سری لنکا چائے کی سرزمین کی سیر قسط نمبر ۱

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے تین سال سے بینک کے آزاد کشمیر ریجن کی نمائندگی ہر فارن ٹرپ میں ہو رہی تھی۔ میں اور میری ٹیم کے ممبران ہر فارن ٹرپ میں موجود ہوتے تھے۔ دوسرے ریجن کے بزنس ہیڈز مجھے پوچھتے تھے کہ آپ کیا کرتے ہو جس سے آپ کا نام ہر ٹرپ میں آجاتا ہے۔ میں انھیں ہمیشہ کہتا تھا کہ یار اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، بلکہ یہ میری ٹیم کا کمال ہے جو سارے ٹارگٹ پورے کرتی ہے اور ان کی وجہ سے میرا نام بھی آ جاتا ہے۔

آپ ہمیشہ مجھے اور اعجاز کو چھوڑ جاتے ہیں، سہیل نے شکوہ کیا۔ یار آپ دونوں ٹارگٹ پورا نہیں کرتے تو آپ ہمارے ساتھ کیسے جا سکتے ہیں، طلعت میاں نے وضاحت کی۔ مجھے آپ لوگ اپنے گروپ میں شامل ہی نہیں کر رہے ہیں، آمنہ عمر نے بھی گلہ کیا۔ یہ سا ری گفتگو اسلام آباد میں ماہانہ بزنس میٹنگ کے بعد چائے کی میز پر ہو رہی تھی۔ میں تمہیں پتہ کر کے دیتا ہوں کہ اس دفعہ ٹرپ کہاں جا رہا ہے، میں نے اٹھتے ہوئے کہا اور جنرل مینیجر کے کمرے کی طرف چل پڑا۔

جی۔ ایم جعفر صاحب فون پر بزی تھے، انہوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فون پر بات جاری رکھی۔ وہ فون سے فارغ ہوئے تو میں نے اس دفعہ کے ٹرپ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا، کہ اس بار سری لنکا جا رہے ہیں۔ میں نے واپس آکر جب بتایا کہ ہم سری لنکا جا رہے ہیں، تو سب کے منہ بن گئے، کیونکہ ہم لوگ یورپ یا پھر ساؤتھ افریقہ جانے کو تیار ہو رہے تھے اور ہمیں بتایا بھی یہی گیا تھا۔ ہم چونکہ پچھلا ٹرپ روس کے خوبصورت اور تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کا کر کے آئے تھے جو ایک بہت مہنگا ٹور تھا، اس لئے اس دفعہ سری لنکا کو چنا گیا تھا جو ایک سستاٹرپ تھا۔ بینک میں ہمارا نارتھ کلسٹر تھا، جس میں چھ ریجن تھے۔ اعجاز خان پشاور سہیل اختر، مردان۔ طلعت میاں، راولپنڈی۔ حسن مشہدی، اسلام آباد۔ آمنہ عمر، جہلم اور میں آزاد کشمیر ریجن کا بزنس ہیڈ تھا۔

ہمیں بنک کی طرف سے چھ ماہ کے لئے ایک ٹارگٹ ملتا تھا، جس کو پورا کرنے پر بینک ہمیں مختلف ممالک کے ایک ہفتہ کے ٹور پر بھیجتا تھا۔ میں پچھلے تین سال سے مسلسل ٹارگٹ پورا کرنے پر ہر ٹرپ کا حصہ ہوتا تھا۔ ہماری اسلام آبادکی میٹنگ کے دو تین بعد ہیڈ آفس سے ٹرپ کا باقاعدہ اعلان ہو گیا اور ساتھ ہی کامیاب ایمپلائز کی لسٹ بھی آ گئی۔ حسب روایت میرے ریجن سے سب سے زیادہ لوگوں نے ٹرپ کے لئے کوالیفائی کیا تھا۔ نارتھ سے میرے علاوہ سینئرایگزیکٹوز میں حسن۔ طلعت۔ آمنہ اور ہمارے جنرل مینیجر سیدجعفر حسین تھے۔

