وکٹوریا اور عبدالکریم: ملکۂ برطانیہ اور ان کے ہندوستانی ملازم کی دوستی کی لازوال داستان

کریم الاسلام - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستانی، انگلستان میں

عبدالکریم اور محمد بخش جون سنہ 1887 میں قصر ونڈسر پہنچے اور 23 جون سنہ 1887 کو پہلی بار ملکہ کو ناشتہ پیش کیا۔ ساتھ ہی عبدالکریم نے ملکہ کی ہندوستانی پکوانوں سے تواضع شروع کردی۔ وکٹوریا کو یہ کھانے اتنے پسند آئے کہ اب تقریباً ہر روز ہی شاہی محل میں ہندوستانی سالن بننا شروع ہو گئے۔

عبدالکریم کی پڑنواسی پروین بدر خان اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھی خاندان میں سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات کو یاد کرتی ہیں۔ ‘ہمارے بڑے بتاتے تھے کہ ملکہ نے پہلی ہی ملاقات میں عبدالکریم کو پسند کیا اور کیونکہ وہ انھیں پسند کرنے لگی تھیں، اسی لیے انھیں عبدالکریم کے وطن ہندوستان کے بارے میں جاننے کی جستجو ہوئی ہو گی۔ اس طرح ملکہ وکٹوریا اور عبدالکریم کے درمیان تعلق قائم ہوا۔‘

عبدالکریم

Getty Images
’عبدالکریم تمام ہندوستانی عملے میں سب سے قابل تھے، اسی لیے جلد ہی ملکہ کی نظروں میں آ گئے‘

پروین بدر خان کے ساتھ بیٹھے ان کے خاندانی دوست سیّد اقبال حسین اپنے بچپن کی یادوں کو ٹٹولتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے والد اور عبدالکریم کے لے پالک بیٹے عبدالرشید دوست تھے۔ وہ خود عبدالرشید کو رشید چچا کہا کرتے تھے۔ ’رشید چچا بتاتے تھے کہ عبدالکریم تمام ہندوستانی عملے میں سب سے زیادہ قابل تھے۔ وہ آگرہ کی اشرافیہ میں سے تھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے یہی وجہ تھی کہ بہت جلد وہ تمام ہندوستانی ملازمین میں ممتاز ہو گئے۔‘

جب ملکہ وکٹوریا نے اردو سیکھی

عبدالکریم کے ونڈسر پہنچنے کے چند دن بعد ہی ملکہ نے اپنے روزنامچے میں لکھا کہ وہ ہندوستانی (اُردو کو اس زمانے میں ہندوستانی کہا جاتا تھا) سیکھ رہی ہیں تاکہ اپنے ہندوستانی ملازموں سے بات چیت کر سکیں۔

عبدالکریم کے پڑنواسے قمر سعید بیگ بتاتے ہیں کہ عبدالکریم ہی ملکہ وکٹوریا کو ہندوستانی پڑھا رہے تھے۔ ’ملکہ نہ صرف ہندوستانی بولنا سیکھ رہی تھیں بلکہ لکھنے کی مشق بھی کرتیں۔‘ انھوں نے اکثر سرکاری اور ذاتی خط و کتابت بھی ہندوستانی میں کرنی شروع کر دی۔

ملکہ کے حکم پر عبدالکریم نے روزمرہ ہندوستانی بول چال کا ایک کتابچہ بھی ترتیب دیا جس میں ضروری ہندوستانی فقرے اور الفاظ درج تھے۔ یہ کتابچہ شہزادے، شہزادیوں اور محل کے تمام سٹاف میں تقسیم کیا گیا تاکہ انھیں ہندوستانی عملے سے رابطے میں کوئی دقت نہ ہو۔

خادم استاد بن گیا

جلد ہی ملکہ وکٹوریا کو احساس ہو گیا کہ کھانے کے جھوٹے برتن اٹھانا عبدالکریم کے شایاں نشان نہیں۔ یہ احساس دلانے میں کچھ حصہ عبدالکریم کا بھی تھا جنھوں نے اصرار کیا کہ وہ آگرہ میں کلرک تھے اور ایک خدمت گار کے طور پر کام کرنا ان کے رتبے سے کمتر ہے۔

لہذا ملکہ اور عبدالکریم نے مل کر طے کیا کہ وہ ملکہ کے اتالیق کہلائیں گے۔ مصنف رضا علی عابدی کے مطابق منشی کی اصطلاح بھی عبدالکریم نے ہی تجویز کی ہو گی جبکہ ملکہ کے حکم پر وہ سارے فوٹو تلف کردیے گئے جن میں عبدالکریم خدمت گاروں کی وردی پہنے دست بستہ کھڑے ہیں۔

عبدالکریم منشی بنے تو ملکہ کو سامنے بٹھا کر میر، غالب اور مومن کے اشعار سنانے لگے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ منشی ہندوستانی پڑھاتے تو ملکہ کہتیں کہ وہ بہت سخت استاد ہیں۔ منشی عبدالکریم کے پڑنواسے مظہر سعید بیگ بتاتے ہیں کہ منشی کی اہلیہ رشیدن بیگم کہا کرتی تھیں کہ ملکہ وکٹوریا عبدالکریم کی بالکل ایک استاد کی طرح عزت کیا کرتی تھیں اور ان کا معمول تھا کہ وہ روز صبح انھیں سلام کرنے آتی تھیں۔

انڈین سیکرٹری کے عہدے پر ترقی

ملکہ کے استاد مقرر ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد منشی عبدالکریم کو ملکہ کا ’انڈین سیکریٹری‘ بنا دیا گیا۔ ان کے لیے دفتر بنایا گیا اور ماتحت مقرر کیے گئے۔ اب منشی کو ملکہ کے لیے بند صندوقوں میں آنے والی ڈاک سنبھالنے کا کام سونپا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں منشی کا اثرورسوخ اتنا بڑھ گیا کہ ملکہ ہندوستان سے آنے والی عرضداشتیں ان کے حوالے کر دیتیں اور انھیں منظور یا نہ منظور کرنے کا فرض بھی وہی انجام دیتے۔

سید اقبال حسین نے تصدیق کی کہ ملکہ کو منشی عبدالکریم پر اس قدر اعتبار تھا کہ جب کبھی انگریز حکام ہندوستان کے بارے میں کوئی معلومات دیتے یا ہندوستان سے کوئی خبر بھیجی جاتی تو ملکہ ان سب کی تصدیق کے لیے منشی کی رائے پر اعتماد کرتیں۔

جب یہ خبر عام ہو گئی تو وکٹوریا کے انگریز سٹاف اور ہندوستانی حکام کا ماتھا ٹھنکا۔ وائسرائےِ ہند نے صاف لکھ بھیجا کہ آئندہ وہ خفیہ دستاویزات ملکہ کے ملاحظے کے لیے نہیں بھیج سکیں گے کیونکہ وہ اپنی ڈاک منشی کو دکھاتی ہیں۔ یہ دھمکی کارگر ہوئی اور ملکہ نے سرکاری ڈاک منشی عبدالکریم کو دکھانی بند کر دی۔

میرے پیارے ہندوستانی بچے

ملکہ وکٹوریا منشی عبدالکریم کی ذہانت، نفاست اور خوش ذوقی کی قائل تھیں۔ وہ منشی کو ’جنٹلمین‘ کہا کرتیں تھیں۔ دن میں کئی کئی بار چٹھی لکھتیں اور انھیں ‘میرے پیارے ہندوستانی بچے’ کہہ کر مخاطب کرتیں۔ اکثر خط ’تمھاری وفا شعار سچی دوست‘ پر ختم کرتیں۔

مُنشی عبدالکریم کی پڑ نواسی پروین بدر خان کہتی ہیں کہ ’جب مُنشی عبدالکریم ملکہ کے پاس ملازمت کے لیے آئے تو ان کی عمر صرف 24 برس تھی جبکہ ملکہ 68 سال کی ہو چلی تھیں۔ دونوں کی عمروں میں بے تحاشہ فرق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وکٹوریا عبدالکریم کو اولاد کی طرح چاہتی تھیں اور ان دونوں کے درمیان پیار بالکل ماں بیٹے جیسا تھا۔‘

پروین کے بھائی اور منشی عبدالکریم کے پڑنواسے مظہر سعید بیگ بتاتے ہیں کہ انھوں نے بزرگوں سے سنا تھا کہ منشی وہ واحد شخص تھے جو ملکہ کی خواب گاہ میں اکیلے جا سکتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ملکہ کے نزدیک منشی عبدالکریم کا کردار بے داغ تھا۔

شرابانی باسو

Getty Images
انڈین نژاد برطانوی مصنفہ شرابانی باسو کی کتاب ’وکٹوریا اینڈ عبدل‘ سنہ 2010 میں شائع ہوئی

ایک بار ایسا بھی ہوا کہ منشی بیمار پڑے تو ملکہ دن میں کئی کئی بار ان کے کمرے میں جا کر تیمارداری کرتیں۔ وہیں سرکاری کاغذات دیکھتیں اور ہندوستانی کی مشق بھی کرتیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس عرصے میں ملکہ ایسے تھیں جیسے کوئی بچہ گود لے لیا ہو اور اس کی دیکھ بھال کر رہی ہوں۔

یک نہ شد کئی شد

ملکہ کو فکر کھائے جا رہی تھی کہ منشی عبدالکریم اپنے گھر والوں سے دور ہیں اور انھیں یاد کرتے ہوں گے۔ حکم ہوا کہ منشی کے اہلِ خانہ کو انگلستان لانے کا انتظام کیا جائے۔ اس طرح منشی کی اہلیہ، ساس، برادرِ نسبتی، بھائی، بہنوئی، پھوپھیاں، خالائیں اور بھتیجے بھی شاہی محل پہنچ گئے۔

منشی عبدالکریم کی پڑنواسی پروین بدر خان ماضی کے دریچوں میں جھانکتی ہیں ’ملکہ کو منشی کے گھر کی خواتین کے پردے کی خاص فکر تھی۔ میرے نانا عبدالرشید اور ان والدہ جب قصرِ ونڈسر پہنچے تو گھوڑا گاڑی سے گھر تک راستے میں چادریں تان دی گئیں تھیں تاکہ پردے کی پابندی برقرار رہے۔ گھر میں بھی ریشمی پردے لگوا دیے گئے اور دیواریں اونچی کروادی گئیں۔‘

پروین بدر خان یاد کرتی ہیں کہ ملکہ وکٹوریا کو منشی کے اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال تھا۔ ’عبدالرشید کو بالکل ویسی ہی تعلیم دی گئی جیسی ملکہ کے اپنے بیٹے اور جانشین شہزادہ ایڈورڈ کو دی گئی۔ عبدالرشید نے برطانیہ سے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا۔‘

سٹیفن فریرز

Getty Images
فلم ’وکٹوریا اینڈ عبدل‘ سنہ 2017 میں ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار سٹیفن فریرز تھے

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11719 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp