بھوربن میں افغان سیاسی قیادت کی موجودگی میں امن کانفرنس جاری


وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے انتہائی خوش دلی، نیک نیتی اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کے ساتھ افغانستان میں امن عمل کے لیے سہولیات بہم پہنچانے کا کردار ادا کیا ہے۔

افغان امن کانفرنس پاکستان کے پرفضا مقام مری میں جاری ہے۔

افغانستان سے اس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمت یار کے علاوہ اہم سیاسی رہنما اور زعما شرکت کررہے ہیں افغانستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور افغان صدر کے سیاسی مشیر، سینیٹرز اور افغان پارلیمینٹ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

افغانستان میں مضبوط صدارتی امیدوار سمجھے جانے والے حنیف اتمر کے علاوہ کریم خلیلی، احمد ولی مسعود، محمد محقق، عطا محمد نور بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر افغان صدر اشرف غنی کے اس ماہ کے آخر میں (27 جون) اسلام آباد کے دورے سے قبل یہ کانفرنس اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’زلمے خلیل زاد کا افغان امن مشن مشکل ہوتا جا رہا ہے‘

افغانستان میں امن کے لیے افغانستان سے مشاورت پر اتفاق

امن مذاکرات: طالبان نے اسلام آباد کا دورہ کیوں منسوخ کیا؟

’پاک افغان اختلافات کم کرانے کی کوشش کریں گے‘

اس امن کانفرنس کا انعقاد لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ نے مری کے علاقے بھوربن میں کیا ہے۔

لاہور پراسیس کے موضوع پر کانفرنس میں رابطوں، تجارت، معیشت اور صحت سمیت مختلف شعبوں پرغورکیا جارہا ہے۔ کانفرنس میں افغان پناہ گزینوں کی اپنے ملک واپسی کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے جو گذشتہ چالیس سال سے پاکستان میں مقیم ہیں۔

’موقع ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’آج افغانستان امن و استحکام کے ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے۔ امن کی تازہ کوششوں نے نئے مواقعے پیدا کیے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔‘

کانفرنس کے شرکا سے اپنے افتتاحی خطاب میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارا یکساں مقصد افغانستان میں طویل المدتی امن اور خوشحالی ہے۔ ’افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے پاکستان کی سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں ہے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم عدم مداخلت، باہمی احترام اور یکساں مفاد کے اصولوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ ’یہ حیقیقت بھی آپ کے سامنے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی بھی اس نام نہاد نظریہ کو تسلم نہیں کرتا کہ افغانستان میں پاکستان کی سٹرٹیجک گہرائی ہے۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر پراپیگنڈے یا پھر افغان بھائیوں کے ذہنوں میں غلط فہمی کا بیج بونے کے لیے اس مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے کی کسی کو اجازت نہ دیں گے۔‘

انھوں نے افغان زعما سے کہا کہ ہم اپنے مفادات کے منافی کسی کو بھی اپنے اپنے علاقے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

’آج دیگر قوتیں بھی اسی نیتجے پر پہنچ رہی ہیں‘

شاہ محمود قریشی نے کہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طورپر طویل عرصے سے افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کے لیے پرعزم رہے ہیں۔ ’ہم افغانستان اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں تاکہ ایسے سازگار حالات پیدا ہوں جن میں افغان مہاجرین کی باعزت، محفوظ اور رضاکارانہ واپسی کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp