دوسری شادی: دوسرا رخ
حمیرا: جی۔ سب بہنیں اور سہیلیاں اسی لئے آئی ہیں کہ ہم رات بھر باتیں کریں گے۔ حمیرا نے بھی بجھے بجھے لہجہ میں کہا تو محسن ملک اس کے قریب ہوگئے۔
محسن ملک: کیسی عجیب بات ہے۔ ابھی کل تک تو میں ایک بوڑھا شخص تھا جسے اپنے نوجوان بچوں اور کاروبار کی فکر کھائے جاتی تھی۔ اور آج تو میں صرف ایک عاشق بیقرار بن گیا ہوں۔ انہوں شرارت بھرے لہجے میں کہا اور دونوں ہنسنے لگے۔ کچھ دیر دل لگی کرتے رہے اور پھر حمیرا نے انہیں رخصت کردیا۔ ابھی پلٹی بھی نہ تھی کہ ہر طرف سے قہقہے گونجنے لگے۔ حمیرا کی سہیلیوں نے عاشق بیقرار کی باتوں کا حوالہ دے کر خوب چھیڑا۔ حمیرا نے تھوڑی ناراضگی دکھائی کہ اس طرح چھپ چھپ کر انہوں نے باتیں کیوں سنیں لیکن سب مذاق کرتی رہیں۔
حمیرا کی ماں بہت خوش تھی۔ وہ بار بار اپنی بیٹی کو چومتیں اور محسن ملک کو دعائیں دے رہی تھیں۔ محض ایک دن میں ان کی ساری زندگی بدل گئی تھی۔ ان کی فکر اب فخر میں بدل گئی اور بے چینی اب سرور میں ڈھل گئی تھی۔ حمیرا کی دوست صبا اسے بار بار چھیڑ رہی تھی کہ ہمیں اپنی سہاگ رات کے متعلق بھی کچھ بتاؤ۔
صبا: محسن ملک جس طرح نوجوانی کی باتیں کررہے ہیں نظر آتا ہے کہ خوب رنگ جما رات بھر۔ کمرے میں سب کے قہقہے گونجنے لگے۔ حمیرا کی شرمیلی طبیعت میں اچانک شوخی آگئی۔
حمیرا: وہ جیسے سنجیدہ نظر آتے ہیں ویسے ہرگز نہیں۔ ندیم بیگ بنے رہے رات بھر۔ حمیرا نے ہنستے ہوئے کہا تو اوہو ہائے ہائے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
صبا : اور آپ یقینا شبنم بن گئیں ہوں گی۔ سب ہنسنے لگے اور اسی طرح رات دیر تک سہیلیاں اور بہنیں باتیں کرتی کرتی سوگئیں۔
حمیرا تھکی ہوئی تھی لیکن اسے اپنے پہلو میں محسن ملک کی کمی کا شدت سے احساس تھا۔ دل میں طوفان اٹھتا رہا کہ ابھی انہیں بلا لے۔ رات 2 بج رہے تھے جب سبھی سوچکے تھے صرف صبا اور حمیرا جاگ رہی تھیں۔ حمیرا کا دل بے چین ہوا اور فون کی بیل بجی۔ اسے پتا تھا وہ جھٹ سے اٹھی اور صبا مسکرائی۔
صبا: ہاں اس وقت تو آپ کے ہیرو صاحب ہی ہوسکتے ہیں جائیے۔
حمیرا نے ریسیور دوسری بیل پہ اٹھا لیا۔
محسن ملک: آپ شایدانتظار میں تھیں؟
حمیرا: جی نیند نہیں آرہی تھی۔
محسن ملک: آجائیں ہم؟ آواز میں کچھ شوخی تھی۔
حمیرا: اب رات گزرنے کو ہے۔ آپ صبح جلدی آجائیے گا۔
محسن ملک: آپ کے بنا تو یہ رات گزرتی نظر نہیں آتی زوجہ۔ محسن ملک نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا اور حمیرا کا دل ایک بار پھر کھل اٹھا۔
حمیرا : اتنی یاد آرہی ہوں؟
محسن ملک: آپ کو بھولیں گے تو یاد آئیں گی۔ ہماری تو جاں پر بنی ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ ہاتھوں سے سورج کو نکال لائیں جاکر۔ صبح تو ہو۔ دروازے پہ کھڑا پائیں گی۔
حمیرا: جی آپ کو ناشتے کی دعوت ہے آج امی کی طرف سے۔ یاد رکھئے گا۔ میں ناشتہ آپ کے ساتھ ہی کروں گی۔
محسن ملک: جی جی بالکل یاد ہے۔ اسی لئے تو کہا کہ بس صبح تو ہو۔ ہماری زندگی میں ایسی کٹھن رات کبھی نہ آئی بس غلطی ہوگئی۔ ایک بار آپ کو واپس لے آئیں پھر آپ کو اجازت نہیں دیں گے کبھی اس طرح ہمیں تڑپتا چھوڑ کر جائیں۔
محسن ملک نے کسی عاشق بیزار کی طرح کہا تو حمیرا کا دل اور بے چین ہوگیا۔
کچھ دیر یونہی فون پہ دونوں جدائی کا دکھ روتے رہے پھر حمیرا سونے چلی گئی۔ صبا بھی اس دوران سوچکی تھی۔
حمیرا۔ حمیرا۔ کوئی اس کے کندھے پکڑے جھنجوڑ رہا تھا۔ اس نے بہت مشکل سے آنکھیں کھولیں۔
فجر ہوگئی کیا؟ حمیرا نے اونگتے ہوئے کہا
نہیں صبح کے 7 بج رہے ہیں اور محسن ملک ناشتہ کرنے آن پہنچے ہیں۔ نائلہ کی سرگوشی پر حمیرا کے کان کھڑے ہوگئے۔ وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی۔
اتنی صبح صبح؟ وہ حیرانگی سے بولی۔ امی کہاں ہیں؟ ناشتہ کون بنا رہا ہے؟ ان کے پاس کون بیٹھا ہے؟ حمیرا نے لگاتار کئی سوال جڑ دیے۔
اوہو۔ یہ سب چھوڑو۔ اٹھو بلا رہے ہیں۔ نائلہ نے ماتھے پہ ہاتھ مارا۔ کیسا بے چین میاں ہے آپی تمہارا!
صبا بھی اب اٹھ بیٹھی اور صورتحال کا جائزہ لے کر ہنس رہی تھی۔
صبا: موصوف صبح سویرے پہنچ گئے۔ کیا کردیا تم نے ہمارے باس کو۔ وہ سرگوشی کے انداز میں بولی تو حمیرا نے خفگی سے دیکھا۔
حمیرا: پتا نہیں یار۔ اس سب کی تو مجھے بھی امید نہ تھی۔ میں تو خود خواب کی کیفیت میں ہوں اور اب دل ڈرتا ہے کہ آنکھ نہ کھل نہ جائے۔ حمیرا نے افسردگی سے کہا تو صبا نے اٹھ کر اس کا ہاتھ دبایا۔
صبا: اللہ نے تمہیں صبر کا پھل دیا ہے۔ ڈرو نہیں یہی حقیقت ہے۔ تم خوش رہو گی۔ مایوسیوں کا دور گزر گیا۔ تم نے بہت دکھ اٹھائے ہیں جانی۔ اب اور نہیں۔
دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئیں۔ نائلہ نے ایک بار پھر کمرے میں جھانک کر حمیرا کو آنکھیں نکالیں تو وہ جلدی سے اٹھ کر منہ دھونے چلی گئی۔
محسن ملک کے پاس حمیرا کی امی بیٹھی تھیں۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئیں کہ ناشتہ لگادوں۔
ان کے جانے کے بعد محسن ملک اٹھے اور حمیرا کو بانہوں میں بھر لیا اور بولے۔ گڈ مارننگ ڈارلنگ۔ چلیں تیار ہوں گھر چلتے ہیں۔
حمیرا ہنسنے لگی۔ رک جائیں ابھی ناشتے کے بعد کچھ دوستوں نے آنا ہے۔ شام کی چائے کے بعد گھر جائیں گے۔
محسن ملک: کیا کہہ رہی ہیں زوجہ؟ وہ حیران سے اسے دیکھنے لگے۔ حمیرا شرارت سے مسکرا رہی تھی۔ وہ سمجھ گئے۔
محسن ملک: آپ ہمارے جذبات سے کھیل رہی ہیں زوجہ۔
ناشتہ لگ گیا ہے نائلہ نے دونوں کو دعوت دی۔ ڈائننگ پر صبا بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ سب باتیں کرنے لگے اور ساتھ ہی ناشتہ بھی شروع کردیا۔ محسن ملک حمیرا کو بار بار دیکھ رہے تھے جو اس وقت سادہ سے لباس میں بنا میک اپ گڑیا جیسی لگ رہی تھی۔ ناشتہ کر کے محسن ملک نے حمیرا کی ماں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حمیرا بہت نیک اور محبت کرنے والی بیوی ہے۔ وہ کوشش کریں گے کہ اسے کبھی کوئی دکھ نہ پہنچے۔ حمیرا کی ماں کی آنکھیں بھر آئیں انہیں حمیرا کے والد یاد آگئے۔
کچھ دیر یادوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ پھر محسن ملک نے حمیرا کو اشارہ کیا۔ وہ تیار ہوکر آگئی تو دونوں واپس اپنے گھر کو آ گئے۔ ملازم نے بھاگ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور مالی جو ہاتھ میں تازہ پھول لئے کھڑا تھا۔ آگے بڑھ کر حمیرا کو پھول پیش کیے۔ یہ سب بہت عجیب تھا۔ گزشتہ برسوں کی تلخ زندگی اور دوسری شادی نہ کرنے کا خوف زائل ہو گیا تھا۔ ایک خوشگوار حیرت جنم لے چکی تھی۔ حمیرا کی دوسری شادی نے ایک نئی مثال قائم کردی تھی کہ ایک بار اگر شادی ناکام ہوگئی تو ضروری نہیں کہ اگلی بار پھر ایسا ہو۔ وہ پہلے مرد سے ایسی محبت نہ پا سکی جو دوسرے شوہر نے دی۔ محسن ملک سے شادی کے ہفتہ گزر جانے کے بعد محسن ملک کے بچوں نے آنا تھا۔ اب تک حمیرا ہنی مون پریڈ گزار رہی تھی۔ اب وقت آگیا تھا جہاں اس کی سمجھداری اور صبر کا امتحان تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