فارن ٹرپ کو بینک میں بیرون ملک کنونشن کا نام سے جانا جاتا تھا۔ اسکاتمام خرچہ اور اہتمام بینک کے ذمے ہوتا تھا بلکہ ہر ایمپلائی کو وہاں خرچہ کے لئے پانچ سوڈالرفی کس بھی ملتے تھے۔ ہمیں پاسپورٹ اور دوسرے ضروری کاغذات جمع کرانے کا کہا گیا جو سب نے مقررہ تاریخ نے پہلے جمع کرا دیے۔ بینک نے تمام کامیاب لوگوں کو تین گروپوں میں تقسیم کردیا۔ کراچی اور کوئٹہ کا ایک گروپ A۔ لاہور اور سینٹرل پنجاب کا گروپB اور گروپ C میں نارتھ کے لوگ یعنی اسلام آباد۔

آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ۔ کنونشن کے لئے 2015 کے اکتوبر کی دو تاریخ کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں انعقاد کا اعلان کر دیا گیا۔ دوسرے ہی دن سارے کامیاب لوگوں کو ایمیل پر پروگرام کی ساری تفصیل اور باقی انتظامات سے آگاہ کر دیا گیا۔ جس کے مطابق ہماری دو اکتوبر کو ہماری اسلام آباد سے لاہور روانگی تھی اور لاہور سے اسی رات 12 بجے سری لنکن ائیر لائنز سے کولمبو کے لئے روانہ ہونا تھا۔ میں نے چونکہ میرپور سے روانہ ہونا تھا اس لئے اسلام آباد کی فلائٹ کینسل کروائی۔ کیونکہ ہم یہاں سے باآسانی سڑک کے ذریعے کم خرچے میں لاہور پہنچ سکتے تھے۔ ٹور مینیجر کی طرف سے ہمیں ویزہ لگے پاسپورٹ اور ٹکٹ روانگی سے دو دن پہلے ہی بذریعہ ڈاک مل گئے تھے۔

میں نے حسب معمول انٹرنیٹ پر سری لنکا کے بارے میں ضروری معلومات سرچ کرنا شروع کر دیں اور ان کے نوٹس بنانے لگا۔ گھر والوں کی فرمائش ہمیشہ کپڑوں اور جیولری کی ہوتی ہے۔ ان سے لسٹیں وغیرہ لے لیں اور اپنا بیگ تیار کر لیا۔ روانگی سے دو دن قبل جب اپنے پرانے دوستوں کی محفل میں باہر جانے کا اعلان کیا تو انگلینڈ سے آئے ہوئے چودھری خالق نے کہا کہ میں بھی لاہور تک ساتھ جاؤں گا کیونکہ میں نے اپنے ایک بہت ہی پرانے دوست سے ملنا ہے جو لاہو ر ائیرپورٹ کے پاس ہی رہتا ہے۔

دوسرے دوستوں چودھری یاسین اور رحیم جوشی نے بھی ساتھ جانے پر آمادگی ظاہر کی تو پروگرام بنا کہ ہم سب دو بجے دوپہر روانہ ہوں گے اور مجھے ائیرپورٹ چھوڑنے سے پہلے خالق صاحب کے دوست سے ملاقات بھی کر لیں گے۔ ہم دو بجے میرپور سے روانہ ہوئے۔ لاہور پہنچ کر نامکمل ایڈریس اور پوری معلومات نہ ہونے کی وجہ سے خالق صاحب کے دوست کا گھر نہ مل سکا۔ اس لئے وہ مجھے ائیرپورٹ پر ڈراپ کر کے واپس چلے گئے۔ میری شروع سے عادت ہے کہ میں ہمیشہ وقت مقررہ سے قبل ہی ائیرپورٹ پہنچ جاتا ہوں تاکہ رش اور دھکم پیل سے بچا جا سکے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2