گذشتہ ہفتے کی اہم سرخیوں کے بارے میں بتانے والی چند تصاویر۔
گذشتہ ہفتے یورپ کو سخت گرمی کا سامنا رہا۔ فرانس میں درجہ حرارت 45.8 درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اس تصویر میں پرتگالی فنکار پٹریشیا سونا کی چھتریوں کی آرٹ انسٹالیشن کے نیچے گرمی سے پناہ کے لینے والا ایک شخص۔اوساکا میں برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اور روسی صدر پوتن کے درمیان ملاقات کچھ اس انداز میں ہوئی۔ اس ملاقات کے درمیان ٹریزا مے نے پوتن سے کہا کہ روس کو اپنی ’غیر ذمہ دارانہ اور عدم استحکام پھیلانے والی‘ سرگرمیاں بند کرے۔برطانیہ میں بچوں کے لیے کام کرنے والے فلاحی ادارے ایکشن فار چلڈرین کی ایک ورکشاپ میں ڈچیز آف کیمبرج نے ایک بچی کو یوں گلے لگایا۔جرمن چانسلر آنگیلا میرکل اوساکا میں ہونے والے جی20 جلاس میں پہنچیں۔ اس سے قبل انہیں آٹھ روز کے اندر اندر دوسری بار کانپتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کے بعد سے ان کی صحت کے بارے میں فکر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں۔اتالوی شہر جینوآ میں مورانڈی پل کے بقیہ حصے کو ختم کرنے کے لیے دھماکہ کیا گیا۔ تقریباً ایک سال قبل اس پل کا ایک حصہ گر جانے کی وجہ سے 43 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔نیو یارک کی گے بار میں سنہ 1969 میں پڑنے والے چھاپے کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر کچھ ایسے افراد بھی شامل ہوئے جو چھاپے کے وقت وہاں موجود تھے۔ اسے امریکہ میں ہم جنس افارد کے حقوق کے مطالبے کی محم کے آغاز کی تاریخ بھی مانا جاتا ہے۔پیرس کے پلاس ڈی لا کونکورڈ میں فرانس کی بی ایم ایکس ٹیم کا ایک فرد ہنر کی نمائش کرتا ہوا۔ سنہ 2024 میں ہونے والے اولمپک مقابلوں سے پہلے اس علاقے کو اولمپک پارک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔جرمنی میں گارزویل کے علاقے میں کوئلے کی کان کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ احتجاج میں کان میں بھی داخل ہو گئے۔ پولیس کہ مطابق یہ ایک خطرناک قدم تھا۔ جرمنی نے سنہ 2050 تک کاربن نیوٹڑل ہونے کا عظم کیا ہے۔ لیکن ماحولیاتی کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ بہت زیادہ وقت ہے۔برطانیہ کے پلٹن نامی گاؤں میں گلاسٹنبری فیسٹیول کا لطف اٹھانے آنے والے افراد۔ یورپ میں گرمی بڑھنے کے باعث یہاں آنے والے افراد کو پانی اور سن سکرین مفت دیا گیا۔اوساکا میں جی 20 اجلاس میں بین الاقوامی رہنماؤں کی بیگمات اور شوہر بھی شامل ہوئے۔ یہ تصویر ایک مندر کی ہے۔
Facebook Comments HS
بی بی سی
بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