مولانا فضل الرحمن: فکری دہشت گرد یا وطن کا سپاہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"farnood\"مولانا فضل الرحمن پر بہت اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ انہیں طالبانیت کا ذمہ دار اور اس کا سیاسی چہرہ سمجھتے ہیں، اور کچھ کا کہنا ہے کہ وہ موقع پرست ہیں اور اصولوں کو ایک طرف رکھ کر اپنے مفاد کے لیے حکومت وقت سے کوئی سودا بھی کر لیتے ہیں۔ آئیے ان کی شخصیت کو دیکھتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کی باقاعدہ سیاسی تربیت نوابزادہ نصراللہ خان اور خان عبدالولی خان کے کے زیرسایہ ہوئی ہے۔ مولانا کے والد مفتی محمود ایک بڑے سیاسی لیڈر تھے مگر ان کی سیاست اور تحریکوں کا فائدہ امریکہ کو ہوا، مثلاً افغان جھاد کے لیے باقاعدہ فتوی جاری کرنا اور نظام مصطفی تحریک چلانا۔ مولانا فضل الرحمن کو جے یو آئی کی قیادت ایسے وقت میں ملی کہ جب جے یو آئی کو افغان جہاد میں جھونکا جاچکا تھا اور افغان جھاد کی مخالفت میں رائے دینا کفر تھا۔ مولانا کو جونہی قیادت ملی انہوں نے کمال ہوشیاری کے ساتھ جے یو آئی کا سیاسی قبلہ تبدیل کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ بلاک سے باہر نکال دیا۔

مولانا نے خطے کی سیاست شروع کی اور اس کے لیے وہ سوشلسٹ بلاک کی طاقتوں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ مولانا کے لیے یہ بات مشکل تھی کہ وہ افغان جھاد پہ کوئی رائے دیں مگر اس زمانے میں مولانا شیرانی نے پوری طاقت کے ساتھ افغان جہاد کو فساد کہا اور اسے امریکہ کے مفادات کا تحفظ قرار دیا۔ اسی بنیاد پر مولانا شیرانی پہ ان وقتوں میں خود کش حملہ ہوا کہ جب خود کش حملوں کا رواج ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ مولانا شیرانی کی جو سوچ تھی وہ درحقیقت مولانا فضل الرحمن کی سوچ کا پرتو تھی۔ یہی وجہ تھی کہ تمام جہادی طاقتوں اور مذہبی جاعتوں کے دباؤ کے باوجود بھی جے یو آئی میں مولانا شیرانی کی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

\"28954-zia-1439283709-668-640x480\"

جو لوگ مولانا کو جانتے ہیں وہ یہ جانتے ہوں گے کہ مولانا فضل الرحمن نظام مصطفی تحریک کو امریکہ کے مفادات کی تحریک کہتے ہیں جو بھٹو کو دیوار سے لگانے کے واسطے اٹھائی گئی۔ میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ضیا الحق کے بدترین دور میں جنرل ضیا جس واحد مذہبی شخص کو اپنا ہمنوا کبھی نہ بنا سکا وہ فضل الرحمن تھے۔ اس دور میں مولانا نے اس کی سخت سے سخت سزا بھگتی مگر آخری دم تک برملا جنرل ضیا کے خلاف کھڑے رہے۔ جس شخص کو جنرل ضیا نہ ہلا سکا ہو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس کے پاس جگرا ہے۔

جنرل ضیا الحق کے دور میں کامل تین برس جیل میں رہے۔ اس دوران انہیں ضیائی صراط مستقیم پہ لانے کے لیے تمام حربے استعمال کر لیے گئے مگر وہ نہیں مانے۔ یہ وہ وقت تھا جب دیوبند مسلک کے علما میں جنرل ضیا عدلیہ کے عہدے، سرکاری جامعات میں تدریس کے منصب، فوج میں مساجد کے منبر اور مدرسوں کے لیے کنالوں پر محیط پلاٹ بانٹ کر امیرالمومنین ہونے کی سند حاصل کرچکے تھے۔ جماعت اسلامی تو خیر باقاعدہ کابینہ میں شامل تھی۔ جاوید ہاشمی جیسے باغی جنرل ضیا کے وزیر تھے۔

مولانا رہا ہوئے تو بدستور اپنی راہ پر چلے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی جماعت بالکل زمین سے لگ گئی اور سرگرمیوں کے لیے گنجائش ختم ہوگئی۔ یہی وقت تھا جب ان کے پیچھے سے ہندوستان اور ماسکو کے ہاتھ برآمد کیے گئے۔ بدعنوان ہونے کے الزامات عائد ہوئے۔ جنرل ضیا کا پالتو پریس مسلسل مولانا کے پیچھے لگارہا۔ مگر مولانا کے پائے ثبات میں ایک لمحے کے لیے لغزش نہ آئی۔

اس دن سے مولانا جو آرمی کے لیے بلیک لسٹ ہوئے پھر وائٹ نہ ہو سکے۔ جنرل ضیا کے جانے کے بعد بھی جنرل حمید گل اور مولانا کے مراسم فلسطین اور اسرائیل جیسے رہے۔ اسی عرصے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے مولانا کی کردار کشی شروع کی اور ڈیزل کی چھینٹیں ان کے دامن پہ ماریں۔ یہ بات آج بھی کوئی نہیں جانتا کہ ڈیزل کا معاملہ آخر ہے کیا؟

مولانا مذہبی ہونے کے باوجود تاریخ میں کبھی بھی مسلم لیگ کے یا جماعت اسلامی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہوئے۔ ہمیشہ ان کے مراسم اے این پی، بلوچ قوم پرست، سندھی قوم پرست جماعتوں اور پی پی پی کے ساتھ رہے۔ کیوں ۔؟ دو وجوہات ہیں

\"FazalurRahman_11-21-2013_127315_l\"

1۔ اینٹی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایجنڈا
2۔ خطے کی سیاست

خطے کی سیاست میں مرکزی کردار انڈیا کو حاصل ہے۔ مولانا برملا کشمیر جنگ کو جہاد نہیں مانتے اور ہندوستان کو ایم ایف این قرار دینے کے حامی ہیں۔ ظاہر ہے جب آپ یہ سوچ رکھتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ آپ کو دو قومی نظریے اور نظریہ پاکستان کا دشمن قرار دیتی رہی ہے۔ خطے کی سیاست اگر دیکھی جائے تو مولانا واحد شخصیت ہیں جو انڈیا، افغانستان، تاجکستان، قازقستان، روس، چین اور ایران کے سیاسی مراکز میں احترام کا مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو ایم ایف این قرار دینے کے لیے پی پی پی کی سابقہ حکومت نے انہیں کشمیر کمیٹی کا چئیرمین بناکر ایک وفاقی حیثیت دی۔ چنانچہ مولانا انڈیا کے اٹھارہ روزہ دورے میں کانگریس کے مہمان بنے اور تمام راہیں ہموار کرکے لوٹے۔ اس کے بعد ہی زرداری نے انڈیا کا ایک چند گھنٹوں کا برق رفتار دورہ کیا تھا۔ اسی دوران اسٹیبلشمنٹ نے جنرل حمید گل کو آگے کیا اور دفاع پاکستان کونسل کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کونسل میں اسٹیبلشمنٹ کی تمام مذہبی گماشتے شامل تھے۔ اس کونسل میں آخر تک مولانا شامل نہ ہوئے۔ اس لیے کہ یہ کونسل بنی ہی مولانا کے سیاسی نظریے اور اس وقت ان کی محنت کو سبوتاژ کرنے کے لیے تھی۔ چنانچہ کئی حادثات ہوئے اور زرداری حکومت کے آخری دن آگئے اور کونسل بھی ٹھنڈی ہوگئی۔

برسبیل تذکرہ یہ بھی بتانا مناسب ہے کہ مولانا چین کی کمیونسٹ پاٹی کے باقاعدہ مہمان رہتے ہیں اور دو برس قبل اکیس روز کے لیے مہمان رہ کے آئے ہیں۔ اسی طرح مولانا ایران کو ہمیشہ سعودیہ پر ترجیح دیتے ہیں اور افغانستان پر حق حکمرانی افغان عوام کا مانتے ہیں طالبان کا نہیں۔ گزشتہ برس وہ غنی اشرف کی دعوت پر افغان ایوان صدر گئے جس کے بعد افغان طالبان نے ان کے خلاف باقاعدہ اپنا رد عمل دیا۔

مسلم لیگ کے ساتھ مولانا تاریخ میں پہلی مرتبہ ایڈجسٹ ہوئے ہیں۔ یہ ایڈجسٹمنٹ ہونے\"fazal-ur-rehman\" کی بنیاد بھی اب یہ ہے کہ میاں صاحب اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور خطے کی سیاست کے موقف پر آگئے ہیں۔ انڈیا کے معاملے میں میاں صاحب کا موقف اب بالکل واضح ہے۔ عمران خان کے خلاف مولانا کی جنگ دراصل اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ ہے اور اس کے لیے مولانا کوئی بھی قیمت ادا کرسکتے ہیں۔

مولانا اینٹی امریکہ ہیں مگر اس کی بنیاد مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ یعنی بنیاد یہ ہے کہ مولانا ہمیشہ کیپیٹل بلاک سے باہر کھڑے رہے ہیں۔ اس کے مولانا کے پاس البتہ مذہبی نعرہ استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ روس کے وقتوں میں بھی اسی لیے وہ اینٹی امریکہ ہی تھے۔

نائن الیون کے بعد مولانا نے ایم ایم اے کی بنیاد رکھی اور حریفوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے جو ایشوز سامنے رکھے ان میں بنیاد امریکہ کا افغانستان پر حملہ تھا۔

مولانا جب افغانستان پر حملے کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد طالبان نہیں بلکہ افغان قوم مراد ہوتی ہے۔ مولانا نے ابھی تک افغانستان کے معاملے میں براہ راست مداخلت کو ٹھیک تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی طالبان کی مطلوبہ حمایت کی۔ اور اسی لیے طالبان شوری مولانا صاحب کو اہمیت نہیں دیتی ہے بلکہ الٹا مولانا سے ناراض بھی ہے۔

اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ مولانا کو جب قیادت ملی تھی جے یو آئی کو افغان جھاد میں جھونکا جا چکا تھا۔ افغان جہاد کی وجہ سے جو بیانیہ تشکیل پایا، دیوبندیت ابھی تک اس کی زد میں ہے۔ اس پر مولانا کچھ کہیں تو اپنا ہی کارکن خود کش حملہ کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “مولانا فضل الرحمن: فکری دہشت گرد یا وطن کا سپاہی

  • 04/09/2016 at 11:32 am
    Permalink

    bht adab k sath gharzz hain kuch bateen aap nay ignore ki gain ya may be aap be munafiqat sayy kaam lay rahay hain i hope apko o point be discuss krni chaye this beshak column length pkrta like musharraf president ship resigns from parlimnt …..kpk govt dissolve our hasba bills

Leave a Reply