کٹاس راج مندر میں شیو کے آنسو کی باز گشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے، ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے

دھڑکنیں بچھا دیں گے شوخ تیرے قدموں پہ، ہم نگاہوں سے تیر ی آرتی اتاریں گے

ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں، بے قرار لمحے ہیں، بے تکان صدیاں ہیں

کوئی ساتھ میں اپنے آئے یا نہیں آئے، جو ملے گا رستے میں، ہم اسے پکاریں گے

(ناصر کاظمی)

بڑے کہتے ہیں کہ خواب ضرور دیکھنے چاہئیں، خواب دیکھیں گے، نیتیں ٹھیک رکھیں گے تو تعبیریں ملیں گی۔ ہم جیسے دیوانے بھی کیسے ہیں دولت شہرت کے نہیں فطرت اور ماضی کے قُرب کے خواب دیکھتے ہیں۔

دس سال پہلے میں اپنے دوستوں کے ساتھ کٹاس راج آیا تھا اور میں نے جاگتے میں یہ خواب دیکھا تھاکہ کاش کوئی وقت ایسا آئے کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ یہاں آؤں۔ آج میرا خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔

ایک بڑی سی انسانی بستی سے گزرے ہی تھے کہ کٹاس کے دُھندلے عکس واضح ہو نے لگے۔ وہی شان، وہی وجاہت جیسی میں نے سوچی تھی۔ سر سبز پہاڑوں میں موجودکھنڈرات۔ کسی طلسماتی دیس کی عمارات لگ رہے تھے۔ دھوپ اتنی شدید تھی کہ باہر کھڑا ہونابھی دشوار تھا۔ سکھوں کی حویلی اور پہاڑوں میں موجود غاروں پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے ہم اس کھنڈر کے اندر داخل ہوئے جسے کٹاس راج کہا جاتاہے۔ میرے سامنے کھنڈرات اس طرح پھیلے ہوئے تھے جیسے موسمِ خزاں میں بہت سے نیم کے درخت؛ ویران، چرنڈ مرنڈ۔ جیسے انہوں نے کبھی بہار دیکھی ہی نہ ہو۔ جیسے انہیں دیمک چاٹ گئی ہو، جیسے ان پر کبھی بھی کسی پرندے نے گھونسلا نہ بنا یا ہو۔ جیسے انہیں کبھی کوئی نگہبان ہی نہ ملا ہو۔ ۔ اور بس کوئی ایسا حسین جس کو اپنے ہی کسی چاہنے والے کی نظر لگ گئی ہو۔ ایسا قسمت کا مارا جو کسی کی آہ یا بددعا کا شکار ہو گیا ہو۔

مجھے یوں لگا جیسے یہ کھنڈر ہمیں دیکھ کر کہہ رہے ہوں،

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے

لوگ اپنے دیے جلانے لگے

کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم

عشق میں ہاتھ کیاکیا خزانے لگے

(باقی صدیقی)

ہم ابھی مرکزی راہداری کی دوسری سیڑھی پر تھے کہ ایک گائیڈ نے ہمیں اپنی خدمات پیش کیں۔ جنہیں ہم نے قبول کر نے میں ہی عافیت جانا۔ کچھ ہی دورایک درخت کے نیچے سندھ سے آیا ہوا ا یک ہندو خاندان یاترا کے بعد کھاناکھانے میں مصروف تھا۔ میں نے سامنے دائیں ہاتھ بارہ دری کا وہ حصہ دیکھا جو دس سال پہلے اس حالت میں تھا کہ ہم اس کی اوپری منزل پر بھی چکر لگاتے رہے تھے لیکن آج اُ س کا اوپری حصہ غائب تھا۔ گائیڈ کی زبان مسلسل چل رہی تھی ا ور میں ماضی کی اس بارہ دری میں کھویا ہوا تھا۔ مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ساری معلومات میرے دماغ کی جھیل پر جیتے جاگتے کرداروں کی طرح تیرنے لگیں۔

مجھے یوں لگا:

ہم گھوڑوں پر سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد اس ریاست کے مرکزی شہر کٹاس کے انتہائی قریب پہنچے تھے۔ جسے عام لوگ ’ست گرہ‘ کہتے تھے یہ شہرسر سبز و شاداب اور فصیل نما پہاڑوں کے قدرتی حصار میں علاقہ کی اونچی جگہ پر بسایاگیا تھا۔ کئی میل تک پھیلی ہوئی فصیل اس شہر کے باسیوں کی شان و شوکت اور ہیبت و وجاہت کوظاہر کر رہی تھی۔ اس فصیل پر حفاظت کی غرض سے ہر ایک دو میل کے فاصلہ پر چھوٹے چھوٹے مینار بنائے گئے تھے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •