ یا مار کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
  3. بچوں کو یہ بات واضح طور پر سمجھائی جائے کہ ان کے بہن بھائی صرف وہی ہیں جو ان کے سگے بہن بھائی ہیں۔
  4. بچوں کو یہ سمجھایا جائے کہ وہ کسی بھی اجنبی شخص سے کوئی کھلونا یا کھانے پینے کی چیز نہیں لے سکتے۔ ڈرائیور، چوکیدار، گھر کے ملازمین، اسکول کی انتظامیہ اور اساتذہ بھی اس قسم کے تحفے وصول کرنے کے لحاظ سے بچوں کے لیے اجنبی ہیں۔
  5. بچوں کو سمجھایاجا ئے کہ اپنے والدین اور سگے بھائی بہن کے علاوہ کسی کے بھی ساتھ کمرے میں تنہا نہ بیٹھا جائے، اور ان کی نا سمجھ عمر تک والدین اور بھائی بہن خود اس کے ساتھ ہر وقت موجود ہوں۔
  6. بچوں کو سمجھایا جائے کہ آس پاس موجود افراد سے غیر ضروری بات کرنے سے گریز کریں اور انھیں جہاں کوئی خطرہ یا ڈر محسوس ہو، فوراٌ اس شخص یا مقام سے دُور ہوجائیں۔
  7. اگر گھر میں بچوں کو پڑھانے کے لیے ٹیوٹر اور قاری آتے ہیں تو گھر کا سمجھدار اور ذمہ دار شخص دوران ِ تدریس کمرے میں موجود رہے۔
  8. اسکول کی وین میں بٹھانے کے لیے یا اسکول کے گیٹ تک والدین خود بچّے کے ساتھ موجود رہیں۔
  9. بچوں کے تمام دوست اور ان کے گھروں کے بارے میں مکمل معلومات رکھیں۔ دوران کھیل بچوں کے آنے جانے کے وقت پر سختی سے عمل کریں اور باہر بچوں کے ساتھ کھیل کے دوران گھر کا کوئی بڑا، سمجھدار فرد ساتھ رہے۔
  10. اگر گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے آیا، ملازم موجود ہیں تو کبھی اپنے بچوں کو ان کے ساتھ اکیلا نہ چھوڑیں اور نا ہی کبھی ملازم یا ڈرائیور کے ساتھ باہر تنہا بھیجیں۔
  11. اپنے گھر کے تمام ملازمین کے کوائف اپنے پاس بھی محفوظ رکھیں اور علاقے کے تھانے میں بھی جمع کروائیں۔
  12. بچوں کو کبھی کسی اجنبی یا پڑوسی کے گھر اکیلا نہیں بھیجیں، خواہ والدین کے تعلقات پڑوسیوں کے ساتھ کتنے ہی خوشگوار کیوں نہ ہوں۔
  13. کسی اجنبی یامشکوک شخص کی، جس کا تعلق آپ کے علاقے یا محلے سے نہیں، اس کی غیر معمولی آمد و رفت پر نظر رکھیں۔
  14. بچوں کو کبھی بھی سودا یا گھر کا کوئی سامان خریدنے کے لیے اکیلے کسی دکان نا بھیجیں۔
  15. بچوں کے بدلتے روّیے، مزاج اور عادتوں کو اہمیت دیں۔
  16. اس بات پر نظر رکھیں کہ بچہ کس شخص سے خوفزدہ رہنے لگا ہے اور کس شخص سے غیر محسوس طریقے سے ضرورت سے زیادہ قریب ہو رہا ہے۔
  17. بچوں پر نظر رکھیے کہ بچہ ٹی۔ وی، کمپیوٹر اور اسمارٹ فونز پر کیا دیکھ رہا ہے۔
  18. بچوں کو ”نا / نہیں“ یعنی انکار کرنا سکھائیے۔ اگر ان کے ساتھ کوئی شخص غلط یانا مناسب گفتگو یا پھرغلط انداز سے ان کے قریب ہونے کی کوشش کرے تو بچہ خوفزدہ ہونے کے بجائے انکار کرے، چیخے چلائے اور شور کر کے آس پا س کے لوگوں کو متوجہ کرے۔
  19. دن کے اختتام پر بچوں سے تمام دن کی روداد پوچھیں کہ وہ دن بھر کہاں کہاں گئے؟ کس کس سے ملے؟ کہیں ان کے ساتھ کوئی ناگوار واقعہ تو پیش نہیں آیا!

 

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حمیرا خالد کی دیگر تحریریں
حمیرا خالد کی دیگر تحریریں