19 نومبر کو بچوں کے عالمی دن پر مرنے والی بچی اور ڈاکٹر کے الفاظ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کی موت متوقع تو تھی مگر اس طرح اچانک وہ مرجائے گی اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اگر اوپر والا اسے کچھ دن اور ہمارے پاس چھوڑدیتا تو کیا فرق پڑجاتا، اس بھری پُری کائنات میں نہ آسمان ہلتا نہ چاند سورج ستاروں کی گردش پہ کوئی فرق پڑتا اور نہ ہی دنیا کی اچھائیوں برائیوں پہ کوئی حرف آتا۔ صرف تھوڑے دنوں کی بات تھی۔ اب تو ہم نے اسے سمجھا تھا، اس کی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا تھا۔ اپنے معمولات کو ایسا بنایا تھا کہ اس کے ساتھ وقت گزارتے مگر نجانے کیا منظور تھا اوپر والے کو۔

اوپر والے سے مجھے کبھی بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ اس نے مجھے کیا نہیں دیا۔ محبت کرنے والے ماں باپ، اچھی تعلیم، مناسب دولت، اچھا پیشہ، خوب صورت پڑھی لکھی سمجھ دار بیوی اور خوب صورت سے دو بچے۔ اور کیا چاہیے ہوتا ہے انسان کو دنیا میں۔ مگر نجانے کیا مصلحت تھی اس کی یا کوئی مذاق تھا مجھ سے۔ میرے کسی ایسے گناہ کا بدلہ جس کا مجھے احساس تک نہیں ہوسکا۔ مگر یہ بدلہ اچھا نہیں تھا۔ میں پوچھنا چاہوں گا کہ کس گناہ کی پاداش میں یہ سب کچھ ہوا میرے ساتھ۔ آخر میرے ساتھ ہی کیوں ہوایہ؟ کیوں، آخر کیوں؟

میری شادی میرے ماں باپ کی مرضی سے ہی ہوئی۔ مگر شازیہ مجھے بھی بہت پسند تھی۔ شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا بھی۔ گھریلو تقاریب میں جس قسم کی بات ہوسکتی ہے وہ باتیں بھی کی تھیں ہم نے۔ آخر کار ہم دونوں کا خاندان ایک ہی برادری سے تھا۔ تعلیم اوراچھی نوکری کے بعد شازیہ کی آمد تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح تھی جیسے جلتی ہوئی جون کی گرمی میں تھر میں بارش ہوجائے۔ اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے تھر کے صحرا میں بارش کے بعد ٹھنڈی ہوا کے جھونکے محسوس کیے ہوں۔ صحراؤں کی مٹی کو مٹیالے رنگ سے سبز ہوتا ہوا دیکھا ہے اوردیکھا ہے کہ بازوؤں تک چڑھی ہوئی چوڑیاں پہنے ہوئے رنگا رنگ لمبے خوب صورت کپڑوں کے ساتھ تھری عورتوں کے سانولے چہرے کس طرح دمک جاتے ہیں، جب انہیں آج کے زمانے میں میلوں کا فاصلہ طے کیے بغیر پانی ان کے بنائے ہوئے جوہڑوں میں سے ملنا شروع ہوجاتا ہے۔

