ڈاکٹر، بدلتے ہوئے قوانین اور اخلاقیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 31 جولائی ہے۔ آج کا دن میرے لیے اداسی کا دن ہے کیونکہ 1980 میں ‌ آج ہی کے دن میرے والد مرزا شجاعت بیگ صرف 33 سال کی عمر میں ‌ ایک ویسپا کے ایکسیڈنٹ کے بعد کئی ناکام سرجریوں ‌ کے بعد وفات پاگئے تھے۔ اکثر لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ماضی کا وہ کون سا لمحہ ہے جہاں ‌ آپ واپس جانا چاہیں گے۔ تو وہ لمحہ میرے لیے وہ تھا جب ابو نے ہسپتال میں ‌ مجھ سے کہا کہ گڑیا یہاں بیٹھ جاؤ میرے پاس لیکن میں ‌ باہر جا کر کھیلنا چاہتی تھی۔

پچھلے نو سال سے میں ‌ یہاں نارمن کے اسی ہسپتال کے کلینک میں ‌ کام رہی ہوں۔ ایک ہی جانا پہچانا پانچ منٹ کا راستہ ہے۔ ہماری بلڈنگ کے پاس ایک واٹر ٹاور ہے جس پر سرخ رنگ میں ‌ بڑا بڑا نارمن لکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹرز کے لیے پارکنگ مخصوص ہے جن پر سائن لگے ہوئے ہیں ‌ کہ یہاں ‌ صرف فزیشن پارک کریں اور باقی سب کو ٹو کرلیا جائے گا۔ میرے خیال میں ‌ یہ صرف ایک خالی دھمکی ہے کیونکہ ہماری گاڑیوں ‌ میں ‌ کچھ ایسا نشان نہیں ہے جس سے کسی کو پتا چلے کہ کون سی گاڑی کس کی ہے۔

اور ویسے بھی میں ‌ تو کئی مختلف گاڑیوں ‌ میں ‌ پارک کرچکی ہوں۔ بہرحال، صبح‌ کلینک کے باہر گاڑی پارک کروں ‌ تو ٹھیک ہر روز اسی لمحے ہسپتال کا ڈاکیہ بھی اپنے ٹرک کے ساتھ پہنچ جاتا ہے۔ کبھی میں ‌ اس کے لیے دروازہ کھول دیتی ہوں اور کبھی وہ میرے لیے۔ آج میں ‌ ذرا جلدی آگئی تو اپنے آفس میں ‌ سے ہی فرنٹ ڈیسک پر اس کی آواز سنی، ہیپی ہمپ ڈے! جو کہ بدھ کو کہتے ہیں۔ کام کے دن چونکہ پانچ ہوتے ہیں اس لیے بدھ بیچ میں ‌ پڑتا ہے۔

The term alludes to the fact that Wednesday is the middle of the work week, meaning that one has made it “over the hump” towards the weekend.

جمعے کے دن وہ خوشی سے پکار کرکہتا ہے کہ ہیپی فرائڈے! جمعے کا دن سب کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے۔ دو وجوہات کی بنیاد پر۔ ایک اس لیے کہ اس میں ‌ لنچ کے قریب کلینک بند ہوجاتا ہے اور سب نرسیں اور سیکرٹریاں ‌ گھر جلدی جاسکتے ہیں اور دوسری یہ کہ اس کے بعد دو دن کی چھٹی ہوتی ہے۔

ایک مرتبہ ایک 79 سالہ ذیابیطس کی مریضہ کو دیکھا جنہوں ‌ نے مجھے بتایا کہ انہوں ‌ نے نئے آلہء سماعت خریدے ہیں جو بہت اچھا کام کرتے ہیں۔
اچھا چلیں ‌ میں ‌ آپ کو اس سے متعلق ایک لطیفہ سناتی ہوں۔ پھر میں ‌ نے ان کو ان صاحب کا قصہ بتایا جن سے کسی نے پوچھا تھا کہ آلہء سماعت استعمال شروع کرنے کے بعد ان کی زندگی میں ‌ کیا تبدیلی آئی تو انہوں ‌ نے کہا کہ اپنی وصیت تین بار بدل چکا ہوں! یہ سن کر وہ بہت ہنسیں۔ ”خوش باش رہنے سے ذیابیطس پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ “ اب جس بات سے متعلق یہ مضمون ہے اس کے تناظر میں ‌ سوچ رہی ہوں ‌ کہ اس بیان کے پیچھے کہ خوش رہنے سے ذیابیطس بہتر ہوجائے گی، کیا شہادت موجود ہے؟ کیا یہ صرف میرا ایکسپرٹ اوپینین یعنی کہ ماہرانہ خیال ہے؟

زبیر صاحب کا ڈاکٹر سہیل کے لیے مضمون پڑھا اور اس میں ‌ بہت دلچسپ سوال دیکھے۔ میں دیکھ سکتی ہوں ‌ کہ زبیر صاحب کا ذہن کس طرح‌ ان سوالوں ‌ میں ‌ الجھ گیا ہے۔ میرے خیال میں ‌ اگر وہ کچھ دن ہسپتال میں ‌ والنٹیر کام کریں یا ایک دو نفیسات دان اور ڈاکٹرز کو کچھ دن فالو کریں ‌ تو اپنے سامنے آنے والی مثالوں ‌ سے ان کو خود بخود ان سوالوں ‌ کے جواب سمجھ میں ‌ آنے لگیں ‌ گے۔

سوال: ”پہلا سوال یہ ہے کہ فرض کریں کسی صاحب کو ہائی بلڈ پریشر ہے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ لگ بھگ تمام ہی ڈاکٹر اسے کسرت کرنے کا مشورہ دیں گے، ملتا جلتا پرہیز بتائیں گے، ٹیسٹ بھی تقریبا ایک سے ہوں گے، اور دوائیں بھی ملتی جلتی ہوں گی۔ ڈاکٹر کے اپنے مذہبی اور سیاسی عقائد اس علاج پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ نفسیات بھی طب ہی کہ ایک شاخ ہے۔ آپ نے دونوں پڑھ رکھی ہیں دونوں ہی کی پریکٹس کی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک دیکھے ہیں۔

کیا نفسیات میں تھیراپسٹ کے اپنے عقائد علاج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مجھے تجربہ تو نہیں ہوا مگر کیا ایسا ہوتا ہو گا کہ کسی شخص کو اینگزائیٹی ہو، اسے غصہ آتا ہو، مزاج میں اکھڑ پن ہو، یا کوئی اور مسئلہ فرض کر لیں۔ اسے ایک ماہر نفسیات مشورہ دے کہ نماز پڑھا کرو۔ دوسرا مشورہ دے کہ یوگا کیا کرو۔ جبکہ تیسرا مشورہ دے کہ ورزش کرو تا کہ جسم اینڈورفن، سیراٹونن اور ڈوپامین بنائے؟ ”

جواب: میرے خیال میں ہر انسان کے عقائد اس کے دیے ہوئے مشوروں ‌ پر اثرانداز ہوتے ہیں چاہے وہ سوشل ورکر ہوں، نفسیات دان، ڈاکٹر یا سرجن۔ ایسا نہیں ہوا کہ میری آج صبح آنکھ کھلی اور میں ‌ وہ اینڈوکرنالوجسٹ بن گئی جو میں ‌ آج ہوں۔ اور مجھے امید ہے کہ آج سے پانچ سال کے بعد اور دس سال کے بعد میں ‌ نے وقت سے مزید سیکھ کر اپنی پریکٹس اس وقت کی ضرورت کے لحاظ سے تبدیل کی ہوگی۔ تعلیم حاصل کرنے میں ‌ وقت لگتا ہے، پھر دنیا دیکھنے میں ‌ اور اس دنیا کے ہزاروں ‌ لوگوں ‌ کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد آہستہ آہستہ سمجھ میں ‌ آنے لگتا ہے کہ کس صورت حال میں ‌ کیا مشورہ مناسب ہوگا۔ ایک ہی بیماری کا علاج ہر مریض‌ میں ‌ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ علاج کا مشورہ انفرادی صورت حال پر مبنی ہوتا ہے۔ میڈیسن کی پریکٹس آدھی سائنس اور آدھی آرٹ ہوتی ہے۔

Evidence-Based Medicine

کے مطابق حالیہ بین الاقوامی رائے یہ ہے کہ مریضوں ‌ کو وہی ٹیسٹ، دوائیں، پروسیجر یا علاج کا مشورہ دیا جائے جس کے بارے میں ‌ ٹھوس ثبوت موجود ہوں۔ تمام دنیا میں کی گئی کسی بھی شعبے میں ‌ تحقیق کو جمع کرکے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس شہادت میں ‌ کتنا دم ہے۔ اسی لحاظ سے اس کی کلاسیفیکیشن کی جاتی ہے کہ یہ کمزور شہادت ہے یا مضبوط جس کے لحاظ سے ہم یہ طے کریں ‌ گے کہ کیا علاج کا سائڈ افیکٹ کسی مریض میں ‌ پیدا کرنا مناسب ہوگا؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •