19 نومبر کو بچوں کے عالمی دن پر مرنے والی بچی اور ڈاکٹر کے الفاظ


شروع میں ہر ہفتے اور بعد میں ہر دو ہفتے پہ اسے آغا خان ہسپتال کے ہی ڈاکٹر دیکھ رہے تھے۔ اسے وقت پہ ٹیکا لگا۔ اس کی نشوونما نارمل تھی لیکن ڈاکٹر ابھی اس کی ذہنی نشوونما کے بارے میں صحیح اندازہ نہیں لگاسکتے تھے۔

اسے گھر آئے ہوئے چودہ ہفتے ختم ہی ہوئے تھے کہ یکایک اسے بخار ہوگیا۔ ہم لوگ اسے فوری طور پر ہسپتال لے گئے جہاں اسے داخل کرلیا گیا۔ اس کے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہوگیا تھا۔ فوری طورپہ اسے اینٹی بائیوٹک کے انجکشن لگائے گئے اورسات دن تک ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ واپس گھر لے آئی گئی تھی۔

ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اسے دوبارہ بھی انفیکشن ہوسکتا ہے۔ اس پہ کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ اس کے پھیپھڑوں میں صلاحیت نہیں ہے کہ وہ خود بخود سانس کی نالی سے جانے والے بعض انفیکشن کو خود ہی ختم کردے۔ وہ اسما اور عامر سے مختلف تھی۔ ان دونوں کا بچپنا تو بہت آرام سے گزرا تھا نہ کوئی بیماری نہ کوئی انفیکشن۔ تھوڑا بہت بیمار تو یہ لوگ اس وقت ہوئے جب نرسری اور اسکول جانا شروع کیا۔ سنتے ہیں کہ بچوں کے ٹانسل تکلیف دیتے ہیں، ان کو کان میں درد ہوتا ہے۔ کبھی آنکھوں پہ وائرس حملہ کرکے آنکھوں کو لال کردیتے ہیں جہاں سے مسلسل آنسو ٹپکتے رہتے ہیں، اگر ماں اپنا دودھ نہ پلائے تو انہیں سانس کی بیماری ہوجاتی ہے، ان کے سانس میں انفیکشن ہوجاتا ہے۔ دانت نکلتے ہیں تو بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اسما اور عامر اس طرح کے کسی بھی مسائل کا شکار نہیں ہوئے تھے۔

ہم دونوں میاں بیوی کی بہت ساری توجہ نورین پہ تھی۔ کبھی کبھی ہمیں لگتا کہ ہم لوگ اسما اورعامر کی حق تلفی کررہے ہیں۔ ان کو وہ توجہ نہیں دے رہے ہیں جو دینا چاہیے۔ شاید ایسا تھا بھی۔ ہماری کوشش تو ہوتی تھی کہ ان دونوں کو بھی اسی طرح سے وقت ملے مگر نورین کو زیادہ توجہ کی ضرورت تھی، وہ کم زور تھی اس کے اندر پہلے سے ایک خرابی تھی۔ اسے مدد کی ضرورت تھی جو اسے ملنی چاہیے تھی۔ میرا خیال تھا ہم غلط نہیں کررہے۔ اسما اور عامر کو ہم نے ان کی زبان میں سمجھایا کہ یہ کتنا ضروری ہے کہ ہم سب نورین کا خیال کریں کیوں کہ اسے سب سے زیادہ ہمارے خیال کی ضرورت ہے۔

میری اور شازیہ کی زندگی نورین سے مکمل طور پر نتھی ہوگئی۔ ہم سارا کام، اپنے سارے پروگرام، تقریبات میں شرکت، شادی بیاہ کی دعوت سب کچھ نورین کی ضروریات کے مطابق کرتے۔ اس میں کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی تھی ہمیں۔ نہ کسی سے کوئی شکایت تھی۔ صرف دعا تھی کہ نورین کی زندگی بھی نارمل ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرکے مزہ آتا تھا ہم دونوں کو۔ ایک لذت تھی اس آشنائی میں۔ یہ احساس شدید تھا کہ اس ننھی سی جان کا سارا دارومدار ہماری توجہ پہ ہے۔ یہ احساس ایک طرح کا غرور بھی تھا۔ ہم دونوں میاں بیوی مکمل طور پر اس معاملے میں ہم آہنگ تھے کہ جو کچھ بھی ہوسکے گا ہم کریں گے اس کے لیے۔ جان دے دیں گے مالک، اگر جان کی ضرورت ہے۔

وہ تیرہ مہینے کی تھی کہ یکایک اسے پھر بخار ہوگیا۔ شروع میں تو ڈاکٹروں کی سمجھ میں ہی نہیں آیا اسے ہوا کیا ہے۔ اس کا پسینہ صاف تھا اور بظاہر کوئی خرابی بھی نہیں تھی لیکن جلدی ہی ڈاکٹروں نے تشخیص کرلیا کہ اس کے اپنڈکس میں انفیکشن ہوگیا ہے۔ ننھی منی سی نورین کا ایک بار پھر آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے پوری یقین دہانی کرائی تھی کہ اسے کوئی درد نہیں ہوگا۔ میں سوچتا ہوں کہ اس چھوٹی سی عمر میں اس ننھی سی فرشتہ جیسی نورین کو کن کن تکلیفوں سے گزرنا پڑا۔ سانس کی تکلیف، آکسیجن کا مسئلہ، دل کا آپریشن اور اب اپنڈکس۔ یہ کوئی انصاف تو نہیں ہے اور اگرہے تو اوپر والا ہی اس کو سمجھ سکتا ہے ہم تو بندے ہیں، عاجز و لاچار اورہمیشہ نقصان میں رہنے والے، خسارہ اٹھانے والے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ عام طورپر بچوں کو اپنڈکس کے مسائل نہیں ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہت بغیر معمولی بات تھی۔ پھر ہماری ننھی سی نورین کا اپنڈکس کا آپریشن بھی ہوگیا۔ جب آپریشن تھیٹر سے نرس کمبل میں لپٹی ہوئی ننھی سی نورین کو لے کر نکلی تو اس کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرہ سفید سا لگ رہا تھا اوراس کے ننھے ہاتھوں میں ایک سوئی کے ذریعے ڈرپ چڑھائی جارہی تھی۔ اسے نرسری میں منتقل کردیا گیا تھا۔

ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے شیشے کی دیوار کے دوسری طرف اپنے دل کے ٹکڑے کے سینے کے زیروبم کو تکتے رہے۔ سانسوں کی قطار کو گنتے رہے اپنے آنسوؤں کو شمار کیے بغیر۔ نجانے کون کون سی دعائیں تھیں جنہیں پڑھتے رہے دل ہی دل میں، گڑگڑاتے رہے۔

وہ ٹھیک ہوگئی۔ اسے مسکراتے ہوئے دیکھا ہم نے۔ بڑے چاؤ سے گھر لے کر آئے۔ میں نے شکرانے کی نماز پڑھی۔ امام صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے مسلسل میری نورین کے لیے دعائیں کی تھیں۔ شازیہ نے فوراً ہی گھر میں میلاد شریف کا انعقاد کیا تھا اور نورین کے لیے مل جل کر سب نے دعائیں کی تھیں۔

پھر وہ ٹھیک رہی تھی نہ بخار نہ پیشاب میں کوئی خرابی۔ اپنے وقت سے ماں کا دودھ پیتی اور خوب خوب سوتی۔ کبھی کبھی مجھے حیرت بھی ہوتی کہ آخر یہ اپنے دوسرے بہن بھائی کی طرح کیوں نہیں سوتی ہے مگر ساتھ ہی نیوز ویک کا وہ مضمون یاد آجاتا کہ ایک ہی ماں باپ کے بچے آپس میں مختلف ہوسکتے ہیں بلکہ انتہائی زیادہ مختلف ہوسکتے ہیں۔

تین مہینے، دو ہفتے اور پانچ دن ٹھیک ٹھاک گزرے۔ اس کی نشوونما بھی ٹھیک ہوئی، اس کا وزن بھی بڑھا اور قد بھی بڑھا، پر ایک دن پھر یکایک وہ کچھ نڈھال سی ہوگئی اور دیکھتے دیکھتے اس کا پیٹ پھولنا شروع ہوگیا۔ اسے ایک بار پھر ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ خون کا ٹیسٹ، پیشاب کا ٹیسٹ، سینے کا ایکسرے، پیٹ کا ایکسرے۔ ننھی سی جان نورین، پتا نہیں کیسے ان سب چیزوں کو برداشت کرگئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5