افغانستان میں کلیدی رول اور سٹیک بھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طالبان نے ان خبروں کی پرزور تردید کی ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات جلد شروع ہونے والے ہیں۔ افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے واضح کیا ہے کہ افغانستان سے غیرملکی فوجوں کے انخلا کے بعد ہی انٹرا افغان مذاکرات کا آغازہو گا۔ یہ کوئی حیران کن خبر نہیں ہے کیونکہ طالبان کا شروع سے ہی استدلال رہا ہے کہ اشرف غنی کی حکومت کٹھ پتلی ہے اس کے ساتھ مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں نیز یہ کہ امریکی فوج افغانستان سے نکلنے کا ٹائم ٹیبل دے پھر بات آگے چلے گی۔

اس امر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے پاکستان کا یہ مشن کہ افغان طالبان اور کابل حکومت کو مذاکرات کی میز پر لائیں کتنا کٹھن ہے۔ دوسری طرف پاکستان پر امریکی دباؤبھی بڑھتا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے واشنگٹن سے اسلام آباد پہنچتے ہی امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان مورگن ارٹاگس نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ خان صاحب نے صدر ٹرمپ کے سا تھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران جو کمٹمنٹ کی تھی اسے پورا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

دلچسپ بات ہے کہ طالبان کے انکار اور اقرار کی خبریں ایک ہی روز اخبارات کی زینت بنیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوار کو ملتان میں یہ دعویٰ کیا کہ افغان طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور پاکستان مصالحتی مذاکرات کے لیے کلیدی رول ادا کر رہا ہے۔ جب ایک اخبار کے رپورٹر نے طالبان کے متضاد اعلانات پرتبصرہ کرنے کا کہا تو قریشی صاحب کا اصرارتھا کہ طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ جب ہم معاہدے کے قر یب پہنچ جائیں گے تو انٹرا افغان مذاکرات کا دورہو گا جس میں طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین پر مشتمل مذاکراتی ٹیم ہو گی۔

دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی جو 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں، پرُامید ہیں کہ امن قریب ہے، طالبان کے سا تھ جلد مذاکرات ہوں گے ۔ انتخابی مہم کے آغاز کے سا تھ ہی طالبان نے افغانستان کے صدر مقام پر اپنی کارروائیاں تیزتر کردی ہیں، پیر کو مختلف واقعات میں بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں، قبل ازیں سخت سکیورٹی کے باوجود اتوار کو جب اشرف غنی ایک بڑے آڈیٹوریم میں اپنے حامیوں کو اپنا ایجنڈا بتا رہے تھے کہ وہ نامکمل پراجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں اور جمہوری ریاست کے قیام کے لیے پانچ سالہ دوسری مد ت کے لیے الیکشن لڑرہے ہیں۔

اس کے چند گھنٹے بعد ہی حملہ آوروں نے انتخابات میں صدر اشرف غنی کے نائب صدر کے امیدوار امر اللہ صالح جو پہلے افغان انٹیلی جنس کے سربراہ بھی تھے کی سیاسی تحریک ’افغان گرین ٹرینڈ‘ کے دفتر پر حملہ کردیا۔ امر اللہ صالح جو ٹارگٹ تھے معمولی زخمی ہوئے لیکن معجزانہ طور پر بچ گئے۔ اس صورتحال سے واضح ہے کہ افغانستان کے معاملات انتہائی گھمبیر ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحا میں افغان طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

طالبان نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے مذاکرات کی دعوت بھی قبول کی ہوئی ہے لیکن زمینی حقائق ایسے ہیں جن کی روشنی میں کابل میں اشرف غنی کی حکومت کودوام دینا قریباً ناممکن ہے۔ طالبان افغانستان کے پچاس فیصد سے بھی زائد علاقے پر قابض ہیں اور ان کے فلسفہ میں شراکت اقتدار شامل ہی نہیں، گویا کہ جلد یا بدیر امریکہ اشرف غنی کو قربانی کا بکرا بنا دے گا۔ دوسری طرف افغان طالبان کو بھی حکومت بنانے کے لیے شمالی اتحاد اور دیگر افغان گروپوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔

افغان طالبان کو عمران خان کے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بعد اس بات کا بھی پوری طرح ادراک ہو گیا ہے کہ صدر ٹر مپ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے کس حد تک کو شاں ہیں۔ وہ اگلے برس امریکی صدارتی انتخاب سے قبل امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کو ممکن بنا کر کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ گویا کہ انھوں نے اپنے لیے خود ہی ٹائم ٹیبل مرتب کر لیا ہے۔ اسے طالبان امریکہ کی کمزوری ہی تعبیر کریں گے اسی لیے انھوں نے افغانستان میں اپنی کارروائیاں تیزتر کر دی ہیں۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل مورل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ہر حالت میں افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور جیسا کہ اس نے 1989 ء میں افغانستان سے سوویت یونین فوجوں کا انخلا مکمل ہونے کے بعد اپنا بوریا بستر سمیٹ کر افغانستان کو خیر با د کہہ دیا تھا اب بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ یقیناً ہمارے پالیسی سازی کے کارپردازان اس پرپیچ صورتحال کے مضمرات سے پوری طرح آگاہ ہوں گے ، سمجھوتہ ہو یا نہ ہو، بال پاکستان کے کورٹ میں ہی گرے گا۔

گزشتہ ہفتے ملک کے دوحصوں میں دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے دس فوجی شہید ہوئے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ متفرق نظریات رکھنے والے دہشت گرد گروپ اب بھی وطن عزیز میں سرگرم ہیں۔ اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہفتہ کو کیپٹن عاطف کے علاوہ فرنٹیئر کور کے چار اہلکا ر بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے اور اسی روز ہی شمالی وزیرستان میں حوالدار سمیت 6 فوجی شہید ہوئے۔ بلوچستان میں ہونے والی اس کارروائی کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، تا ہم اس کا تعلق نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی سے ہو سکتا ہے لیکن شمالی وزیرستان کے واقعے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ حملہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے کیا ہے۔ اگرچہ ان دونوں حملوں کے محرکا ت مختلف ہیں لیکن ان کا تانا بانا افغانستان سے ہی جاکر ملتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات تو روز روشن کی طر ح عیاں ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بڑ ی بہادری سے دہشت گردی کے سانپ کو زخمی کیا ہے لیکن وہ اب بھی پھنکار رہا ہے اور اس ضمن میں اپنی Not let off our guard down کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ مزید برآں افغانستان میں امن شاید امریکہ سے زیادہ پاکستان کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان 2200 کلو میٹر طویل سرحد ہے اور جس طرح انواع واقسام کے دہشت گردوں نے غیر ملکی اعانت سے پاکستان کے اندر گھات لگائی ہوئی ہے خطے میں جب تک امن نہیں ہوتا دہشت گردی کی تلوار ہما رے سر پر لٹکتی رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ ظہرانے میں اپنے وزیر تجارت ولبر راس کوکہا ہے کہ وہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بیس فیصد نہیں بلکہ بیس گنا تجارت کے اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکی حکومت نے پاکستان کے ایف سولہ جنگی طیاروں کے لیے آلات اور انتظامی مدد کے لیے 125 ملین ڈالر مالیت کی ایک ڈیل کو حتمی شکل دے دی ہے، جیسا کہ مشیر تجارت رزاق داؤد نے 92 نیوزپر میر ے پروگرام ’ہو کیا رہا ہے‘ میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تجارت اور اقتصادی تعاون کا تعلق افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے رول سے مشروط ہے۔ اس لحاظ سے دیکھاجا ئے تو افغانستان میں امن، امریکی فوجوں کے انخلا اور وہاں وسیع البنیاد حکومت کے قیام میں پاکستان کاکلیدی رول بھی ہے اور سٹیک بھی۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •