ایک عورت، تین بدمعاش، ایک مولوی اور پولیس


یہ پشاور ہے، کوئٹہ ہے، سبی ہے جہاں عورت ایک ملکیت کا حصہ ہے جسے چاہے الاٹ کردیں، جس کے نام چاہے پاور آف اٹارنی جاری کردیں۔ میں بھی اسی نظام کا حصہ بن گئی تھی۔ مجھے کلاس کی ایک استانی کی بات یاد آتی ہے جنہوں نے کہا تھا کہ ایک بڑی تہذیب کو چھوڑ کر آنے والے توایک دن اسی گھٹیا تہذیب کو ہی اپنائیں گے، یہی قانون ہے ارتقا کا۔ میں اسی قانون کا نشانہ بن گئی تھی۔

دوسرے بیٹے کی پیدائش سے پہلے ہی جاوید نے میرا بڑا خیال رکھا۔ آہستہ آہستہ مجھے وہ اچھا لگنے لگا۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اب اگر شادی کرنی پڑی تو جاوید سے ہی کرلوں گی۔ اس میں ایک خاص قسم کی شرافت تھی۔ کلاشنکوف اور ٹی ٹی ہونے کے باوجود اس میں ایک عجیب طرح کا شرمیلا پن تھا اورسب سے بڑھ کر یہ کہ وہ میرے ساتھ ساتھ میرے بچوں کا بھی خیال رکھتا تھا۔ میرے ذہن میں اس خیال کو آئے ہوئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ جاوید سے میری شادی کا سلسلہ چھڑ گیا اور ایک بار پھر میں دلہن بن کر جاوید کی بیوی بن گئی۔ ”

جمیلہ کی کہانی میں بڑے پیچ وخم تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس کہانی پر تو فلم بن سکتی ہے۔ انڈیا کی ہینڈٹ کوئن کی طرح کی کہانی۔ ایک لڑکی کی کہانی جو کالج سے دلہن اور دلہن سے ایک ایسی عورت بن جاتی ہے جس سے گروہ کا ہر آدمی شادی کرنا چاہتا ہے۔ اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ ایک ایسا گروہ جن کے معیار الگ ہیں، اطوار جدا۔ ان میں سبزی والے کی بیٹی کیا کرسکتی ہے؟ میرے ذہن میں پھولن دیوی کا سا کردار گھوم رہا تھا۔

”ایک کے بعد ایک ایک کرکے دس سال کے اندر جاوید سے میرے چار بچے پیدا ہوئے۔ زندگی میں اونچ نیچ ہوتی ہی رہتی تھی۔ کبھی شہر میں کرفیو لگتا تو کبھی ہڑتال ہوتی۔ مگرزندگی کے سارے کام چلتے رہتے۔ ہر ایک اپنا کام کررہا تھا، ہر ایک اپنی دنیا میں الجھا ہوا تھا مگریکایک کچھ گڑبڑ ہوگئی۔ پولیس نے ایک بڑا آپریشن کیا۔ پہلے جاوید غائب ہوگیا پھر پولیس والے ایک دن گھر پر چڑھ دوڑے۔ میرے بچوں کو ایک کمرے میں پولیس والوں نے پکڑ کر بٹھا رکھا تھا۔

دوسرے کمرے میں وہ مجھ سے جاوید کاپتا پوچھتے رہے تھے۔ مجھے پتا ہوتا تو بتاتی، نہ میں انہیں بتاسکی اورنہ ہی وہ اس بات سے خوش ہوئے۔ وہ رات بھیانک رات ثابت ہوئی۔ جب وہ مجھ سے بالکل ہی نا امید ہوگئے تواُن پولیس والوں نے باری باری میری عصمت دری کی۔ میں عورت تھی پانی کی طرح، وہ مرد تھے نجانے کب کے پیاسے۔ میں موجود تھی پیاس بجھانے کے لیے، وہ حاضر تھے قانون کے نفاذ کے لیے۔ وہ لوٹتے رہے میں لٹتی رہی۔ وہ رات میری زندگی کی طویل ترین رات تھی۔

مجھے تویاد بھی نہیں ہے کہ کتنے پولیس والوں نے ایک کے بعد ایک کرکے مجھے لوٹا۔ کتنے مرنے والے پولیس والوں کا مجھ سے بدلہ لیا۔ صبح کے سناٹے میں وہ سارے مجھے چھوڑ گئے نجانے کب اورکیسے میں اٹھی تھی؟ میں شاید مرجاتی، خودکشی کرلیتی اگر میرے بچے میرے سامنے زندہ نہ ہوتے۔ ماں بننا بھی ایک جرم ہے، اس کی سزا توبھگتنی ہی ہوتی ہے۔ کاش بچوں کویہ پتا ہوتا۔

ان سب کے جانے کے بعد مجھے احساس ہوگیا کہ اب مجھے جاوید نہیں ملے گا، اب مجھے جو کچھ بھی کرنا ہے اکیلے ہی کرنا ہے۔ اپنے بچوں کی پرورش، ان کی دیکھ بھال، ان کی تعلیم اوراپنی دو لڑکیوں کو بھی دیکھنا ہے کہ وہ پڑھ سکیں، پل سکیں اور ان کا انجام وہ نہ ہو جو میرا ہوچکا ہے۔ ان پر وہ وقت نہ آئے کہ وہ میری طرح کبھی اپنے گھروں کو واپس نہ جاسکیں۔

مجھے کوئی کام تو آتا نہیں تھا۔ صرف اپنے باپ کو سبزی کی دکان چلاتے ہوئے دیکھا تھا، گھر میں لہسن چھیلتی ہوئی ماں کی مدد کی تھی اور اسکول سے میٹرک پاس کرکے کالج میں داخلہ لیا تھا۔ میں نے گھر کی جمع پونجی اکٹھا کی۔ خاموشی سے ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لے لیا اور ایک رات بچوں کے ساتھ تھوڑا بہت سامان لے کر بلدیہ کالونی کے اس مکان میں منتقل ہوگئی۔ ایک بیوہ کو پناہ مل گئی تھی۔ میں نے اپنے پچھلے تمام رشتے توڑ لیے تھے۔

جاوید نے اچھا کام یہ کیا تھا کہ میرا حبیب بینک میں اکاؤنٹ کھلوادیا تھا جس میں چند ہزار روپے موجود تھے کہ جس سے میرا کام چل رہا تھا۔ شاید جاوید کوپتا تھا کہ کبھی بھی وقت آجائے گا۔ کبھی بھی اس کی باری آجائے گی۔ وہ دل کا ایک اچھا آدمی تھا، نجانے کیسے اس گروہ میں پھنس گیا۔ مجھے سالوں میں نہیں پتا لگ سکا تھا کہ اس کے گھر والے کون ہیں، کہاں ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ کدھر رہتے ہیں؟

بڑے بچوں کو میں نے سمجھا دیا کہ زندگی نے ہمیشہ بڑے دھوکے دیے ہیں اور اب ہمیں زندگی کو دھوکا دینا ہے۔ کسی کو کچھ نہیں بتانا ہے کہ ہم پہلے کہاں رہتے تھے، ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے، جاوید کون تھا، کہاں ہے؟ نئی زندگی شروع کرنی ہے تو یہ سب کچھ تو کرنا ہوگا۔

میں نے سوچا کہ اپنے گھر میں ایک ٹیوشن سینٹر کھول لوں گی اوراسکول کے بچوں کوپڑھاؤں گی۔ اتنی آمدنی تو ہوجائے گی کہ زندگی کا کاروبار چل سکے۔ مجھے اپنے بچوں کو بھی پڑھانا تھا اور ضرور پڑھانا تھا۔ مجھے بلدیہ آئے ہوئے دوہفتے ہی ہوئے تھے۔ میں نے صرف پاس پڑوسیوں سے جان پہچان ہی پیدا کی تھی۔ دونوں بڑے بچوں کا داخلہ اسکول میں کرایا تھا۔ دونوں بڑوں نے قرآن ختم کرلیا تھا۔ میں نے سوچا کہ محلے کی مسجد میں تین چھوٹے صبح کے ٹائم قرآن پڑھ لیں گے۔

مولوی صاحب نے بچوں کو فوراً ہی داخل کرلیا۔ مجھے لگا کہ شاید زندگی کسی صحیح ڈگر پر چل نکلے گی۔ مگر صورت اچھی ہو توپتا نہیں کیوں قسمت خراب ہوجاتی ہے۔ دو دنوں کے بعد ہی مولوی صاحب میرے گھر آئے اور مجھے بتایا تھا کہ بچوں کوقاعدے کی ضرورت ہے جو انہوں نے خرید دیا ہے۔ گھر پر انہوں نے چائے بی پی اور یہ بھی کہا کہ اگر مدد کی ضرورت ہو تو ان سے ضرور کہوں۔ مجھے ان کا آنا اچھا نہیں لگا۔ جلد ہی میرے خدشات صحیح ثابت ہوگئے۔

دو ہفتے بعد ہی انہوں نے مجھے کہلوایا کہ چھ بچوں کی بیوہ ماں کا اس طرح سے رہنا تو اچھا نہیں ہے۔ وہ مجھے اپنے نکاح میں لینے کو تیار ہیں یعنی میں ان کی دوسری بیوی بن جاؤں۔ پیغام لانے والی نے بتایا کہ وہ آپ کی مدد بھی کررہے ہیں اور ساتھ ہی سنت پر عمل کرکے ثواب بھی کمالیں گے۔ دیکھیں آپ کو شوہر کی ضرورت ہے، بچوں کو باپ کا پیار چاہیے اورپورے خاندان کو تحفظ۔ مولوی صاحب سے شادی کرکے یہ سب کچھ مل جائے گا۔

مجھے توآگ لگ گئی۔ دل تو میرا یہی کیا کہ اس عورت کو گھر سے نکال دوں اور مسجد جا کر اس مولوی کے منحوس چہرے پر تیزاب پھینک دوں تاکہ اس کی شہوت بھری آنکھیں ہمیشہ کے لیے اندھی ہوجائیں۔ مجھے افسوس بھی ہوا کہ سنت کے اس نام پر یہ آدمی کیا کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ مجھے بہت دنوں بعد اپنے باپ کی یاد ستائی۔ مجھے جاوید یاد آیا۔ نجانے کہاں ہوگا؟ زندہ بھی ہے کہ نہیں، کبھی شکل بھی نظر آئے گی کہ نہیں۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب پھر زندگی نیا کھیل کھیلائے گی۔ اب پھر کچھ ہوگا لیکن میں نے بھی سوچ لیا کہ پہلے تو انجانے میں مار کھائی تھی میں نے۔ دھوکے سے سب کچھ ہوگیا تھا۔ شکاری شکار کرگئے، اب یہ سب کچھ نہیں ہوگا، نہیں ہونے دوں گی میں۔

میں نے تینوں بچوں کو مسجد سے اٹھالیا اورپہلی دفعہ اپنے بیٹے کو جو اب دسویں جماعت میں پڑھ رہا تھا بتایا کہ دنیا کیا چاہتی ہے۔ لوگوں کے اصل رنگ کیا ہیں، اصل چہرے کتنے بھیانک ہیں؟ زندگی کتنی کٹھن ہے؟ کب کیا ہوجائے گا، کچھ پتا نہیں ہے۔ ہم جنگل کے ان جانوروں کی طرح ہیں جن پہ کوئی بھی طاقتور جانور کسی بھی وقت جھپٹا مار سکتا ہے، گراسکتا ہے، ختم کرسکتا ہے، ہر وقت ہوشیار چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ ”

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4