کٹاس راج مندر میں شیو کے آنسو کی باز گشت
اسی دوران دروازہ کھل چکا تھا۔ دروازے کاکھلنا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے میں آرٹ گیلری میں آگیا ہوں۔ دیوار کیا، چھت کیاہر حصہ گل کاری اور چترکاری سے بھرا ہوا تھا۔ سامنے ایک محراب نما طاقچہ تھا جس میں کبھی کوئی بت رکھاجاتا ہو گا۔ چھت گولائی میں تھی جس پر ایک نمونہ لے کر گل کاری کی گئی تھی جس طرح ہمارے آج کل کے کپڑے میں ہوتا ہے کہ ایک ہی نمونہ پورے کپڑے پر دہرایا جاتا ہے لیکن وہ اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ الگ الگ محسوس نہیں ہوتا۔ دیواروں پرآرٹ کے مختلف انداز اور ڈھنگ اختیار کیے گئے تھے۔ اس پر مختلف فریمز میں تصاویر بھی تھیں، منظر نگاری بھی اور گل کاری بھی۔ تصاویر اور منظر نگاری میں ہنومان اور دیویاں چھائی ہوئی تھیں۔
”کیا یہ اصل آرٹ ہے۔ “
میں نے گائیڈ سے پوچھا۔ ”
”نہیں جی یہ والا حصہ پراناہے اور یہ باقی نیا بنا ہے۔ “
میں تو دیکھ کر حیران رہ گیا نئے اور پرانے میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سلام ہے اپنے وطن کے آرٹسٹوں کو۔ لیکن افسوس بھی کہ انہیں کوئی آرٹسٹ کامرتبہ ہی نہیں دیتا بلکہ انہیں مستری کہہ کر اُن کی تو ہین کی جاتی ہے۔ کیا عالم ہوتا ہو گا جب یہاں ماضی کے کسی راجہ کے زمانے میں پوجا ہوتی ہو گی۔ ہر طرف خوبصورتیوں کی بہار ہوتی ہو گی۔ داسیوں، یاتریوں، راجوں مہاراجوں، رانیوں اورمہارانیوں کے زرق برق لباس نے چار چاند لگا رکھے ہوں گے۔
اچانک میرے ذہن میں ایک سوال اُٹھا
”یا ریہ مندر عام لوگوں کے لئے تو نہیں ہو گا۔ “
میرا سوال سن کر گائیڈ کچھ دیر رکا اور پھر کچھ سوچ کر بولا۔
”جی سر آپ کا اندیشہ درست ہے یہ صرف شاہی مندر تھے عام لوگوں کے لئے وہ نیچے بھی مندر بنائے گئے ہیں۔ جو ان سے بہت چھوٹے ہیں اور ان کے نام بھی یہی ہیں“
میں نے کہا۔ ”اسی لئے جھیل کے اس طرف رہائشی عمارات ہیں جہاں سے ارد گرد سب کچھ دیکھا جاسکتا تھا۔ “
ان مندروں سے اوپر کچھ اور کمروں اور مندروں کے آثار موجود ہیں جو اصل میں پانڈوں کے چار شہزادوں کی یادگار ہے جنہوں نے یہاں چودہ سال سے زیادہ عرصہ جلاوطنی میں کاٹا تھا۔
یہ مندر اپنی شان و شوکت کھو چکے ہیں لیکن ان کے آثار بتاتے ہیں کہ یہ کسی زمانے میں بہت شان و شوکت کے مالک ہوں گے۔
رہاشی عمارتوں اور پانڈووں کے مندروں کے درمیان بدھوں کا ایک اسٹوپابھی ہے جو گھاس اور جھاڑیوں میں اس طرح چھپا ہوا ہے کہ لوگ اسے پہاڑی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
جھیل کے کنارے اوپری طرف کی رہائشی عمارات سے کئی سیڑھیاں نیچے جھیل تک آتی ہیں۔ غالباً انہی سیڑھیوں سے چل کر شاہی خاندان جھیل پر آتا ہو گا۔ انہی عمارات کے پیچھے سرنگ نما ایک لمبا ساکمرا ہے جس میں دائیں اور بائیں دونوں دیواروں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے ایک لمبا چبوترا ہے۔ اس کمرے کا ایک حصہ جھیل کی طرف کھلتا ہے اوردوسرا شاہی محلات کی طرف۔ غالب امکان ہے کہ یہاں محلات کی خواتین غسل کے لئے آتی ہوں گی۔ یہ تمام عمارات پہاڑیوں پر بنائی گئی ہیں اور یقینا ان کی حفاظت کا مناسب انتظام ہوتا ہو گا۔
ان عمارات میں کھڑے ہو کرمشرق کی طرف دیکھیں تو پہاڑیوں میں غاریں دکھائی دیتی ہیں جہاں ہندو پوجا بھی کرتے تھے اور ان میں جلے مُردوں کی راکھ بھی ڈالی جاتی تھی اسی پہاڑی پر شیوراتری میں شادیوں کے لئے ایک مندر بنایا گیا ہے جو صرف باہر سے آنے والے یاتریوں کے لئے ہے۔ یہیں سکھوں کی ایک حویلی بھی ہے جو آج کل حکومت کے استعمال میں ہے۔ جھیل کنارے بہت سی عمارات قرۂ ارض سے مٹ چکی ہیں۔ اسی جگہ سے کچھ دور نندنہ گاؤں میں بیٹھ کر البیرونی نے زمین کا مرکز تلاش کیا شاید انہی عمارات میں یا موجودہ کسی عمارت میں بیٹھ کراس نے کتاب الہند لکھی ہو گی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہندوؤں کے ساتھ کیسے تعلقات تھے۔
میں چاہتا تھا کہ مجھے کوئی ایسا ہندو مل جائے جس سے میں یہ جان سکوں کہ ہندو کی حیثیت میں وہ یہاں آ کر کیا سوچتا ہے۔ یعنی ہمیں اُن لوگوں کے احساسات کا اندازہ ہو جن کے کے لئے یہ جگہ اہم تھی۔ لیکن کو شش کے باجود ایسا نہ ہوا۔ سندھی خاندان کے تمام افراد نے مجھے سرکار کا کارندہ سمجھتے ہوئے اجتناب برتا۔ بس ا ن کے منہ سے ایک ہی بات نکلتی رہی حکومت ہمارے لئے بہت کچھ کر رہی ہے۔
آج جب میں اس سفر کاحال لکھنے بیٹھا تو انٹرنیٹ پر تحقیق کے دوران مجھے ڈان کی ویب سائیٹ پر ایک مضمون ملا۔ جس کے راوی نبیل احمد ڈہکو ہیں۔ یہ مضمون انگریزی میں لکھا گی تھا۔ اس مضمون کا مصنف یاتریوں کے کارواں کے ساتھ یہاں آیا تھا۔ میر ا درجِ ذیل بیان اسی مضمون سے ماخوذ ہے۔
” کٹاس میں آئے ہوئے اُن غیر ملکیوں کی ہچکیوں اور آہوں کی آوازیں مندروں کی گھنٹیوں کی آوازوں میں دب گئی تھیں جو کٹاس کی جھیل کنارے اپنی پوجا میں مصروف تھے۔ وہ ہچکیاں لے لے کر رو رہے تھے جیسے انہیں ان کی زندگی کا حاصل مل گیا ہو۔ اُن میں سے اکثر نے یہاں تک پہنچنے کے لئے کئی جتن کیے تھے۔ سوچا تھا، پیسے جمع کیے تھے، ویزوں اور پاسپورٹ کے لئے کئی دفتروں کی خاک چھانی تھی اور میلوں کے سفر کی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ شیو کے اس آنسو پر آنسو اُن کے قابو میں نہیں تھے۔ وہ جھیل میں پھول گراتے ہوئے یا اپنی مذہبی رسومات اداکرتے ہوئے ہر موقع پرآنسو بہا رہے تھے۔ ایک خاتون ’راج شری جین‘ اپنی چھوٹی سی نوٹ بک میں ایک نظم لکھ رہی تھیں۔ “
اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو اور اُ س کی قلم سے نکلنے والی ہچکیاں سن کر مجھے علامہ اقبال یاد آ گئے جنہوں نے قرطبہ کی مسجد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کی تھیں اور ایک نظم لکھی تھی۔ وہ بھی بہت روئے ہوں گے ان کا قلم بھی بہت چیخا ہو گا۔ لیکن وہ کس سے احتجاج کرتے۔ کس سے کہتے کہ میری اس مسجد کو آزاد کردو۔ وہ کیسے اُ س مسجد کی زنجیریں توڑتے۔ وہ کیسے اُس مسجد کے جذبات کو قلم بند کرتے۔ اس کے لئے تو ان کے پاس الفاظ ہی نہ تھے۔ اپنی عبادت گاہ کوزنجیروں میں قید دیکھنے کے کرب کو صرف اقبال ہی سمجھ سکتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ا لحمراکا تو مجھ پر کوئی زیادہ اثر نہیں ہوا لیکن مسجد کی زیارت نے مجھے جذبات کی ایسی کیفیت میں پہنچا دیا جو مجھے کبھی نصیب نہ ہوئی تھی۔
آج راج شری جین بھی اپنی عبادت گاہ کے باہر بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ اُ س کی عبادت گاہ آزاد تھی یہاں ہر کوئی جب چاہے آجا سکتا تھا، اس کے لئے تاجِ برطانیہ سے خصوصی اجازت نامہ نہیں لینا پڑتا۔ یہی وجہ تھی کہ آج اُ س کا پورا معابد اُ س کے قبضہ میں دے دیا گیا تھا۔
” راج شری جین نے لکھا:
عیدہو ہر دن ہمارادیوالی ہر رات ہو
دل کو دل سے جیت لیں نہیں دل کی مات ہو
عید ہو ہر دن ہمارادیوالی ہر رات ہو
آئیں جیتیں دلوں کی جنگ اس طرح کہ کسی دل کی ہار نہ ہو
عید ہو ہر دن ہمارادیوالی ہر رات ہو
اُسے بس ایک ہی شکایت تھی۔
”میں سار اپاکستان پھرناچاہتی ہوں لیکن میرا ویزا مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ “
ایک اور صاحب نے بتایاکہ بھارت میں کارواں در کارواں لوگ تیار بیٹھے ہیں لیکن انہیں یہاں آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
ایک بزرگ کہنے لگے، ”خدا کے لئے مجھے میرا گھر میری گلیاں ایک مرتبہ دیکھنے دو۔ میں وہاں پیدا ہو اتھا۔ اُن گلیوں میں میں نے کل کے سپنے دیکھے تھے۔ “
ایک خاتون نے یہ کہہ کر اس ساری بحث کو گنگ کر دیا۔
”For now، Lord Shiva continues to shed his tears for peace، but his teardrops are yet to reach the rulers of Pakistan and India۔ “
Lord Shiva weeps for peace by Nabeel Anwar Dhakku
http://www۔ dawn۔ com/news/ 1096571


