کٹاس راج مندر میں شیو کے آنسو کی باز گشت


”ہمارے بھگوان شیو دیوتا بھی یہیں رہا کرتے تھے۔ شیو جی اور ستی دیوی میں بے انتہامحبت تھی۔ بس سمجھئے کہ جسم دو تھے لیکن جان ایک۔ مہارانی تھی بھی بہت عقل مند حکومت کے سارے معاملات میں شریک ہوتیں۔ پھر ایسا ہوا کہ دیوی کو برہما نے اپنے پاس بلالیا۔ شیو مہاراج کی تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔ بس مہارانی کی یاد تھی اور شیو جی۔ پھر ایک دن مہاراجہ شیو اپنی پتنی کی یاد میں اتنا روئے کہ ان کی آنکھوں سے بڑے بڑے دوآنسو نمودار ہوئے جن میں سے ایک یہاں گرا اوردوسرا راجستان میں۔ جو یہاں گرا اُس آنسو سے یہ جھیل بن گئی۔ اس جھیل کو آنسوؤں کی ندی بھی کہا جاتا ہے۔ اسی واقعہ کی وجہ سے اس راج کانام کٹاکشا پڑ گیا۔ سنسکرت میں اس لفظ کامطلب ہے برساتی آنکھیں۔ مہابھارت میں اس جھیل کو محبت کی جھیل بھی کہا گیا ہے۔ “

ابھی اس کی بات نامکمل ہی تھی کہ دیوتا جیسے ایک خوبصورت جوان نے اپنی چادر سیدھی کرتے ہوئے بتایا،

”یہی وہ جگہ ہے جہاں مہاراجہ شیو کا ستی دیوی سے بندھن ہوا تھا۔ اس لئے پھاگن کے مہینے میں اماوس کی رات یہاں مہاراجہ شیو اور ان کی پتنی کی شادی کی یاد کی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ اس تہوا رکو شیو راتری کہا جاتا ہے۔ پورے ہند سے ہندو اس تہوار میں شرکت کے لئے یہاں آتے ہیں۔ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے بچوں کے شادیوں کے بندھن کی رسمیں یہیں ادا ہوں۔ ہماری مذہبی کتابیں رگ وید اور مہابھارت بھی یہیں پر لکھی گئی تھیں۔ رگ وید کے مطابق اس جھیل کے اندر ایک دریابہتا ہے۔ اس جھیل میں نہانے والوں کو طاقت ملتی ہے۔ “

اس کے بعد وہ ہمیں بارہ دری سے باہر لے گیا۔ یہ ایک چھوٹا سا صحن تھا۔ جس کے ایک طرف ایک مندر تھا۔

”یہ شیو جی کا مندر ہے اور یہ دائیں طرف ہماری مہارانی کی خواب گاہ ہے۔ “ کرشنا نے اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اُٹھاکر ایک بارہ دری کی طرف اشارہ کیا۔ بارہ دری کیاتھی خواب نگر کا کوئی محل تھا یا پرستان کا کوئی شہر۔ رنگ برنگی ساڑھیوں اور چھوٹی چھوٹی کرتیوں میں ملبوس داسیاں ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی تھیں۔ بارہ دری کے جالی کے پردے ہوا سے اُڑ اُڑکر ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے اور ان میں بندھے ہوئے قیمتی پتھر ٹکرا ٹکرا کرایک سحرناک موسیقی پیدا کر رہے تھے۔

کبھی کوئی شرارتی پردہ جذبات میں بہتا ہو اآتا اوران حسینوں کے بوسے لے کر لوٹ جاتا۔ اچانک مجھے اپنی بائیں طرف کچھ شور سا محسوس ہوا۔ میں نے تھوڑا سا آگے بڑھ کر دیکھا بارہ دری کے پچھلے حصہ سے بہت سی خواتین اندر داخل ہو رہی تھیں۔ میری نظر ان کے درمیان پیلے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس ایک پری صورت پر جا رکی، پتہ نہیں وہ پری تھی کہ چاندکی شہزادی، کہکشاں سے اُترا کوئی تارا تھی یا کسی شاعر کی غزل کا استعارہ۔ دیواروں میں لگی سفید روشنیوں میں سے کوئی روشنی اس کی ساڑھی کو چھوتی تو قوسِ قزاح پیدا ہو جاتی۔

لگتا تھا اُسے فرشتوں نے دودھ سے نہلایاتھا اور پریوں نے سونے چاندی سے سجایا تھا۔ کسی ماورائی طاقت نے اُس میں بانکپن اور نزاکت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ اُس کا طلسماتی چہرہ نازک اور زیورسے بھری گردن پر اس طرح کھِلا ہوا تھا جیسے کسی نازک شاخ پرگلابی گلاب۔ کاجل سے بھری پلکیں جب اٹھتیں تو دیکھنے والوں کی پلکیں تاب نہ لاتے ہوئے عقیدت میں جھک جاتیں۔ فانوس کی روشنیاں جب اُ س نازنین کے چہرہ پر پڑیں تو کرشنا کا من بھی ڈول گیا کہنے لگا،

”یہ ہماری چھوٹی رانی ہیں اور کشمیر کے راجہ کی پُتری ہیں۔ “

اسی اثنا میں وہ حسینہ ناز دکھاتی ہوئی بارہ دری کی طرف مڑی تو باہر سے آنے والے ہوا کے ایک شوخ جھونکے نے اُس کی ساڑھی کا اوپری پلوکسی مرمریں دروازے کے پردے کی طرح اُڑادیا۔ پلو ہٹا اور کمر سے بندھا ہوا سونے کا کمر کس جھلمل کرتانمایاں ہوگیا۔ گویا کتاب ِ حُسن کادیباچہ کھل گیا۔ سونے کے کمر کس اور اُس کے ریشمی ماحول نے حُسن کی ساری کہانی کہہ دی۔ مجھے تو ہیرے جواہرات سے جڑا ہوا وہ سونے کاکمر کس ایک ایسا تعویز لگا جو اُس کے مرمریں پیٹ کے گرد نظرِ بد سے بچانے کے لئے باندھا گیا تھا۔ سونا تو یہاں ایسے تھا جیسے شادی بیاہ کی کسی تقریب کے ہال میں روشنیاں۔ لیکن اُس مومی پیٹ پر چمٹے ہوئے سونے کا بانکپن ہی نرالا تھا۔ وہ پیٹ تھا کہ پارس اگر لوہا بھی اُسے چھو جاتا تو سونا ہو جاتا۔

”یہ بارہ دری ہے جی یہاں راجاؤں کا خاندان بستا تھا۔ “

گائیڈ کے اس جملے نے مجھے خوابوں کی دنیا سے اس طرح باہر نکالا جیسے کسان مولی کو کھینچ کر زمین سے باہر نکالتاہے۔ ”آئیے اندر چلتے ہیں۔ “

گائیڈ نے کہا اور ہم ا س کے پیچھے چل دیے لیکن جونہی ہم نے ”کشمیر کی پُتری، چھوٹی مہارانی جی“ کی خواب گاہ کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا بھڑوں کے ایک دستے نے ہم پر اس طرح حملہ کیا جس طرح کوئی فوج اپنی دشمن فوج پر حملہ کرتی ہے۔

ہم بھی بھاگنے میں ماہر تھے اس لئے گائیڈ کے، ”اندر جائیے یہ کچھ نہیں کہیں گی۔ “ کہنے کے باوجود ہم نے پیچھے مڑ کی بھی نہ دیکھا۔ اب ہمیں مہارانی کا وہ کمر بند پیتل کا دکھائی دینے لگا اور مومی پیٹ پتھر کا جس کے پیچھے سے یہ بھڑیں نکل رہی تھیں۔ پتہ نہیں ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق وہ سارا قافلہ ٔحُسن ہمارے دور میں بھڑیں بن کر دوبارہ پیدا ہو گیا تھا۔ ہم نے یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان بھڑوں میں ملکہ کون سی تھی اور داسی کون سی۔ ہم بھاگ کر چھوٹے سے صحن کے پار دوسرے صحن میں آگئے۔ ہمارے گائیڈ نے ہماری کیفیت اور جذبات کو بالکل نظرا نداز کر دیا۔ ایسے چھوٹے موٹے واقعات دیکھنے کی یا تواُسے عادت تھی یا پھر اُسے جلدی تھی کہ ساری معلومات جو اُس نے رٹ رکھی تھیں ہمارے اندر انڈھیل دے۔

”یہ وہ دیوار ہے جس میں فوسلز جڑے ہوئے ہیں۔ “

گائیڈ نے جلدی سے اپنی معلومات کی کتاب کا اگلا صفحہ پلٹ دیا۔

ہم نے اشتیاق میں پوچھا،

” کہاں ہیں۔ “

اُس نے عجیب سے سیمنٹ پر دو چار انگلیاں پھیر کر ہمیں مطمئن کر دیا۔

”یہاں سے مچھلیوں اور سمندری جانوروں کے فوسلز ملتے تھے جنہیں یہ لوگ دیوار میں پرو دیتے تھے اس طرح دیوار مضبوط رہتی تھی۔ “

جب ہم اس دیوار کے پاس گئے تو اس نے مزید بتایا۔

” یہاں کی پہاڑیوں سے ڈائنو سارز جیسے جانوروں کے بھی فوسلز ملے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ علاقہ کتنا اہم اور قدیم ہے۔ “

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5