دو سال کے اندر ہی ہماری بیٹی اسما پیدا ہوئی اور جیسے ہم دونوں کے گھر میں خوشیوں کا سیلاب سا اُمڈ کر آگیا۔ وہ گڑیا تھی ہی ایسی۔ اس کا اندازہ بھی صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے بچے ہوتے ہیں۔ شازیہ کی زندگی تو خیر بدلی ہی تھی مگر میری بھی زندگی بدل کر رہ گئی۔ بستر پہ اس کے پالنے میں نجانے کتنی کتنی دیر تک میں اسے دیکھتا ہی رہتا، تکتا ہی رہتا۔ شروع شروع میں تو مجھے ایسا لگتا جیسے میں اسے کوئی نقصان پہنچادوں گا۔ وہ تھی ہی اتنی نازک۔ وہ روتی تو میرا دل جیسے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا کہ نجانے اس ننھی سی گڑیا کو تکلیف کیا ہے؟ میں نجانے کن کن طریقوں سے اسے چُپ کرنے کی یا اسے آرام پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا۔ اگر روتی نہیں تومجھے شک پڑجاتا کہ شاید کوئی غیر معمولی بات تو نہیں ہے، آخر وہ روتی کیوں نہیں ہے۔ کیا ہوگیا ہے اس کو۔ راتوں کو اٹھنا، شازیہ کی مدد کرنا مجھے کبھی بھی برا نہیں لگا۔

اکثر ایسا ہوتا کہ دفتر میں کام کرتے ہوئے اچانک پریشان ہوجاتا۔ گھر فون کرکے شازیہ سے پوچھتا اسما تو ٹھیک ہے نا، اچھا آواز سنادو اس کی۔ یوں اس کی آواز سن کر جیسے مجھے سکون سا مل جاتا تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتا تھا کہ کالج اور یونی ورسٹی میں مجھے خود بھی پتا نہیں تھا کہ میرے اندر کوئی اس قسم کا آدمی ہے میں اپنے آپ کو ہمیشہ سخت قسم کا بہادر آدمی سمجھتا رہا جس کو اس قسم کے چونچلے اچھے نہیں لگتے تھے۔ انسان کو خود اپنے آپ کو پہچانے میں کتنی دیر لگتی ہے۔

شازیہ نے بائیوکیمسٹری میں ایم ایس سی کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کسی کالج میں لیکچرر شپ کی نوکری ضرور کرے گی۔ ہمیں پیسوں کی ضرورت تو نہیں تھی مگر میرا بھی خیال تھا کہ پڑھی لکھی لڑکی کا گھر بیٹھ جانا کوئی اچھی بات تو نہیں ہے مگر اسما کی آمد کے بعد شازیہ نے گھر پہ ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ خوشی ہی ہوئی تھی کہ چلو اسما اکیلے نہیں رہے گی۔ میں بھی تھوڑا سا خود غرض ہوگیا تھا اپنی بچی کے لیے۔

اسما تین سال کی تھی کہ عامر پیدا ہوا۔ لوگ کہتے تھے کہ ایک بچے کے تجربے کے بعد دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے لیکن ہمیں جلد ہی احساس ہوگیا کہ ایسا نہیں ہے۔ عامر اسما سے بہت مختلف تھا۔ اس کے رونے کے اوقات الگ تھے اور اسباب بھی مختلف۔ اس کے بچپنے کے لمحے دن ہفتے مہینے اور سال اس کے اپنے تھے۔ وہ جدا تھا بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ اسما اور عامر بہن بھائی اور ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کے باوجود اپنی اپنی ذات میں مختلف تھے۔ یہ مجھے بعد میں پتا لگا، نیوز ویک کے ایک شمارے میں پڑھنے سے کہ ہمارے جسم کے خلیوں میں ہمارے پرکھوں بزرگوں کے جسمانی و ذہنی ساخت کا ریکارڈ نسل در نسل موجود رہتا ہے۔ ایک بچہ اپنے ماں باپ سے بالکل ہی جدا ہوسکتا ہے، اس میں اس کے دادا دادی، نانا نانی اور ان کے بھی والدین کی خصوصیات ہوسکتی ہیں۔ انسانی جسم کی ساخت، اس کی ماہیت اور اس میں تبدیلی کا علم بھی خوب علم ہے۔ میں جب بھی اس قسم کا مضمون پڑھتا تو مجھے بڑی خوش گوار حیرت ہوتی۔ بڑھتی ہوئی سائنسی انکشافات کو پڑھ کر، سن کر میری پیاس بڑھتی ہی چلی جاتی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •