روس اور گرم پانیوں کا افسانہ
ہمارے ہاں ضیا الحق کے دور میں یہ تاثر شدت سے دیا گیا کہ سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچ سکے، اور افغانستان کے بعد سوویت یونین کے حملے کا اگلا نشانہ پاکستان ہوتا۔ کارٹر دور کے مشیر برائے قومی سلامتی، برزنسکی اپنے انٹرویو میں، اور رابرٹ گیٹس اپنی کتاب میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اسے امریکہ نے افغانستان میں کھینچا تھا۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے واشنگٹن میں 1962 سے لے کر 1986 تک سفیر رہنے والے اور چھے امریکی صدور کے ساتھ کام کرنے والے اناطولی دوبرینن بھی 1995 میں امریکہ سے شائع ہونے والی اپنی کتاب میں بھی یہی بات کہہ چکے ہیں۔
لیکن ہم ابھی تک اسی گمان میں ہیں کہ یہ سارے سوویت اور امریکی جھوٹے ہیں اور سوویت یونین نے گرم پانیوں کی چاہ میں افغانستان پر حملہ کیا تھا اور اس کا اگلا نشانہ پاکستان ہونا تھا۔
ڈی کلاسیفائیڈ فائلیں محققین کے لیے تاریخ کو درست کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں سوویت یونین کی پولٹ بیورو کی چند ڈی کلاسیفائیڈ فائلیں اور ان معاملات کی حقیقت کو جاننے کی ایک کوشش کرتے ہیں۔
پولٹ بیور کی ڈی کلاسیفائیڈ فائلوں کے مطابق سترہ مارچ 1979 کو سوویت پولٹ بیورو کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں افغانستان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ کوسیجن نے پولٹ بیورو کو بتایا کہ سوویت مشیر کے مطابق ہرات کے صوبے میں سرکاری فوج ٹوٹ کر باغیوں سے مل رہی ہے۔ لیکن میری ترکئی کے نائب حفیظ اللہ امین سے بات ہوئی ہے تو وہ یقین دہانی کرا رہا ہے کہ صورت حال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ لیکن آدھے گھنٹے بعد ہی ترکئی نے سوویت نمائندوں کو بلا کر کہا ہے کہ صورت حال بری ہے اور اسے اسلحہ اور امداد چاہیے۔
اس صورت حال پر پولٹ بیورو میں ایک طویل بحث ہوئی۔ سوویت یونین اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں وہ ایک دوست افغانستان سے محروم نہ ہو جائے اور یہ ملک امریکی کیمپ میں نہ چلا جائے۔ کوسیجن کو افغان صدر نور محمد ترکئی سے ملاقات کا حکم دیا گیا اور تین دن بعد بیس مارچ کو ترکئی ماسکو پہنچے۔
ابتدائی جملوں کے بعد کچھ ایسی بات چیت ہوئی۔
کوسیجن: سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ سوویت یونین اور افغانستان کی دوستی کوئی موسمی شے نہیں ہے۔ یہ مشروط، یا عارضی نہیں ہے بلکہ مدت دراز سے قائم و دائم ہے۔ ہم آپ سے لڑنے والے دشمنوں کے خلاف پہلے بھی مدد دیتے رہے ہیں، اور مستقبل کے دشمنوں کے خلاف بھی یہی کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
ہم نے آپ کے ملک میں ابھرنے والی صورت حال پر سنجیدگی سے بحث کی ہے۔ ان مسائل کو سلجھانے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، لیکن سب سے بہتر وہی طریقہ ہو گا جو کہ عوام کی نظر میں آپ کی حکومت کی بالادستی کو قائم کرے۔
ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ایسا تاثر ابھرے کہ آپ اپنے ملکی مسائل پر قابو پانے کے قابل نہیں تھے اور آپ نے غیر ملکی فوجوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا ہے۔ میں ویت نام کی مثال دینا پسند کروں گا۔ ویت نامی عوام کو امریکہ کے خلاف ایک مشکل جنگ سے نبرد آزما ہونا پڑا، اور اب وہ چینی جارحیت کا مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی ویت نامیوں پر غیر ملکی فوجی دستے استعمال کرنے کا الزام نہیں لگا سکتا ہے۔ ویت نامی اپنے زور بازو سے جارحین کے خلاف اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے پاس اتنی افواج ہیں جو کہ انقلاب دشمنوں کے حملوں کا توڑ کر سکیں۔ آپ کو صرف اتحاد اور نئی فوجی ترتیب قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم آپ کو تمام دستیاب وسائل سے مدد فراہم کریں گے۔ ہم آپ کو اسلحہ اور گولہ بارود بھیجیں گے، آپ کے فوجی اور داخلی معاملات کے انتظام میں مدد دینے کے لیے آپ کو مشیروں کی خدمات فراہم کریں گے اور جدید فوجی اسلحے کے استعمال کے لیے ماہرین دیں گے۔
لیکن ہماری فوجوں کی افغانستان میں تعیناتی پر بین الاقوامی کمیونٹی فوری طور پر حرکت میں آئے گی اور اس کے خلاف کئی ناسازگار کثیر الجہتی عواقب پیدا ہوں گے۔ حقیقت میں یہ امر نہ صرف کہ سامراجی ممالک سے ایک تنازع ہو گا، بلکہ یہ اپنے عوام کے خلاف تصادم بھی ہو گا۔
ہمارے مشترکہ دشمن اس وقت کے شدت سے منتظر ہیں جب کہ سوویت افواج افغان علاقے میں نمودار ہوں گی۔ یہ امر ان کو اپنی افواج افغانستان میں بھیجنے کا جواز فراہم کر دے گا جو کہ آپ کے خلاف جارحیت پر آمادہ ہوں گی۔ میں اس چیز پر دوبارہ زور دیتا ہوں کہ ہم نے سوویت افواج کی افغانستان میں تعیناتی کے سوال کا ہر پہلو سے جائزہ لیا ہے۔ ہم نے بہت احتیاط سے اس قدم کی ہر جہت کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر ہمارے فوجی دستے متعارف کرائے گئے تو آپ کے ملک کی صورت حال بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہو جائے گی۔ ہم اس امر کو مسترد نہیں کر سکتے ہیں کہ ہمارے دستوں کو نہ صرف غیر ملکی جارحین سے نبرد آزما ہونا ہو گا، بلکہ آپ کے عوام کی ایک خاص تعداد سے بھی لڑنا پڑے گا۔
اور عوام کبھی بھی ایسی چیز نہیں بھولتے ہیں۔

ہم آپ کی مدد کی خاطر آپ کے ہمسایہ ممالک پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ اور کثیر الجہتی معاونت استعمال کریں گے۔ یہ طریقہ فوجی دستوں کی تعیناتی سے کہیں زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا باعث ہو گا۔
ترکئی: ہمارے انقلاب کے نتجے میں ہمارے سامراجی دشمنوں کا کینہ پرور ردعمل پیدا ہوا ہے۔ ہماری زرعی اصلاحات اور دوسرے اقدامات کے باعث پاکستان اور ایران کے عوام پر ایک اچھا تاثر قائم ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان ممالک کی رجعت پسند قوتوں کے دل خوف سے بھر گئے ہیں، اور ردعمل میں انہوں نے تخریب کاری میں اضافہ کر دیا ہے اور دہشت گرد بھیجنے شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے ہمارے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے اور ہمیں مرتد قرار دے دیا ہے۔ پاکستان کے حکمران مظاہروں میں گونجنے والے \”افغانستان زندہ باد\” اور \”ترکئی زندہ باد\” کے نعروں سے بے انتہا خوفزدہ ہو گئے ہیں۔
ہمارے ملک میں نہ صرف اخوان المسلین کے اراکین چھپ چھپ کر آ رہے ہیں، بلکہ افغان فوج کے یونیفارم میں پوری کی پوری سب ڈویژنیں آ رہی ہیں جو کہ تخریب کاری اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہیں۔
کوسیجن: ضیا الحق کی طرف سے ایک بیان موصول ہوا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ پاکستان، افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا، اور صرف افغان مہاجرین کو محض اسی صورت میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد دے گا اگر ان کی سرگرمیاں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں خرابی کا موجب نہیں بنتی ہیں۔
ترکئی: وہ صرف انسانی ہمدردی کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ خود ہی ہمارے خلاف کمانڈوز کی تربیت کر رہے ہیں۔
کوسیجن: ہم اتنے بھولے نہیں ہیں کہ ضیا کے ہر لفظ پر یقین کر لیں، لیکن ایک بیان دیا گیا ہے اور وہ بیان ایک بندھن میں باندھتا ہے۔ ایک اور خبر ہے۔ ایرانی حکومت نے تمام غیر ملکی کارکنوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔
ترکئی: یہ حکم امریکیوں کے خلاف اٹھایا گیا ایک قدم لگتا ہے۔
کوسیجن: یہ امکان ہے کہ ایران میں ہمارے ماہرین کی تعداد امریکی ماہرین سے زیادہ ہو۔ ایران میں کتنے افغان کام کر رہے ہیں؟
ترکئی: دو لاکھ سے کم تو نہیں ہوں گے۔ اگر ان کو ملک بدر کیا گیا تو ان افغان کارکنوں کے بھیس میں گوریلے بھی افغانستان میں آئیں گے، کیونکہ محض حلیے سے یہ پتہ لگانا ناممکن ہے کہ کون افغان ہے اور کون ایرانی۔ یہاں میں افغان فوج کی ضروریات کا سوال اٹھانا چاہتا ہوں۔ ہم بکتر بند ہیلی کاپٹر، مزید بکتر بند گاڑیاں اور انفینٹری گاڑیاں، اور جدید ذرائع مواصلات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

استینوف: یہ لگ رہا ہے کہ ہم بلٹ پروف ایم آئی 24 ہیلی کاپٹروں کی بات کر رہے ہیں۔ ہم آپ کو چھے ایسے ہیلی کاپٹر جون جولائی میں دے دیں گے، اور مزید چھے آپ کو اس سال کی چوتھی سہ ماہی میں دے دیے جائیں گے۔
ترکئی: ہمیں ان ہیلی کاپٹروں کی اشد ضرورت ہے، اور یہ بہت ہی اچھا ہو گا اگر وہ پائلٹوں کے ساتھ مل جائیں۔
کوسیجن: ہم آپ کو مرمت کے لیے ماہرین دے سکتے ہیں، جو کہ ان ہیلی کاپٹروں کی ائیرپورٹ پر سروس کریں گے، لیکن جنگی عملہ دینے سے قاصر ہیں۔ ہم اس معاملے پر پہلے ہی بات کر چکے ہیں۔
استینوف: آپ کو اپنے پائلٹ تیار کرنے چاہئیں۔ ہم آپ کے افسران کی تربیت میں تیزی لا سکتے ہیں۔
ترکئی: شاید ہم یہ ہیلی کاپٹر پائلٹ ویت نام یا کسی دوسرے ملک سے حاصل کر پائیں، مثلاً کیوبا سے۔
کوسیجن: جیسا کہ میں پہلے ہی کہ چکا ہوں، ہم ویت نام کی بہت زیادہ مدد کر چکے ہیں، اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی یہ فرمائش نہیں کی ہے کہ ہم اپنے پائلٹ بھیجیں۔ انہوں نے صرف تکنیکی ماہرین کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم چار سو افغان افسران کی تربیت کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کا انتخاب کریں جو آپ کی ضرورت ہیں، اور ہم ان کی تربیت میں تیزی لے آئیں گے۔
ترکئی: ہم ہیلی کاپٹروں کی فراہمی میں تیزی کے شدت سے خواہش مند ہیں۔ ہمیں ان کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
استینوف: لیکن آپ کو ان ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں کے بارے میں بھی کچھ سوچنا چاہیے۔
ترکئی: ظاہر ہے کہ ہم یہی کریں گے۔ اگر ہم ان کو اپنے ملک میں نہیں ڈھونڈ پائیں گے تو ہم ان کو کہیں اور تلاش کریں گے۔ دنیا بہت بڑی ہے۔ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو ہم ان پائلٹوں کو ان افغانوں میں تلاش کریں گے جو کہ آپ کے ملک میں پڑھ رہے ہیں۔ لیکن ہمیں قابل اعتماد افراد کی ضرورت ہے۔ اور ان افغان افسران میں جنہیں ہم نے پڑھنے کے لیے سوویت یونین بھیجا تھا، بہت سوں کا تعلق اخوان المسلمین اور چینی ہمدردوں سے ہے۔
کوسیجن: ہم اخوان المسلمین کو واپس بھیج سکتے ہیں، اور آپ کے قابل اعتماد افراد کی تربیت تیز تر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کو بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور میزائیل گاڑیاں مفت میں فراہم کریں گے۔
ترکئی: آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اس وقت میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک لاکھ ٹن گندم ہمارے لیے کافی نہیں ہے۔ جن مالکان کی زمینیں ہم نے ضبط کر لی تھیں، انہوں نے زمینیں کاشت نہیں کی ہیں۔ اور چند مقامات پر فصلیں تباہ بھی کی گئی تھیں۔
کوسیجن: آپ کو ایک لاکھ ٹن گندم محض اس قیمت پر ملے گی جو کہ آپ کو سرحد سے ملک کے اندر ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے چاہیے۔
ترکئی: پہلے پاکستان نے ہمیں دو لاکھ ٹن گندم بیچنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ اپنے وعدے سے پھر گئے ہیں۔ ہمیں کم از کم تین لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ہے۔
کوسیجن: کیونکہ آپ پاکستان کو پیسے دینے کے لیے تیار تھے، تو آپ کے پاس پیسے ضرور ہوں گے۔ ہم ان پیسوں سے امریکہ سے گندم خرید کر افغانستان منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مثال کے طور پر، دو لاکھ ٹن گندم کی قیمت چالیس ملین ڈالر ہو گی۔
ترکئی: اتنی رقم کا بندوبست کرنا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔
کوسیجن: آپ کے لیے جتنے پیسوں کا بندوبست ممکن ہے کر دیں، اور ان کی ہم آپ کو گندم خرید دیں گے۔
ترکئی: اگر ہم ذرائع تلاش کرنے سے قاصر ہوئے تو ہم آپ سے گندم کی مدد کی درخواست کریں گے۔ ہمارا فوجی بجٹ بھی اس امید کے ساتھ پلان کیا گیا ہے کہ قرضے اور سود کی مد میں تاخیر کی سہولت دی جائے گی۔
کوسیجن: مفت کی فوجی امداد کی صورت میں ہم آپ کو ملٹری بجٹ کی مد میں خاطر خواہ مدد دے چکے ہیں۔ ہم ادائیگی میں مزید تاخیر کے بارے میں سوچ بچار کریں گے۔
ترکئی: ہمیں ایک طاقتور ریڈیو سٹیشن کی ضرورت ہے جو کہ ہمیں ساری دنیا میں پروپیگنڈا نشر کرنے کے قابل بنائے گا۔
کوسیجن: ہم اس پر سوچ بچار کریں گے۔
استینوف: مزید ملٹری مشینری کی سپلائی کے ضمن میں، مزید فوجی ماہرین اور مشیروں کی ضرورت ہو گی۔
ترکئی: اگر آپ کا خیال ہے کہ ایسی ضرورت ہو گی، تو ظاہر ہے کہ ہم اسے قبول کریں گے۔ لیکن کیا آپ ہمیں سوشلسٹ ملکوں کے پائلٹوں اور ٹینک آپریٹروں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے؟
کوسیجن: جب ہم فوجی ماہرین کی بات کرتے ہیں تو ان سے ہمارا مطلب ہوتا ہے وہ مکینک جو کہ فوجی مشینری کی سروس کرتے ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بار بار پائلٹوں اور ٹینک آپریٹروں کا سوال کیوں اٹھتا ہے؟ یہ ہمارے لیے ایک قطعی غیر متوقع سوال ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ سوشلسٹ ممالک اس بات پر راضی نہیں ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو بھیجنے کا سوال، جو کہ آپ کے ٹینکوں میں بیٹھ کر آپ کے لوگوں پر گولہ باری کریں گے، ایک ناخوشگوار سیاسی سوال ہے۔
ترکئی: ہم یہ دیکھیں گے کہ ہم ان افغان فوجیوں کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو کہ آپ کے ہاں تربیت کے لیے پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں۔ شاید ہم ان لوگوں کی تربیت کرنے کا مطالبہ قبول کرنے کی درخواست کریں گے جن کا انتخاب ہم خود کریں گے۔
استینوف: بالکل بالکل، ہم انہیں تربیت کے لیے قبول کریں گے۔
کوسیجن: اس گفتگو کا حاصل کلام یہ ہے کہ ایک طاقتور ریڈیو سٹیشن کی تعمیر کا سوال ابھی باقی رہتا ہے، فوجی امداد کی تیزی سے فراہمی کی جائے گی، اور آپ ہمارے ہاں تربیت پانے والے افغان افراد میں سے ہیلی کاپٹر پائلٹوں کا انتخاب کریں گے۔ اگر آپ کی مزید درخواستیں یا خواہشات ہوں، تو آپ ہمیں سوویت سفیر یا چیف ملٹری ایڈوائزر کے ذریعے مطلع کر سکتے ہیں۔ ہم ان کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کریں گے، اور موزوں طریقے سے ردعمل دیں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ اہم ہے کہ اپنے ملک میں آپ اپنی سوشل سپورٹ کو بڑھانے کے لیے کام کریں، لوگوں کو اپنی سمت کھینچیں، اور یہ بات یقینی بنائیں کہ کچھ بھی لوگوں کو آپ کی حکومت سے دور نہ کرے۔
قارئین اس میٹنگ کے چھے مہینے بعد 14 ستمبر 1979 کو حفیظ اللہ امین نے نور محمد ترکئی کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 24 دسمبر کو سوویت یونین کی افواج نے افغان بارڈر کراس کر لیا۔ 27 دسمبر کو حفیظ اللہ امین کو قتل کر دیا گیا اور ببرک کارمل صدر کے منصب پر فائز ہو گئے۔ سوویت یونین کو شبہ تھا کہ حفیظ اللہ امین کا جھکاؤ امریکہ کی طرف ہے اور افغانستان ایک امریکی اتحادی کی حیثیت سے سوویت یونین کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔
اس دستاویز سے، اور دوسری امریکی اور سوویت دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت ایک طویل عرسے سے سوویت یونین سے درخواست کر رہی تھی کہ وہ اپنے فوجی افغان حکومت کی طرف سے لڑنے کے لیے بھیجے، لیکن سوویت یونین اس کی مخالفت کر رہا تھا۔ لیکن حفیظ اللہ امین کی بغاوت، اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئی اور سوویت یونین کو بادلِ ناخواستہ فوجی دستے افغانستان میں بھیجنے کا قدم اٹھانا پڑ گیا۔
دوسرا حصہ



؟؟