وکٹوریا اور عبدالکریم: ملکۂ برطانیہ اور ان کے ہندوستانی ملازم کی دوستی کی لازوال داستان


پاپولر کلچر

ایک عرصے تک انگریز مورخین منشی عبدالکریم کے ذکر سے کتراتے رہے۔ ان کی پڑنواسی پروین بدر خان بتاتی ہیں ’منشی عبدالکریم کے بارے میں منفی کتابیں بھی بہت لکھی گئیں۔ برطانیہ میں منشی بدنام تھے۔‘

برِصغیر میں 20 ویں صدی کے اوائل میں نامور مصنف عظیم بیگ چغتائی نے بچوں کے مقبول رسالے ’پھول‘ میں منشی پر مضمون لکھا۔ کراچی سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’افکار‘ نے بھی سنہ 1981 میں منشی عبدالکریم پر ایک مقالہ شائع کیا۔

سنہ 2000 میں معروف براڈ کاسٹر رضاعلی عابدی نے ’ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم‘ کے نام سے کتاب لکھی جبکہ انڈین نژاد برطانوی مصنفہ شرابانی باسو کی کتاب ’وکٹوریا اینڈ عبدل‘ سنہ 2010 میں شائع ہوئی۔ اسی نام سے بننے والی فلم، جو سنہ 2017 میں ریلیز ہوئی، میں انڈین اداکار علی فضل نے منشی کا کردار ادا کیا جبکہ برطانوی اداکارہ جوڈی ڈینچ ملکہ وکٹوریا کے کردار میں نظر آئیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’چینل فور‘ نے بھی منشی عبدالکریم اور ملکہ وکٹوریا کی کہانی کو فلمایا جو سنہ 1984 میں ’دی ایمپریس اینڈ دی مُنشی‘ کے نام سے نشر ہوا۔ اس ٹی وی فلم کے مصنف انڈین نژاد برطانوی مصنف فرخ ڈھونڈی تھے جبکہ پاکستانی اداکار ضیا محی الدین منشی عبدالکریم کے روپ میں نظر آئے۔

پروین بدر خان کہتی ہیں کہ منشی عبدالکریم پر بننے والی فلم اور حالیہ کتابیں آنے کے بعد ان کا رتبہ بحال ہوا ہے۔

’ہمارے پورے خاندان نے سنیما جا کر فلم دیکھی کہ معلوم کیا جائے کہ فلم میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے لیکن فلم حقیقت سے کافی قریب تھی۔ منشی عبدالکریم کا کردار نبھانے والے اداکار علی فضل نے اپنے کردار سے انصاف کیا ہے جو کچھ ہم بچپن سے سنتے آئے تھے، وہ سب فلم میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔‘

منشی کا خاندان اب کہاں ہے؟

منشی عبدالکریم کے پڑنواسے قمر سعید بیگ تاریخ کے صفحوں کو پلٹتے ہیں: ’تقسیمِ ہند کے وقت جب منشی عبدالکریم کے تقریباً پورے خاندان کو انڈیا سے بھاگنا پڑا تو اکثر دستاویزات، تصاویر اور نوادرات اِدھر اُدھر ہو گئے۔‘ تاہم سنہ 1887 سے سنہ 1897 تک کے دس سالوں کے دوران لکھی گئی منشی عبدالکریم کی ذاتی ڈائری اب بھی خاندان کے پاس محفوظ ہے۔

قمر سعید بیگ کی بہن پروین بدر خان بتاتی ہیں کہ آج منشی عبدالکریم کے پڑپوتے، پڑپوتیاں، پڑنواسے، پڑنواسیاں اور ان کی اولادیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے اکثر پاکستان، انڈیا، امریکہ، کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ ’افسوس کہ ہمارے خاندان کی نئی نسل یعنی ہماری اولادوں کو خاندانی ورثے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 132 سال پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ اب ماضی کا حصہ ہے اور اس کا حال سے کوئی تعلق نہیں۔‘

لیکن تاریخ سے منھ موڑنا کچھ اتنا آسان بھی نہیں شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں ونڈسر میں منشی عبدالکریم کے فروگمور کاٹج کو برطانوی تخت کے چھٹے وارث شہزادہ ہیری نے اپنی رہائش گاہ بنانے کا فیصلہ کیا وہیں سکاٹ لینڈ کے بالمورل قلعے میں ’کریم کاٹج‘ آج بھی موجود ہے۔

جس ملکہ نے سوا صدی پہلے اپنے وفادار ہندوستانی ملازم کے لیے کریم کاٹج بنایا اسی وکٹوریا کی لکڑ پوتی ایلزبتھ نے سنہ 2014 میں اس تاریخی گھر کو شاہی خاندان سے لے کر عوام کے حوالے کردیا۔

اب ہر کوئی شاہی رہائش اختیار کرنے کا خواب پورا کر سکے گا اگر دل کرے اور آپ بھی ان در و دیوار کے ساتھ وقت گذارنا چاہیں جہاں کبھی ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم رہا کرتے تھے تو قصرِ بالمورل کی ویب سائٹ پر جائیں اور ہزار پاؤنڈ دے کر پورا گھر ہفتے بھر کے لیے کرائے پر لے لیں۔

کیا پتہ ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم کی روح آج بھی وہاں آتی ہو۔ منشی ملکہ کو اردو کا درس دیتے ہوں اور ہندوستان کی کہانیاں سناتے ہوں۔ ملکہ بھی کسی معصوم بچی کی طرح ان سے اپنے دل کی باتیں کرتی ہوں اور منشی کے حاسدوں کے سینے پر مونگ دلتی ہوں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp