اپنے جیسی خواتین کے ایڈز سے تحفظ اور ان کے بچوں کا مستقبل بچانے والی ماضی کی سیکس ورکرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیڈ
عموماً سیکس ورکرز کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ نہیں ملتا جس کی اہم وجہ ولدیت کے خانے میں باپ کے نام کا نہ ہونا ہے

پاکستان میں سیکس ورکرز کی زندگی اور اس سے جڑے مسائل موجود بھی ہیں اور اہم بھی تاہم یہ سب اُن ممنوعہ موضوعات میں شامل ہیں جن پر کھل کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ماضی میں اسی پیشے سے منسلک کچھ خواتین پر مبنی تنظیم نہ صرف سیکس ورکرز کی صحت اور محفوظ کام جیسے معاملات میں مدد کر رہی ہے بلکہ ان کے بچوں کے تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے بھی سرگرم ہے۔ صحافی عفیفہ چوہان نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ لوگ کیسے کام کرتے ہیں اور اس میں دشواریاں کیا ہیں؟

بلاکھی شاہ حویلی کے چوبارے کو چڑھنے والی سیڑھیاں مجھے اس کمرے میں لے گئیں جہاں میرے سامنے چہرے پر مسکان سجائے فضہ طیب موجود تھیں جو لاہور میں سیکس ورکرز کی فلاح کے لیے سرگرم ہیں۔

فضہ اپنی والدہ لبنی طیب کی وفات کے بعد شیڈ سوسائٹی میں بطور جنرل سیکرٹری اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے ان کی والدہ لبنیٰ اس سیٹ پر ہوا کرتی تھیں۔ لبنیٰ کا تعلق لاہور کے بازار حسن کے فنکار گھرانے سے تھا۔ وہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے اپنی کمیونٹی کی خواتین سیکس ورکرز کی صحت اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ اب ان کی جگہ فضہ اپنی کمیونٹی کی خدمت کر رہی ہیں۔

سید طیب حسن شاہ لبنی کے شوہر اور شیڈ کے چئیرمین ہیں وہ شیڈ سوسائٹی کی تشکیل، اس کی کارکردگی اور فعال ہونے سے لے کر رجسٹریشن کے تمام مراحل میں لبنی کے شانہ بشانہ رہے۔’

لبنیٰ نیشنل اور ملٹی نیشنل آرگنائزیشنز کے ساتھ کام کرتی تھیں۔ یہ تنظیمیں ہیرا منڈی میں ایچ آئی وی ایڈز کی آگاہی سے متعلق مختلف منصوبے چلا رہی تھیں۔ ان منصوبوں کےتحت لبنی سیکس ورکر خواتین میں کونڈم تقسیم کیا کرتی تھیں تاکہ وہ جنسی تعلقات کے دوران بیماریوں کی منتقلی سے بھی محفوظ رہ سکیں۔

ابتدا میں وہ کنڈوم بیچنے ہیرامنڈی کی گلیوں میں جاتی تھیں تو تمام سیکس ورکرز اپنے دروازے اور کھڑکیاں بند کر لیتیں یہ کہہ کر کہ ہمارے گھر کوئی ایچ آئی وی ایڈز کا مریض نہیں۔

طیب حسن بتاتے ہیں کہ کمیونٹی کے مطالبے کے بعد لبنیٰ نے اپنی ایک تنظیم بنائی جسے شیڈ کا نام دیا گیا۔ لفظ شیڈ سینتھنگ ہیلتھ ایجوکیشن اینوائرمینٹ اینڈ ڈویلیپمینٹ آف سوسائٹی کا مخفف ہے۔

یہ تنظیم ہیرا منڈی کی سیکس ورکرز اور ان کے بچوں پر کام کرتی ہے۔

شیڈ کے سٹاف میں زیادہ تر، سابقہ طوائفیں، سابقہ سیکس ورکرز اور اسی کمیونٹی کی پڑھی لکھی خواتین شامل ہیں۔ ان میں کچھ بچوں کو پڑھاتی ہیں اور کچھ انہیں گھروں سے لینے جاتی ہیں۔ بڑی عمر کی خواتین بطور آیا بچوں کی نگرانی پر معمور ہیں۔

سیکس ورکرز کے بچوں کی ولدیت؟

فضہ بتاتی ہیں کہ شیڈ سوسائٹی سیکس ورکرز کے بچوں کی تعلیم پر کام کرتی ہے۔ عموما سیکس ورکرز کے بچوں کو رسمی سکولوں میں داخلہ نہیں ملتا جس کی اہم وجہ ان کے ولدیت کے خانے میں باپ کے نام کا نہ ہونا ہے۔

ان بچوں کی پیدائشی پرچیاں (برتھ سرٹیفیکیٹ) نہیں بنتیں۔ ہمارا ادارے میں ان بچوں کو ابتدائی جماعتوں کی تعلیم کے بعد سرکاری سکولوں میں انھیں شیڈ کی ذمہ داری داخل کروا دیا جاتا ہے جس کے بعد کوئی ان سے ان کے باپ کا نام دریافت نہیں کرتا۔

شیڈ
شیڈ کی لیڈی ہیلتھ ورکر گھر گھر جاتی ہیں اور خواتین سیکس ورکرز کو کنڈومز اور لوپس کے متعلق بتاتی ہیں، وہ ان کے ٹیسٹ کرتی ہیں

انھوں نے بتایا کہ ان کی کمیونٹی موبیلائیزر بچوں کو ان کے گھروں سے لاتی ہیں ان کی ماؤں کو سمجھاتی ہیں کہ بچوں کو اتنا سکھا دیں کہ یہ اپنا حساب کتاب کرسکیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ لڑکیوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں تاکہ لڑکیاں جب بیرون ملک جائیں اورجب وہ اپنا کنٹریکٹ پڑھ کر اس پر دستخط کریں۔ انھوں نے بتایا کہ ’یہ بچے ایک بجے سے پانچ بجے تک ہوتے ہیں اس دوران بچوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ گھر پر کیا ہو رہا ہے۔‘

’ماؤں کو بھی اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ وہ اپنے گاہکوں سے نمٹ لیتی ہیں اور گھر کا تجسس کچھ دیر کے لیے بچوں کے دماغ سے نکل جاتا ہے، بچے یہاں پڑھتے ہیں، کھانا کھا کر تازہ دم ہو جاتے ہیں اور پھر چھٹی کے وقت ہی گھروں کو نکلتے ہیں۔‘

طاہرہ سعید، شیڈ میں سولہ سال سے بطور پیئر ایجوکیٹر کام کر رہی ہیں یہ کمیونٹی موبلائزر بھی ہیں اور سیکس ورکر خواتین کے گھروں سے ان کے بچوں کو لینے جاتی ہیں۔ یہ ان کی ماؤں کو تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے بھی سمجھاتی ہیں۔

شیڈ
ن بچوں کو ابتدائی تعلیم کے بعد سرکاری سکولوں میں شیڈ کی ذمہ داری پر داخل کروایا جاتا ہے تاکہ کوئی ان کے باپ کا نام دریافت نہ کرے

سیکس ورکر کے لیے سکول ایک نعمت

ہیرا منڈی کی ٹبی گلی میں رہنے والی سعدیہ (فرضی نام) کا کہنا ہے ’میرے بچے یہاں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بچوں کو گھروں سے لاتے بھی ہیں اور ان کو چھوڑ کر بھی آتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے ہماری پیدائشی پرچیوں (برتھ سرٹیفیکیٹ) کے مسئلے ہمیں نہیں حل کرنے پڑتے ہیں وہ ہی کر لیتے ہیں۔‘

’دوسری بات یہ کہ جب بچے یہاں آتے ہیں تو ہمیں گاہک سے ملنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ یہاں یہ چار پانچ گھنٹے رکتے ہیں اور مجھے آسانی فراہم کردیتے ہیں کہ میں ان کے پیٹ کے ایندھن کا سامان کر سکوں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری کوئی بھی بات میرے بچوں کے سامنے آئے۔ یہ سب مجبوری میں کرنا پڑتا ہے ورنہ کسی عورت کا دل نہیں چاہتا کہ وہ غیر مرد کے پاس جائے۔ بس اسی لیے یہ سکول ہمارے لیے نعمت سے کم نہیں۔‘

شیڈ اور ایچ آئی وی ایڈز

فضہ بتاتی ہیں کہ شیڈ سوسائٹی کا دوسرا بڑا کام خواتین سیکس ورکرز میں ان کی صحت کے مسائل خصوصاً ایچ آئی وی ایڈز کے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔ ان کے بقول وہ کمیونٹی کی خواتین کو ہائیجین کے متعلق بتاتے ہیں۔

شیڈ
شیڈ کا عملہ سیکس ورکرز کی کونسلنگ کرتا ہے اور انہیں مفت کونڈم اور لوپس فراہم کرتے ہیں

’ہماری لیڈی ہیلتھ ورکر گھر گھر جاتی ہیں اور خواتین سیکس ورکرز کو کنڈومز اور لوپس کے متعلق بتاتی ہیں۔ وہ ان کے ٹیسٹ کرتی ہیں۔ اگر ان کے ٹیسٹ میں ایچ آئی وی ایڈز آتا ہے تو وہ انھیں بتاتی ہیں کہ اس بیماری سے کیسے مزید لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ ہم ان کی کاؤنسلنگ کرتےہیں اور انھیں مفت کونڈوم اور لوپ فراہم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ لوگ ایچ ائی وی ایڈز پروگرام گرین سٹار کے ساتھ کر رہے ہیں۔ جس کے تحت وہ ان تمام خواتین کے مفت ٹیسٹ کرتے ہیں۔ پھر ان میں ایچ آئی وی ایڈز کی شناخت کرتے ہیں اگر کسی خاتون میں کوئی کیس ملتا ہے تو اسے رجسٹر کر کے اے آر ٹی سینٹر میں لے جاتے ہیں جہاں ان کو ماہانہ ادویات مہیا کی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق کہ اس سارے عمل میں کسی کے گھر جانا اور ایچ آئی وی ایڈز کی شناخت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ بعض اوقات متعدد بار جانے کے بعد اور کاؤنسلنگ کرنے کے بعد ہی خواتین اپنا اندراج کروانے پر راضی ہوتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8969 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp