19 نومبر کو بچوں کے عالمی دن پر مرنے والی بچی اور ڈاکٹر کے الفاظ


ہسپتال کے ڈاکٹر بڑے مہربان تھے۔ بہت دیر تک انہوں نے مجھ سے اور شازیہ سے بات کی۔ آپریشن کے فوائد اور نقصانات دونوں بتائے۔ فیصلہ تو بہرحال ہم نے ہی کرنا تاھ۔ میں اپنی بیٹی کی زندگی چاہیے تھی، چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑتا۔ آپریشن سے اگر تھوڑی سی بھی زندگی بڑھتی ہے توآپریشن کرانے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر آپریشن نہیں کریں گے اورمشین سے آکسیجن دینا بند کریں گے تو نورین کی موت واقع ہوجائے گی، یہ ہمیں منظور نہیں تھا۔ ہم کون تھے مشین بند کرنے والے یہ تو اوپر والے کا فیصلہ ہوگا، اس کی امانت تھی وہ۔ اور اوپر والے نے جو بھی وسائل ہمیں دیے تھے وہ ہم نے اس کے اوپر خرچ کرنا تھے۔ اس کی زندگی بچانے کی ہر کوشش۔ آکسیجن دینے کی ہر جدوجہد۔

نورین کا چار گھنٹوں تک آپریشن ہوتا رہا۔ ہم لوگ آپریشن تھیٹر کے باہر اپنے خاندان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بے چین کھڑے رہے، کبھی بیٹھ جاتے۔ دعاؤں کا ایک سلسلہ جو جاری تھا سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کیا جائے جس سے نورین کی زندگی محفوظ اور نارمل ہوجائے۔ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح پروان چڑھے۔ روئے ضد کرے، نقلیں اتارے۔ اسے بخار ہو، ہم راتوں کو جاگ جاگ کر اسے دوائیں دیں۔ وہ بھلی ہوجائے تو ہم خوش ہوں۔ نجانے کیا کیا باتیں تھیں جو دل میں آتی رہتیں اورمیں سوچتا رہتا تھا۔

آپریشن کامیاب ہوگیا۔ اس کے دل کے والو بدل دیے گئے۔ ڈاکٹروں کو یقین تھا کہ پانچ چھ دنوں کے بعد جب مشینوں کا تعلق اس کے جسم سے ختم ہوگا تو وہ کسی نارمل بچی کی طرح سانس لے گی۔ مگرساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ نورین نارمل نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں بھی مسئلہ تھا، اس کے جسم کے نیورون میں بھی خرابی تھی۔ زندگی کتنا ساتھ دے گی اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا۔

میں نے انٹرنیٹ پر بہت صفحات کھنگالے۔ یہ جسم کے اعصابی نظام کے خلیوں جن کو نیورون کہتے تھے، ان کی پیدائشی بیماری تھی۔ یہ نورون عام بچوں کی طرح ہر جگہ نہیں تھے اور جن جگہوں پر تھے وہاں پہ ان کی تعداد کم تھی۔ ساتھ میں ان کے بڑھنے کی شرح جسم کے عام خلیوں سے مختلف تھیں اورابھی تک کوئی بھی دوا دریافت نہیں ہوئی تھی جس سے کہ ان کا علاج کیا جاسکتا ہو۔ حمل کے دوران کے پہلے آٹھ ہفتوں کے بعد بچے کے خلیے نکال کر دیکھے جاتے تو یہ ضرور پتا لگ سکتا تھا جس کے بعد حمل ضائع کرانا ہی مناسب ہوتا ہے۔ یہ بھی مجھے پتا لگا کہ باہر کے ملکوں میں حمل کے پہلے چھ سے آٹھ ہفتوں میں اس قسم کی تمام بیماریوں کا پتا لگ جاتا ہے اور عام طور پہ والدین ایسے حمل اسقاط کرالیتے ہیں۔ ہم دونوں نے سوچا تھا شاید اس وقت بھی ہم حمل اسقاط نہیں کراتے۔ ہم اور بچے نہیں چاہتے تھے لیکن جو اوپر والے نے دے دیا اسے مارنا تو میرے لیے کم از کم گناہ ہی تھا میں شاید ایسا نہ کرتا۔

یہ تو اچھی بات تھی کہ مجھے کوئی بھی مالی پریشانی نہیں تھی۔ دونوں آپریشن اور ہسپتال کے لاکھوں کا بل بھی بغیر کسی مشکل کے دے سکتا۔ ہم دونوں کے خاندان کے بزرگ جتنی بھی دعائیں کرسکتے تھے کررہے تھے۔ آپریشن کے بعد مجھے لگا کہ وہ بچ جائے گی۔ مجھے ڈاکٹر کی یہ بات اچھی نہیں لگی تھی کہ اسے دوسرے بھی مسائل ہیں۔ اس میں اوربھی خرابی ہے۔

آپ کا شکریہ ڈاکٹر صاحب! مگرمجھے اوپر والے سے پوری امید ہے کہ ہماری نورین اچھی ہوجائے گی۔ میں نے خشک لہجے میں کہا، ساتھ ہی یہ بھی سوچا کہ آخر ڈاکٹر اپنے آپ کوخدا کیوں سمجھنے لگتے ہیں۔ مجھے یاد ہے میں نے آنکھیں بند کرکے تھوڑی دیر کے لیے بڑی ہی دردمندی کے ساتھ اوپر والے سے کہا، مالک میں نے آج ک کچھ نہیں مانگا ہے تجھ سے۔ تو نے پہلے ہی بہت کچھ دیا ہوا ہے مجھے۔ ایک یہ میری بچی کی زندگی دے دے پھر کوی کمی نہیں ہوگی میرے پاس۔ تیرے پاس کیا کمی ہے، ایک باپ کا گھر بھردے ایک ماں کی آرزو پوری کردے۔ مجھے بڑا بھروسا تھا اور میرا حوصلہ بڑھ گیا دعا کے بعد۔

پندرہ دنوں کے بعد نورین اپنے گھر آگئی۔ پیدا ہونے کے چار مہینے پانچ دن اور سترہ گھنٹوں کے بعد۔ بہت دنوں کے بعدہمارے گھر میں خوشی کا ایک لمحہ آیا۔ دوست، رشتہ دار، احباب، پاس پڑوس کے لوگ سب لوگوں نے آآ کر مبارکبا ددی۔ رات بہت دنوں کے بعد میں نے اوپر والے کا دل کی گہرائیوں سے روتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ میرے اوپر بہت مہربان تھا اوپر والا۔ میں نے یہی سوچا۔

نورین بہت معصوم بچی تھی۔ اس کا چوڑا سا ماتھا، ننھی سی ناک، چھوٹے چھوٹے کان اورچھوٹی چھوٹی آنکھی اورلوگوں ک و عجیب لگتی ہوں گی مگر مجھے بہت پیاری لگتی تھی وہ۔ میں اس کے چہرے کو تکتا رہتا اورسوچتا رہتا۔ نجانے کتنی تصاویر ہم لوگوں نے کھینچ لی تھیں اس بچی کی جو آج بھی ہماری الماری کے دروازوں میں محفوظ ہیں۔ ابھی بھی میرے کمرے کی دیواروں پہ ہنستی رہتی ہیں۔

دن میں کئی کئی بار فون کرکے میں شازیہ سے پوچھتا کہ نورین کیسی ہے؟ ایک منٹ میں کتنی دفعہ سانس لے رہی ہے؟ اسے بخار تو نہیں ہے؟ اس کے ہونٹ تو نیلے نہیں ہورہے؟ اس نے دودھ پیا ہے؟ کیا اسے چھینک آئی ہے؟ پیشاب کتنی دفعہ ہوا ہے؟ بہت دیر تک تو نہیں سوئی ہے؟ آج کم کیوں سوئی ہے؟ اسے پاخانہ کیوں نہیں ہوا؟ کیا اس نے ہاتھ پیر چلائے ہیں کہ نہیں؟ اسے کھانسی تو نہیں ہے اور نجانے کیا کیا۔ کبھی کبھی میں سوچتا کہ شاید میں ایب نارمل ہوگیا ہوں لیکن مجھے پتا تھا کہ میں ایب نارمل نہیں ہوں۔ مجھے اپنی بیٹی چاہیے تھی زندہ سلامت۔ ایک انجانا سا خوف تھا میرے دل میں اندر کہیں پہ جو مجھے بروقت ڈاکٹر کی باتیں یاددلاتا رہتا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5