دوسری شادی: دوسرا رخ
صبا اور حمیرا دونوں ایک ساتھ آتی جاتی تھیں۔ صبا کا گھر حمیرا کے گھر سے آگے تھا وہ اسے دروازے پہ اتار کر آگے بڑھ جاتی تھی۔ اس لیے حمیرا کو کبھی آنے جانے کی مشکل پیش نہ آئی۔
وقت گزرتا رہا۔ کمپنی کا آڈٹ شروع ہوا اور سبھی دیر تک آفس رکنے لگے۔ باس بھی روز دفتر آتے اور حمیرا کی اکثر ملاقات رہنے لگی۔ چند دن میں حمیرا باس کی فیورٹ امپلائی لسٹ میں شامل ہوگئی۔ مختلف شہروں کے آفسز کے کھاتے بھی انہیں دیکھنے پڑ رہے تھے کیونکہ کچھ لوگوں نے کمپنی کا نقصان کیا تھا۔
آڈٹ رپورٹ تیار ہوگئی تو باس نے آفس آنا کم کردیا البتہ بونس الاونس کے ساتھ ساتھ ایک ڈنر کا اہتمام کروایا گیا اور تمام آفس کے افراد کو ایک پر فضا مقام پر مدعو کیا گیا۔
صبا اور حمیرا دونوں نے آفس روٹین سے ہٹ کر تیاری کی۔ حمیرا نے طلاق کے بعد پہلی بار میک اپ کیا تھا۔ اس نے سبز رنگ کا سوٹ اور ہلکی سے جیولری بھی پہن رکھی تھی۔
مقررہ وقت پر سب جمع ہوگئے اور باس محسن ملک کا انتظار کرنے لگے۔
محسن ملک نے آنے سے پہلے مینجر کو کچھ ہدایات دے دیں تھیں اسی لئے مینجر نے کھانے کے آرڈر کے ساتھ کچھ اور بھی ہدایات ہوٹل کے مینجر کو کردی تھیں۔
محسن ملک آچکے تھے اور کھانا شروع ہوچکا تھا۔ آفس کے 9 مرد اور حمیرا صبا دو خواتین تھیں۔ محسن ملک آج پہلی بار شلوار قمیض میں نظر آئے۔ حمیرا کو کچھ عجیب سا لگ رہا تھا کہ جیسے محسن ملک بار بار اسے دیکھ رہے ہیں۔
شاید پہلی بار حمیرا کو بہتر انداز سے تیار ہوئے دیکھا تھا۔ حمیرا بھی محسن ملک سے نگاہیں چرانے لگی۔ کھانے کے بعد جب سویٹ ڈش کا دور شروع ہوا تو مینجر نے سب کے سامنے کاغذ کے بند لفافے رکھ دیے اور دو لوگوں کو خوشخبری سنائی کہ اس سال ان کا نام کپمنی کی حج لسٹ میں آگیا ہے۔ کمپنی ہر سال ہر شہر سے دو لوگ حج کے لئے بھجواتی تھی اور تمام خرچ کمپنی کے ذمہ ہوتا تھا۔
مینجر نے رقم والے لفافے تقسیم کرنے کے بعد سب کا شکریہ ادا کیا۔ رسمی الوداعی لمحات کے بعد سب کو رخصت کردیا گیا۔
صبا نے محسن ملک کا شکریہ ادا کیا تو حمیرا نے بھی آہستہ سے شکریہ کہا۔ محسن ملک نے کان پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ آپ نے کچھ کہا حمیرا؟ ان کا اشارہ ایسا تھا جیسے انہیں سنائی نہ دیا۔ حمیرا نے جھجکتے ہوئے پھر کہا۔ جی سر۔ شکریہ۔ اس کی آواز پھر بھی دھیمی تھی اور وہ بہت گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔
محسن ملک نے پھر سے کہا : آپ نے شاید ڈنر ٹھیک سے نہیں کیا حمیرا۔ آپ کی تو آواز ہی نہیں نکل رہی۔ صبا ہنسنے لگی۔ اس نے کبھی محسن ملک کو اس طرح کسی سے بے تکلف ہوتے نہ دیکھا تھا۔
حمیرا شرمانے لگی۔ اس کا چہرہ جھکا ہوا تھا۔ محسن ملک نے پھر کہا: ویٹرز کو بلواتے ہیں آپ کے لئے کھانا دوبارہ لگواتے ہیں۔
حمیرا سمجھی شاید محسن ملک سنجیدہ ہیں اس نے گھبرا کر منہ اوپر اٹھایا: نہیں نہیں۔
محسن ملک پر اسرار نگاہوں سے اس کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک لمحے کو دونوں کی نگاہیں چار ہوئیں اور حمیرا کو ایک سحر نے جکڑ لیا۔ محسن ملک کی نگاہوں نے ایک حفاظتی حصار باندھ لیا۔ حمیرا کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ کسی کی پناہ میں آگئی ہے۔ چند لمحوں میں صبا کو احساس ہوگیا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ وہ دھیرے دھیرے پیچھے ہٹنے لگی۔
محسن ملک عمر کی پچاس بہاریں دیکھ چکنے کے بعد اب بچوں کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی محض چھ ماہ تک چلی کیونکہ جس خاتون سے انہوں نے بچوں کی خاطر شادی کی تھی وہ محض دولت جمع کرنے کی شوقین نکلی۔ محسن ملک کے دو بچے، اٹھارہ سال کا بیٹا اور سولہ سال کی بیٹی تھی۔ بیٹے کی تو ان کو زیادہ فکر نہ تھی لیکن بیٹی کے لئے وہ کوئی سمجھدار خاتون بچوں کی ماں کے روپ میں لانا چاہتے تھے جو ان کی بیٹی کا خیال بھی رکھ سکے اور ان کی آئیندہ زندگی کی ساتھی بھی بنے۔ حمیرا کے ساتھ چند دن مسلسل کام کے سلسلے میں جو ربط قائم ہوا اس میں محسن ملک نے حمیرا کی شخصیت میں ایک ذمہ دار اور مخلص ماں کو دیکھ لیا تھا۔
صبا کے ذریعے حمیرا کی کہانی سن چکے تھے اور اس کی ماں کی فکر سے بھی آگاہ تھے۔ آج جب انہوں نے حمیرا کو ایک الگ سے روپ میں دیکھا تو ان کے دل میں حمیرا کی چاہت کے جذبات بھی ابھرنے لگے اور یہیں ڈنر کی ٹیبل پر وہ اسے اپنانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ اب حمیرا کی آنکھوں میں جھانک کر یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ حمیرا ان کو انکار نہیں کرے گی جب وہ اس کا رشتہ مانگیں گے۔
صبا اور حمیرا دونوں گھر کے لئے نکل آئیں۔ راستے میں صبا نے محسن ملک کی دلچسپی کے حوالے سے بات کی تو حمیرا نے خاموشی اختیار کی۔ صبا نے پھر اصرار کیا تو حمیرا نے دکھی دل سے عاطف کی بے وفائی کا تذکرہ چھیڑدیا۔
صبا: یار اس بیوفا کم ظرف آدمی کا نام بھی نہ لو۔ اسے تمہاری قدر اب آئے گی جب نورین کے تیور دیکھے گا۔
حمیرا: صبا مجھے لگتا ہے سب مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔
صبا: نہیں یار ایسا نہ کہو۔ محسن ملک کے ساتھ برسوں کام کیا ہے میں نے کبھی کوئی نامناسب حرکت حتی کہ کوئی غیر اخلاقی بات تک نہ سنی ان سے۔ ہمیشہ عزت سے پیش آتے ہیں۔
حمیرا: ہاں یہ تو ان چند دنوں میں کام کے دوران مجھے بھی اندازہ ہوگیا کہ وہ ایک غیر معمولی شخصیت ہیں۔ ایک نفیس انسان۔
صبا نے حمیرا کو یہ بات سمجھانے میں سارا سفر طے کیا۔ گھر پہنچنے تک حمیرا کا ذہن محسن ملک کو قبول کرنے کو تیار تھا۔
چند روز بعد محسن ملک نے حمیرا کے گھر جاکر اس کی ماں سے رشتہ مانگا اور پھر سادگی سے نکاح کرکے حمیرا کو اپنے گھر لے آئے۔
حمیرا کی زندگی کو دوسرا رخ دوسری شادی نے دیا جب شادی کی پہلی رات اسے اپنا آپ بہت معتبر اور قیمتی لگنے لگا۔
سہاگ رات حمیرا کے لئے کسی سہانے خواب جیسی تھی۔ محسن ملک نے تحائف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ جو محبت اسے دی وہ اس کی زندگی میں بہار جیسی تھی۔
محسن ملک نے حمیرا کے انگ انگ سے لپٹی مایوسی کو اپنے لبوں سے چن لیا تھا۔ اس شدت کی چاہت نے اس کے بدن کی ہر شاخ کو ہرا کردیا۔ وہ رات بھر موسم بہار میں برستی نرم پھوار سے اپنے تن من کو بھگوتی رہی۔ پہلی بار اسے اپنا آپ مکمل ہوتا نظر آیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

