دوسری شادی: دوسرا رخ


محسن ملک نے بچوں کا غائبانہ تعارف کروادیا تھا لیکن یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان کے بیٹے کو سابقہ بیوی نے بہت مایوس کیا اور اب اس کو ہر عورت مشکوک لگتی ہے۔

حمیرا کو اندازہ تھا کہ بچے کس کرب سے گزرے ہوں گے جب ماں کے بعد دوسری عورت کو ماں سمجھنا چاہا اور وہ ان کی بجائے پیسے کی ماں نکلی۔

بچے آگئے تو حمیرا نے خود ان کو رسیو کیا۔ یمنہ تو اچھے سے ملی لیکن علی نے بیزاری سے سلام کیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ محسن ملک نے حمیرا کو تسلی دی کی سب ٹھیک ہوجائے گا وہ علی کو سمجھا لیں گے۔ حمیرا نے بھی برا نہیں مانا وہ سمجھ سکتی تھی کہ ان بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

رات کھانے کی میز پر علی خاموش رہا جبکہ یمنہ اب حمیرا سے بے تکلف ہوچکی تھی۔ حمیرا نے آہستگی سے سوئٹ ڈش علی کے سامنے کی اور یمنہ سے باتیں کرنے لگی۔ محسن ملک نے علی کو میٹھا کھانے کی دعوت دی۔ علی نے ایک نگاہ حمیرا پر ڈالی اور اسے گفتگو میں مصروف پایا تو چپ چاپ ڈونگے سے چمچ بھرنے لگا۔

کھانے کے بعد یمنہ حمیرا کو اپنے کمرے میں لے گئی۔ اپنی چیزیں دکھانے لگی۔ حمیرا نے خوب دلچسپی دکھائی اور ساتھ ہی ساتھ اسے پیار کرتی رہی۔ پھر یمنہ کو شب بخیر کہہ کر علی لے کمرے کی طرف گئی۔ دروازے پر دستک دینے لگی لیکن پھر کچھ سوچ کر پلٹ آئی۔

اپنے کمرے میں آئی تو محسن ملک نائٹ ڈریس میں تھے۔ وہ بھی کپڑے بدل کر بستر میں آگئی۔ محسن ملک کی تشویش سمجھتے ہوئے ان کے سینے پر سر رکھا اور ان کے ہاتھ کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر بولی۔

حمیرا: آپ فکر مند نہ ہوں۔ ٹھیک ہو جائے گا سب۔

محسن ملک نے حمیرا کے ہاتھ کو لبوں سے لگایا اور پھر بوسہ دے کر بولے۔

محسن ملک: مجھے علی کے رویے سے اندازہ ہوا کہ اس عورت نے میرے بچوں کے ساتھ کتنی زیادتی کی تھی ورنہ میرے بچے ایسے بد اخلاق نہیں زوجہ۔

اب ان کے لہجے میں شرمندگی کے آثار تھے۔ وہ علی کے رویے پر حمیرا سے معذرت کرنا چاہتے تھے۔ ابھی کچھ مزید بولنا چاہتے تھے کہ حمیرا نے ان کے لبوں پہ اپنے لب جما دیے اور ایک بھرپور بوسہ لے کر آہستہ سے بولی۔

حمیرا: آپ کیوں ایسے سوچتے ہیں۔ آپ کے بچے اب میرے بچے ہیں۔ بچے ماؤں سے خفا ہوتے رہتے ہیں تو کیا مائیں برا مانتی ہیں؟ وہ ان کی آنکھوں میں جھانک کر بولی جہاں ان تشویش سے زیادہ محبت نظر آنے لگی تھی۔ محسن ملک نے حمیرا کے چہرے پہ آئی بالوں کی لٹ کو ہٹایا اور اس کے کان کے پاس گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کا چہرہ اپنے چہرے کے پاس کر لیا۔ بوس و کنار سے دلوں کے جذبات مچلنے لگے اور دو بیقرار روحیں ایک دوسرے سے قرار پانے لگیں۔

صبح ناشتے کی ٹیبل پر علی سب سے آخر میں آیا اور خاموشی سے ناشتہ کرکے اٹھ گیا۔

حمیرا نے خانساماں کو دوپہر میں فروٹ اور سلاد کا لنچ بنانے کو کہا اور رات کا کھانا شام میں تیار کرنے کی تاکید کی۔ ساتھ ہی بتا دیا کے کچھ اصول بدلنے ہیں ایک دو روز میں سب بیٹھ کر ٹائم ٹیبل سیٹ کریں گے۔

پھرحمیرا نے محسن ملک کا بیگ تیار کیا جو دو دن کے لئے دوسرے شہر جارہے تھے جہاں آفس کے کچھ معلامات دیکھنے تھے۔ انہیں رخصت کرکے وہ علی کے کمرے کی طرف بڑھی۔

دستک دی تو علی نے خود دروازہ کھولا اور پوچھنے لگا۔

علی: جی فرمائیے؟

حمیرا : آپ کے کمرے میں آسکتی ہوں؟ حمیرا نے علی کے لہجے میں تلخی کو برداشت کرتے ہوئے کہا۔

علی نے دروازہ چھوڑ دیا اور حمیرا اندر داخل ہوگئی۔ علی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہے۔ اس کی تربیت ایسی نہ ہوئی تھی کہ کسی سے بد اخلاقی سے پیش آتا اس لیے بس ناگوار تاثر لئے خاموش کھڑا رہا۔

حمیرا سمجھ گئی کہ ابھی علی سے براہ راست کوئی بھی بات کرنا اسے مزید بگاڑ سکتا ہے۔ اس لیے مسکراتے ہوئے بولی۔

حمیرا: علی میری کچھ مدد کروگے؟

علی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

حمیرا: یمنہ کی پڑھائی میں دشواری ہے اس کے لئے مناسب ٹیوشن سنٹر کون سا ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ سوچا آپ سے پوچھوں۔

حمیرا سمجھتی تھی کہ ابھی علی کا دل جیتنے کا وقت نہیں اس وقت تو بس بات چیت کا سلسلہ بحال ہونا چاہیے۔ اسی لئے اس نے کمال عقلمندی سے وہ بات کی جس پہ علی کوئی بدگمانی نہ پال سکے۔

علی: میں دوستوں سے پتا کرکے آپ کو بتا دوں گا۔

اس کے بعد حمیرا نے زیادہ بات نہ کی اور شام تک انتظار کیا۔

شام کو یمنہ نے حمیرا کو بتایا کہ بھائی اسے ٹیوشن سینٹر وزٹ کے لئے لے جانا چاہتا ہے تو وہ بھی چلے۔

حمیرا نے دیکھا کہ علی نے اپنی کار نکالی اور یمنہ کو بٹھا لیا البتہ اسے اگنور کردیا۔ وہ خاموشی سے کھڑی رہی اور وہ چلے گئے۔ حمیرا کو دکھ ہوا لیکن اس نے صبر کیا۔

گھنٹہ بھر گزرا کہ دونوں واپس آگئے۔ یمنہ نے بتایا کہ ایک اکیڈمی چند کلو میٹر فاصلے پر موجود ہے اور وہیں داخلہ لینے کا ارادہ ہے۔ البتہ علی نے یمنہ سے کہا کہ وہ حمیرا کو بھی ایک بار لے جا کر دکھا دے۔ بس حمیرا کو یہ پہلا مثبت قدم نظر آیا۔

اگلے روز جب یمنہ کا داخلہ کروانے جانے لگے تو حمیرا نے علی سے کہا کہ وہ ساتھ چلے۔ علی نا چاہتے ہوئے بھی حمیرا کو ساتھ لے گیا۔ یمنہ کا داخلہ کروا کے اسے اکیڈمی چھوڑا اور حمیرا نے کچھ دیر اکیڈمی میں گھوم پھر کر اس کے ماحول کی تسلی کی۔ واپسی پر حمیرا فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تو علی سے بات چیت کرنے کے لئے غیر ضروری سوالات کرتی رہی۔ کبھی کسی سڑک کا پوچھتی کہ یہ کدھر نکلتی ہے کبھی مارکیٹ کون سی قریب ہے کبھی پارک کے متعلق۔

آخر میں حمیرا نے علی کو کہا۔

حمیرا: علی بیٹا ابھی کچھ دن مجھے راستوں کی سمجھ نہیں اگر ہوسکے تو میری مدد کرنا۔ حمیرا کی درخواست کے جواب میں علی نے صرف اتنا کہاکہ گھر میں ڈرائیور موجود ہے اسے کہا کریں۔ وہ لے جائے گا۔

حمیرا مایوس نہ ہوئی۔ گھر پہنچ کر علی اپنے کمرے میں چلا گیا۔ یمنہ کو اکیڈمی سے لینے کے لئے علی کو کہا تو اس نے کہا کہ وہ خود لے کر چھوڑ جائے گا اسے دوستوں سے ملنے جانا ہے۔ حمیرا نے برا ماننے کی بجائے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی۔

اسی طرح اگلے روز بھی ماحول مناسب رہا اور جب یمنہ کو اکیڈمی چھوڑنے کا وقت آیا تو علی نے گھر کے ڈرائیور کے ذمہ پک اینڈ ڈراپ لگا دیا کہ آئیندہ کریم لالا ( ڈرائیور) یمنہ کو لے جائے گا۔ حمیرا نے علی کو تو کچھ نہ کہا لیکن یمنہ کو چھوڑنے ڈرائیور کے ساتھ خود گئی اور اسی طرح لے کر بھی خود آئی۔ یمنہ بھی اب علی سے کہنے لگی کہ چند دن میں اتنا تو پتا چل گیا کہ نئی امی بری عورت نہیں۔ اس لیے وہ بھی رویہ درست کرلے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7