جہاز میں ایک سیٹ خالی تھی
اس کے کہنے سے پہلے ہی میں نے کہا کہ اصغر ہمیں پاکستان واپس جانے کی ضرورت ہے۔ اگر تمہارا گھر وہاں ہے تو میرا بھی ہے۔ تمہاری ماں مرگئی ہیں اور باپ بوڑھے ہورہے ہیں تو میرے والدین بھی بوڑھے ہورہے ہیں۔ تم صحیح کہتے ہو، اس ملک کو ہماری ضرورت ہے۔ آخر ہم نے صرف اس لیے تو نہیں پڑھا لکھا اور سیکھا ہے کہ امریکا کے مریضوں کو دیکھیں۔ دل کی بیماری وہاں بھی ہوتی ہے، کینسر وہاں بھی ہوتا ہے۔ ہم اگر شکاگو میں نہیں ہوں گے تو وہاں کوئی اور ہوگا، شاید ہم سے زیادہ قابل، زیادہ ہنرمند۔
لیکن پاکستان میں تو کوئی نہیں ہے۔ وہاں ہماری ضرورت ہے، زیادہ ضرورت ہے۔ میں اور تم تو ہزاروں میں ہیں۔ میرے سے اچھے کینسر کے ڈاکٹر ہیں شاید تم سے بھی اچھے دل کے ڈاکٹر ہوں گے یہاں مگر وہاں کون ہے، گنے چنے، چیدہ چیدہ۔ وہاں پر کام کی کمی ہے اور نہ ہی نام کا مسئلہ ہے۔ محنت کریں گے تو اچھا ہی کمائیں گے۔ امریکا جتنا تو شاید کبھی نہ کمائیں مگر ضرورت سے زیادہ ہی مل جائے گا۔
ہم لوگ پاکستان آگئے تھے۔ کراچی میں ہی ہم دونوں نے مل کر اپنے کلینک کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی ایدھی کے ایک رفاہی کلینک میں ہم دونوں ہفتے میں دو دن مریض بھی دیکھتے تھے۔
تھوڑے دنوں میں ہی ہماری پریکٹس چل نکلی۔ امریکا میں جتنا ہم کماتے تھے اتنا تو شاید پاکستان میں ہم کبھی بھی نہ کما سکتے مگر ہماری آمدنی ہماری ضرورتوں سے بہت زیادہ تھی۔
مریض ہم سے محبت کرتے، ہم اپنے کام سے خوش۔ بے شمار مریضوں کو ہم سے فائدہ ہوتا اور ہمارے خاندان کے بزرگ ہم پر نہال ہو رہے ہوتے تھے۔
مگر سب کچھ یکایک بدل گیا۔ نجانے کیوں خودبخود سب کچھ شروع ہوگیا۔ شہر کے ڈاکٹر قتل ہونے لگے۔ زمین ان پر تنگ ہونے لگی۔ غریب پرور کراچی جس نے ہمیشہ پناہ دی۔ جہاں ہر نسل، ہر مذہب، ہر رنگ اور ہر قسم کے لوگ مل جل کر رہے وہاں نجانے کس نے ایسی آگ لگائی کہ سب کچھ جلنے لگا۔
پہلے شیعہ ڈاکٹروں کا قتل ہونا شروع ہوا پھر ساتھ ہی سنی ڈاکٹر بھی مارے جانے لگے۔ ایسا تو میں نے اور اصغر نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر تھا، جہاں لوگ تعلیم یافتہ تھے، جہاں شامیں سہانی ہوتی تھیں، جہاں ادب و ثقافت کا چرچا رہتا تھا، جو پاکستان میں ہو کر بھی پاکستان سے مختلف تھا، آخر اسے کس کی نظر کھا گئی۔ ابھی کچھ دنوں پہلے جب حالات خراب تھے تو لگتا کہ کراچی میں سکون نہیں ہو سکے گا، مگر پھر سب کچھ ٹھیک ہونے لگا۔
ہڑتالیں ختم ہوئیں، شہر کی رونق لوٹ آئی۔ کلفٹن، ہاکس بے، سینڈزپٹ پہ پھر لوگ جانے لگے۔ رات کی لائٹوں نے پھر شہر کو روشنیوں کا شہر بنا دیا۔ سب نے سوچا تھا کہ پھر پرانا کراچی لوٹ آیا ہے، وہی کراچی جو غریب پرور تھا، وہی کراچی جو ہنر شناس تھا، وہی کراچی جس کی بانہیں ہمیشہ کھلی رہتی تھیں، اب اسی کراچی کی زمین شیعہ ڈاکٹروں کے خون کی پیاسی ہوگئی تھی۔
ہم دونوں ہی پریشان رہنے لگے۔ مجھے ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہ اب بری خبر آجائے گی۔ کب یکایک کوئی، اصغر کی جو میرا شوہر تھا، جان لے لے گا۔ یہ بات اہم نہیں کہ وہ میرا شوہر تھا۔ یہ بات اہم تھی کہ وہ شیعہ تھا۔
دل کا دورہ، خون کا کینسر، دماغ کی رسولی، پھیپھڑوں کی ٹی بی، جگر کا یرقان، شیعہ سنی تو نہیں ہوتے ہیں۔ وہ تو صرف بیماری ہوتی ہے ان کا علاج کرنا پڑتا ہے۔ علاج کوئی بھی کرے، شیعہ ڈاکٹر کہ سنی ڈاکٹر، مریض کوئی بھی ہو شیعہ یا سنی۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی چھوٹی سی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ان لوگوں کو جن کے ہاتھ میں پستول، کلاشنکوف اور ٹی ٹی ہوتی ہے۔ جو ٹریگر دبا کر جان لے لیتے ہیں۔ سوچتے نہیں کہ ایک موت سے پتا نہیں کتنے لوگوں کی زندگی بکھرجائے گی کتنے ارمان پامال ہوجائیں گے، کتنے خواب ٹوٹ جائیں گے۔
ہم دونوں نے سوچا کہ واپس چلے جائیں۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اس شہر میں، اس ملک میں رہنے کی۔ کوئی ضرورت نہیں ہے ان غریب لوگوں کا علاج کرنے کی جن کے بیٹے انسانوں کو قتل کررہے ہیں۔ کوئی ضرورت نہیں ان لوگوں کی مدد کرنے کی جو اپنے گھر میں پیدا ہونے والوں پر کوئی اختیار نہیں رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ہمیں مالی طور پر کچھ زیادہ تو نہیں مل رہا جو میں اکیلی امریکا میں ایک ماہ میں کماتی تھی اتنا ہم دونوں مل کر سال بھر میں کماتے تھے۔ پاکستان میں صرف یہ اطمینان تھا کہ ہم اپنے لوگوں کے درمیان ہیں۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، دوست، رشتہ دار، جاننے والے، پرانے اسکول کے ساتھی جن کے ساتھ بچپن گزرا، محلے کے وہ لوگ جن کے ساتھ ہم پلے بڑھے تھے۔
مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ پرانا کراچی، وہ ہماراپاکستان کہیں کھوچکا ہے۔ ہم کسی اور جگہ آگئے ہیں۔ کبھی کبھی خیال آتا کہ آخر اس قربانی کی ضرورت کیا ہے مگر ہم دونوں یہی سوچتے کہ نہیں حالات درست ہوجائیں گے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا۔ امن و امان بحال ہوجائے گا۔ روپے کم سہی لیکن اپنا ملک تو ہے۔ پھر یہ ہوا کہ اصغر کا بہت اچھا دوست عابدی جوانگلینڈ سے دل کی بیماریوں کا ماہر بن کر آیا تھا، رات ایک ایمرجنسی آپریشن کرکے نکلا تو راستے میں ہی اسے کسی نے گولی ماردی۔ تین دن تک وہ ہسپتال میں زندگی اور موت کے جھولے پر جھولتا رہا اور پھر مرگیا۔ جوان بیوی، تین چھوٹے چھوٹے بچے، بوڑھی ماں، بوڑھا باپ ہاتھ ملتے ہی رہ گئے تھے۔
ہم دونوں ڈرگئے۔ عابدی شیعہ نہ ہونے کے باوجود مرچکا تھا۔ میرا تو شوہر شیعہ تھا، اس کا خاندان شیعہ تھا بلکہ اس کے خاندان میں تو ایسے شیعہ بھی تھے جو مرثیہ پڑھتے تھے، مجلس پڑھتے تھے۔ اس ملک سے چلے جانا ہی بہتر ہوگا۔ ہم دونوں نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ سوچ سوچ کر سمجھ سمجھ کر۔ ڈرے ہوئے لوگ اور کیا کرتے۔
یہ توکوئی زندگی نہیں ہے کہ آٹھ سال کی بچی کو میں یہ سمجھاؤں کہ شاید تمہارے ابو کو دادا ابا کو اس لیے مار دیا جائے کہ وہ شیعہ ہیں اور پھر وہ اس طرح کے سوال کریں اور پھر ان کا جواب دینا مشکل ہوجائے۔ پھر آٹھ سال کی بچی، چھ سال کا بچہ اور گیارہ سال کی لڑکی کو دنیا میں یہ سب دکھانا ضروری ہے، یہ تو گلاب کی کلیوں کی طرح ہیں۔ انہیں تو ابھی کھلنا ہے، صبح کے سورج کی طرح جنہیں ابھرنا ہے، اُمڈتے ہوئے بادلوں کی طرح جنہیں گرجنا ہے۔ ایک بے قرار سرکش گھوڑے کی طرح جنہیں دوڑنا ہے، آگے بڑھنا ہے، بغیر پیچھے دیکھے ہوئے۔ پیچھے دیکھنے کا وقت تو بہت بعد میں آتا ہے، بستر مرگ سے پہلے جب حساب کرنا ہوتا ہے کہ کیا پایا، کیا کھویا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

