کٹاس راج مندر میں شیو کے آنسو کی باز گشت


اس دیوار کے ساتھ ہی ایک مندر تھا جس کے دروازے پر تالا پڑا تھا۔

”یہ سب سے پرانا مندر ہے۔ اسی کے پیچھے مندر کے پروہتوں کی رہائش گاہیں تھیں جو اب مٹ چکی ہیں۔ اسی جگہ سنسکرت نے بھی ایک زبان کا روپ اختیار کیاتھا۔ “

گائیڈ نے مندر کے لکڑی کے دروازے کا تالا کھولتے ہوئے بتایا۔

یہ ایک پراناسا کمرہ تھاجس میں جھروکے بنے ہوئے تھے جنہیں بند کر دیاگیا تھا۔ اندر ہندؤوں کا ایک مذہبی عَلم ا َلم کی داستان سنا رہا تھا۔ دیواروں اور چھت کا رنگ اور نقش و نگار تو کب کے ختم ہو گئے تھے البتہ اس عمارت کے زخم چھپانے کے لئے یہاں سفیدی کر دی گئی تھی۔ زمین پر شیو لنگ کا بت پڑا تھا۔

”اس بت کی نو بیاہتا جوڑے عبادت کرتے ہیں یا مرد۔ بچوں کو اجازت نہیں۔ “

گائیڈ نے مزید معلومات فراہم کیں۔

”کیا لوگ اب بھی یہاں آتے ہیں۔ “

میں نے مندر کی فعال حیثیت کو دیکھتے ہوئے گائیڈ سے پوچھا۔

”بمبئی حملوں سے پہلے تو جی شیو راتری کے تہوار پر پوری دنیا سے ہندو آیا کرتے تھے لیکن اب صرف سندھ سے ہی ہندو پوجا پاٹ کے لئے آتے ہیں۔ “

ہم اس مندر سے باہر آئے تو گائیڈ نے اس کے دروازے پر پھر قفل چڑھا دیا۔ اور چبوترے پر بنی ایک عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

”وہ سامنے ہنومان کا مندر ہے۔ آئیے وہاں چلتے ہیں۔ “

اس عمارت میں چھوٹے چھوٹے کئی ستون بنائے گئے تھے۔ ایک چھوٹی مگر اونچی سیڑھی پر مندر کا دروازہ تھا۔ جس پر قفل پڑا تھا۔

”یہاں مہارانیاں اور رانیاں پوجا پاٹ کے لئے آتی تھیں۔ “

اُس نے مندر کا دروازہ کھولتے ہوئے بتایا۔ دروازے کے دونوں اطراف بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی جگہ دیکھ کر میں نے پو چھا۔

”لگتا ہے یہاں داسیاں اور داس پھولوں کے ہار لئے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ “

”شاید جی۔ “

یہ کہہ کر اُ س نے میری توجہ مندر کے اوپر بنی ایک ایسی مورتی کی طرف دلائی جو اب اپنے نقوش کھو چکی تھی۔

”یہ شیو جی کا مجسمہ ہے۔ “

جی کا لفظ سن کر میں نے حیران ہو کر پوچھا۔

”آپ بھی ہندو ہیں کیا۔ “

” نئیں جی، الحمد اللہ مسلمان ہوں، آپ کو کیسے شک ہوا۔ “

اُسے میری یہ بات پسند نہیں آئی۔ میں نے ندامت چھپاتے ہوئے کہا۔

” آپ کی تعظیم کی وجہ سے۔ “

”نہیں جی عادت بن گئی ہے، یہی کام کرتے جوان ہوئے ہیں یہاں ہر طرح کا ٹورسٹ آتا ہے اور ہمیں ہر طرح کی زبان استعمال کرنا پڑتی ہے۔ “

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5