بیٹے کی جلاوطنی پر باپ کیوں خوش ہوتا ہے؟


ہم دونوں نے ہی سوچا کہ اگرحالات صحیح ہوتے تو یہاں کام کیا جاسکتا تھا یہاں تو بے انتہا غریب مریض ہیں۔ سندھ کے پیرس میں لاتعداد ضرورت مند ہیں جنہیں علاج کی ضرورت ہے۔ ایک اچھا سرجن تو یہاں بہت کچھ کرسکتا ہے۔ طالب علم ہیں جنہیں پڑھانے کی اور گائیڈنس کی ضرورت ہے مگرنہ حکومت کے اختیار میں ہے کہ حالات بدلیں اورنہ ہی یہاں کے پڑھنے والوں کو دلچسپی ہے کہ انہیں کوئی پڑھائے۔ یہ سوچتے ہوئے ہم دونوں واپس ہوٹل آئے اور شام کی ہی فلائٹ پکڑ کر کراچی واپس پہنچ گئے۔ عامر لاڑکانہ میں کام نہیں کرسکتا، یہ پیغام بہت واضح تھا۔

عامر کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں کام کرتا رہا پھر کراچی میں ہی عباسی ہسپتال میں نیا میڈیکل کالج کھولا گیا جہاں اسے فوراً ہی نوکری مل گئی تھی۔ وہ بھی شاید اس لیے کہ اس وقت اس کے مقابلے پہ کوئی امیدوار تھا ہی نہیں۔ یہ اندازہ تو اب ہوچکا تھا کہ کسی کا بھی تقرر ہوجاتا جس کے پاس صرف بنیادی ڈگری ہوتی اور ساتھ میں سفارش۔ عامر کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ابھی مقابلے پہ کوئی تھا ہی نہیں۔

ہسپتال کے حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے مگر نئے کالج کے نئے طلبہ میں جذبہ بہت تھا اور اسے پڑھانے اور کام کرنے کا شوق، جلد ہی اس کے وارڈ میں مریض جمع ہونے شروع ہوگئے۔ میڈیکل اسٹوڈنٹ اس پر شہد کی مکھیوں کی طرح گرتے۔ پہلی دفعہ میں نے اسے خوش دیکھا تھا۔

سرکاری ہسپتال میں غریب مریضوں کی دیکھ بھال کرکے اسے بڑی خوشی ہوتی۔ وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا، ”یار لندن میں جب مریض تھینک یو کہتے ہیں تو اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ان کی عادت ہے، ان کی زبان ہے، ان کو یہ کہنا ہی ہوتا ہے۔ مگر یہاں کے غریب مریضوں کے منہ سے شکریہ کا لفظ نکلتا ہی نہیں ہے۔ ان کے تو جسم کا رواں رواں انگ انگ بال بال شکریہ بولتا ہوا نظر آتا ہے۔ رات کے دو بجے معمولی سے اپنڈکس کے آپریشن کے بعد جب غریب بچے کے ماں باپ ہاتھ پکڑلیتے ہیں تو وہ تسلی ہوتی ہے جو شاید لندن کی بڑی سے بڑی کانفرنس میں پیپر پڑھنے کے بعد سب کے تالیاں بجانے سے بھی نہیں ہوتی تھی۔ “

وقت کے ساتھ اس کی پرائیویٹ پریکٹس بھی چل نکلی اور مجھے خوشی تھی کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا تھا۔ شاید اچھا ہی ہوا کہ اسے جناح یا سول ہسپتال میں نوکری نہیں ملی تھی۔ اس ہسپتال میں مسئلے ضرور تھے مگر مریضوں کے علاج سے ہونے والی خوشیاں بے شمار تھیں، بے حساب تھیں۔

یہ سب کچھ سوچتے ہوئے میں نے آپریشن ختم کیا اور جلدی سے موبائل پر اسے فون کیا۔

”ہاں میں عامر بول رہا ہوں۔ “ اس نے جلدی جلدی کہا، ”دیکھو میں، دیکھو میں کراچی ایئرپورٹ پر ہوں۔ میں نے گھر فون کردیا ہے۔ نسرین نے سوٹ کیس تیار کردیے ہوں گے۔ تم انہیں لے کر فوراً ایئرپورٹ پہنچ جاؤ بڑی مہربانی ہوگی۔ “

”مگر کیوں، ایسا کیا مسئلہ ہوگیا ہے تم کہاں پر ہو؟ “ میں نے پوچھا۔

”میں اندر ہوں رمیش کے کمرے میں۔ یہاں سے ہی میں نے ٹکٹ کا بندوبست کرلیا ہے۔ رات آٹھ بجے لندن کی فلائٹ ہے۔ میں لندن جارہا ہوں سب کو لے کر۔ نسرین میرا بھی پاسپورٹ لے کر آئے گی باقی باتیں یہاں پر۔ تم اندر ہی آ جانا۔ رمیش نے سیکیورٹی والوں کو بول دیا ہے۔ “

میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ رمیش بھی ہمارا کلاس فیلو تھا مگرڈاکٹر بننے کے بعد سے ہی وہ ایئرپورٹ پر ملازم ہوگیا تھا۔ یہ ایک طرح سے بہت ہی اچھا ہوا تھا کیوں کہ اس کے وہاں ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں سے ایئرپورٹ پر وی آئی پی جیسا سلوک ہوتا تھا۔ میں نے جلدی جلدی کام ختم کیا اور فوراً عامر کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہ سب لوگ جلدی جلدی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔

نسرین اسکول جا کر دونوں بچوں کو واپس لے آئی تھی۔ سارے گھر میں سوٹ کیس کھلے ہوئے، پھیلے ہوئے تھے اورجلدی جلدی انہیں بھرا جارہا تھا۔ دونوں نوکر بھاگ بھاگ کر کام کررہے تھے۔ نسرین کے چہرے پر غضب کی دہشت تھی۔ میرے پہنچتے ہی وہ روہانسی سی ہوکر تقریباً رودی۔

”اچھا ہوا آپ آگئے۔ اب کام جلدی ختم ہوجائے گا۔ “

عامر کی والدہ چھ ماہ قبل انتقال کرگئی تھیں، اس کے بعد سے اُس کے ابو تھوڑے ڈپریس سے رہتے تھے مگر وہ بھی ٹی وی والے کمرے میں آرام سے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر مکمل سکون تھا بلکہ مجھے تو ایسا لگا جیسے وہ خوش ہیں۔

اسی وقت عامر کا فون آیا۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ میں سامان کو پیک کررہا ہوں اور دو گھنٹے کے اندر اندر ایئرپورٹ پر آجاؤں گا۔ مگر فلائٹ میں تو ابھی بہت ٹائم ہے اگرجانا بھی ہے تو وہاں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس نے مجھے ڈانٹ دیا، ”یار اگر مدد کرسکتے ہو تو کرو، مشورہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ “

میں خاموش ہوگیا۔ عامر کے ابو نے بھی مجھ سے کہا کہ ”وہ جو کہہ رہا ہے کرو، اسی میں بھلا ہے، سلامتی ہے، شکر ہے اس نے میری بات تو مانی۔ “

میں نے نسرین سے کہا کہ ایک سوٹ کیس میں لے کر ٹیکسی میں ایئرپورٹ عامر کے پاس چلا جاتا ہوں۔ آپ لوگ آرام سے مزید سامان پیک کرکے کھانا کھا کر میرے ڈرائیور کے ساتھ ایئرپورٹ پر آجائیں۔ چلتے وقت مجھے موبائل پر فون کردیں تو میں باہر آکر آپ لوگوں کو اندر لے جاؤں گا۔ عامر کی گاڑی ایئرپورٹ پر ہی کھڑی ہے۔ ہمارا ڈرائیور لے کر آجائے گا۔ انکل نے خود ہی کہا کہ وہ ایئرپورٹ نہیں جائیں گے۔

مجھے پتا تھا کہ عامر، نسرین اور سارے بچے برطانوی شہریت کے حامل ہیں اور سب کے پاس برٹش پاسپورٹ ہے لہٰذا ویزا وغیرہ کا کوئی چکر تو تھا نہیں مگر پھر بھی اتنی جلدی میں ملک چھوڑ کر جانا میری سمجھ میں نہیں آیا۔ حالات خراب تھے۔ ڈاکٹروں اور خاص طور پر شیعہ ڈاکٹروں کو چن چن کر قتل کیا جارہا تھا۔ یہ ایک بڑی پریشانی کی وجہ تھی مگر یکایک کیا ہوگیا کہ عامر نے یہ فیصلہ کرلیا، میری سمجھ سے بالاتر تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5