سراب کا مستقبل: تخلیق سگمنڈ فرائیڈ
مجھے اس حقیقت کو قبول کرنے میں کوئی عار نہیں کہ مذہب نے انسانی معاشرے اور تہذیب کے ارتقا میں گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ اس نے انسانی جبلتوں پر پابندیاں عائد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میرا صرف یہ کہنا ہے کہ مذہب کی ایک صحتمندانہ اور منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کوششیں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئیں۔ مذہب نے انسانی معاشروں پر ہزاروں سالوں سے حکمرانی کی ہے۔ اسے اپنے نتائج پیدا کرنے کا پورا پوراموقع ملا ہے۔
اگر اس نے بنی نوع انسان کو خوشیاں، سکون اور ایک اعلیٰ زندگی دی ہوتی تو کوئی بھی اس پر معترض نہ ہوتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان گنت انسان دکھی زندگی گزار رہے ہیں۔ اب لوگ زندگی کے ا س موڑ پر آگئے ہیں کہ یا تو وہ تہذیب کو بالکل بدل کر رکھ دیں گے یا اپنے دلوں میں مذہب اور تہذیب کے خلاف غصے اور نفرت کے طوفا ن لئے پھریں گے۔
بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذہب کو معاشرے کو بدلنے کا پورا موقع نہیں ملا۔ کیونکہ سائنس اس کی راہ میں روڑے اٹکاتی رہی ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ دلیل نہایت کمزور ہے اگر خدا کی بخششیں انسان کے کثرت سے گناہ کرنے پر منحصر ہے تو اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ خدا کو انسان کاگناہ کرنا اچھا لگتا ہے۔ صدیوں سے پادری اپنی ہوس اور طاقت کے نشے میں گناہ گاروں کو معاف کرتے رہے ہیں تاکہ وہ مذہب کا دائرہ چھوڑ کر باہر نہ چلے جائیں۔ وہ یہی کہتے رہے ؛خدا نیک اور طاقت ور ہے، جبکہ انسان کمزور اور گناہگار ہے۔ اس صورتِ حال نے انسانی معاشرے میں اچھائی کی کوئی صورت پیدا نہ کی۔
اگر ہم اپنے دور کے معاشرتی حالات کا تجزیہ کریں تو ہمیں احساس ہوگا کہ یورپ کی تہذیب پر عیسائیت کا اثر کم ہونے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کا مذہب سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے اور معاشرے کے اعلیٰ طبقوں میں سائنسی نقطہ نظر مقبول ہور ہا ہے۔ مذہبی کتابوں اور اعتقاد ات کو جب تنقید اور سائنس کی نگا ہ سے دیکھا جائے تو ان میں بہت سی کوتاہیاں اور خامیاں دکھا ئی دیتی ہیں اور مذہبی اعتقادات اور غیر مہذب قوموں (Primitve People) کی سوچ میں بہت سی مماثلتیں نظر آتی ہیں۔
سائنس ہمیں زندگی اور کائنات کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھنے پر اکساتی ہے۔ جوں جوں سائنسی رجحانات رکھنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، تو ں توں مذہبی عقائد پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے۔
انسانی تہذیب کو تعلیم یافتہ اور اصحابِ فکر لوگوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے آہستہ آہستہ مذہبی عقائد اور روایات کوسیکولر نظریات سے بدلنا شروع کردیا ہے اور انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ایک نئے باب کا اضافہ کیاہے۔ ان کے مقابلے میں انسانی تہذیب کو غیر تعلیم یافتہ اور مجبور و معتوب عوام سے زیادہ خطرہ ہے۔ جب تک وہ یہ نہ جانیں کہ لوگوں نے خدا پر ایمان لانا چھوڑ دیا ہے، ہم عافیت میں ہیں۔ لیکن جلد یا بدیر انہیں اس حقیقت کی خبر ہوجائے گی۔ امید یہ ہے کہ وہ سائنسی سوچ کے نتائج کو قبول کرلیں گے لیکن اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا نہ کریں گے جو سائنسی نقطہ نظررکھنے والوں کو اپنے اندر پیدا کرنی پڑتی ہے۔
اگر کسی دوسرے انسان کو قتل نہ کرنے کا واحد جواز یہ ہے کہ اسے خدا نے منع کیا ہے اور اگر کسی انسان کو یہ پتہ چل جائے کہ نہ تو خدا ہے اور نہ ہی اسے مرنے کے بعد اس کی سز ا ملے گی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کا قتل شروع کردے۔ اگر ایسا ہے تو پھر تو واقعی عوام کو ذہنی طور پر بیدار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انسانیت کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا ورنہ مذہب اور تہذیب کے رشتے میں ایک انقلاب پیدا ہوگا۔
آٹھواں باب۔ سراب کا مستقبل
میرے خیال میں مذہبی عقائد کی عمارت کے ڈھے جانے سے انسانیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو اس خیال سے ہی گھبرا اٹھتے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اس عمل سے انسانی تہذیب بحران کا شکار ہو جائے گی۔ مجھے اس موقع پر آٹھویں صدی عیسوی کے سینٹ بونیفس (St Boniface) کا واقعہ یا دآتا ہے جس نے جب گاؤں کے ایک مقدس درخت کو کاٹا تو لوگ خوفزدہ تھے کہ ان پر کوئی قیامت ٹوٹے گی۔ لیکن اس واقعہ کے بعد نہ تو کوئی عذاب آیا اور نہ ہی لوگوں کی جانیں خطریں میں پڑیں۔
جب انسانی معاشرے اور تہذیب نے یہ قانون وضع کیا کہ کسی انسان کو اپنے ہمسائے کو قتل کرنے کی یا اس کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنے کی اجازت نہیں تو اس قانون کا مقصد ایک صحتمند اور منصفانہ معاشرے کا قیام تھا کیونکہ قتل کے بعد قاتل کو مقتول کے دوست احبات کے بدلہ لینے کے جذبے کا سامنا کرنا پڑتا اور دوسرے لوگ اس سے حسد کرتے کیونکہ اس نے ان کے وحشی جذبات کو عملی جامہ پہنادیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جلد یا بدیر و ہ خود بھی کسی کے ہاتھوں قتل کردیا جاتا۔
اگر وہ کسی ایک دشمن سے بچ بھی جاتا تو کمزور عوام مل کر اسے نیست و نابود کردیتے۔ اگر ایسا نہ بھی ہوتا تب بھی قتل و غارت کا بازار گرم ہوجانے سے معاشرے کا امن اور سکون درہم برہم ہو جاتا اور ہم ایک ایسے معاشرے میں ایک دفعہ پھر داخل ہو جاتے جہاں کسی کی جان، مال اور خاندان محفوظ نہ رہتے۔ اس وقت ہم معاشرے کے ارتقاء میں اس مقام تک آگئے ہیں کہ دنیامیں قوموں کی جنگوں اور قتل وغارت کے علاوہ روزمرہ زندگی میں انسانی قتل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی شخص قتل کا مرتکب ہو تو معاشرہ اجتماعی طور پر اس کی سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں انصاف کا بول بالا رہتاہے۔
لیکن ہم قتل کی ممانعت کی بات کرتے ہیں تو اس قسم کی منطقی دلیل پیش نہیں کرتے اور یہ نہیں کہتے کہ منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے قتل پر پابندی ضروری ہے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے اور پھر سوچتے ہیں کہ آخر خدا نے ایسا حکم کیوں دیا ہے۔ اس طرح ہم قتل نہ کرنے کے حکم کو مقدس بناتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کے تصور کو خدا پر ایمان لانے کے تصور سے جوڑ دیتے ہیں۔ اگر ہم اس درمیانی کڑی سے نجات حاصل کرلیں اور قتل نہ کرنے کے لیے مذہبی جواز کی بجائے معاشرتی جواز پیش کریں تو ہم ارتقا کے سفر کو ایک مقام آگے بڑھائیں گے اور انسانی مسائل کے حل کے لیے خدا کی مرضی کو تلاش نہ کرتے پھریں گے۔
کیونکہ مذاہب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف قوموں اور مختلف مذاہب میں خدا کی مرضی کو مختلف ہی نہیں، متضاد انداز میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ اور کسی انسا ن کے لیے ان کی صحت کی جانچ پڑتا ل کرنا ناممکن ہے۔ اگر ہم انسانی زندگی کے معقول اور منصفانہ قوانین آپس کے مشورے سے چاہے وہ پارلیمنٹ اور چاہے وہ قانون دانوں کے حوالے سے ہوں، تلاش کرنے میں کامیاب ہو سکیں تو ہمیں اس عمل میں خدا، مذہب اور آسمانی کتابوں کو لانے کی کیا ضرورت ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

