بیٹے کی جلاوطنی پر باپ کیوں خوش ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں چوتھے کیس کے بیچ میں تھا کہ میرے موبائل فون نے بجنا شروع کردیا۔ ”جس کا بھی ہے اسے بولو کہ بیس پچیس منٹ بعد فون کرے۔ “ میں نے چیخ کر تھیٹر انچارج سے کہا جس کی جیب میں آپریشن شروع کرنے سے قبل میں نے اپنا فون رکھ دیا تھا۔

”سر! کوئی ڈاکٹر عامر ہیں، کہہ رہے ہیں کہ آپ فوراً انہیں فون کرلیں کوئی بہت ارجنٹ کام ہے۔ “

میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ابھی کل ہی تو عامر سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہم لوگوں نے ساتھ ہی ”باربی کیو ٹو نائٹ“ میں کھانا کھایا پھر ڈیفنس میں خیابانِ شجاعت پر اس کے گھر جا کر کافی پی تھی۔ رات گئے تک پاکستان کی سیاست اور کراچی کے حالات پر گپ مارتے رہے۔ وہ ڈاکٹروں کے قتل پہ تھوڑا پریشان سا تو تھا مگر کسی انتہائی پریشانی کا مجھے اندازہ نہیں ہوا تھا۔ اب اس وقت اسے کیا ہوگیا؟ میں تیز تیز ہاتھ چلانے لگا تاکہ جلد کام ختم ہو اور میں اسے فون کرسکوں۔

عامر غضب کا سرجن تھا اور خاص طورپر نظام ہاضمہ کے کینسر کی سرجری میں اس کی خاص ٹریننگ ہوئی تھی۔ ہم دونوں نے کراچی کے ہی سندھ میڈیکل کالج سے ڈاکٹری کی سند لی۔ وہ ہاؤس جاب کرنے کے بعدا نگلینڈ چلا گیا۔ وہاں کے سارے امتحان ایک کے بعد ایک پاس کرتا چلا گیا۔ اس دوران اسے لندن کے ایک ٹیچنگ پروگرام میں نوکری مل گئی۔ بقول اس کے اس تین سال کے پروگرام میں اس کی شاندار ٹریننگ ہوئی تھی۔ پیٹ میں ہنے والی ہرقسم کی رسولی، کینسر کو اسے سمجھنے، علاج کرنے اور آپریشن کرنے کا موقع ملا۔ مصروف ہسپتال میں قابل سرجنوں کے ساتھ کام کرکے وہ کینسر کا ایک بہترین سرجن بن گیا تھا۔

تین سالہ نوکری کے ختم ہونے کے بعد اسی ہسپتال میں اسے کنسلٹنٹ بننے کی دعوت دی گئی اور یہ سوچتے ہوئے کہ تھوڑے دنوں یہ بھی کرکے دیکھ لینا چاہیے، اُس نے اس پیشکش کو قبول کرلیا تھا۔ اس عرصے میں اس کی بیوی نسرین نے بھی ایم آر سی پی کرلیا اور بچوں کی بیماریوں کی ماہر بن گئی۔ نسرین کو ہسپتال میں دن بھر اور راتوں کو کام کرنے کا اتنا شوق نہیں تھا۔ اسے گھر، بچے اور شوہر زیادہ عزیز تھے۔ وہ ہسپتال میں اتنا ہی رہتی تھی جتنا کہ ضرورت ہو۔ وقت پہ آنا اور وقت پہ چلے جانا۔

عامر کے پیچھے پیچھے میں بھی لندن پہنچا۔ عامر کی رہنمائی کی وجہ سے میرے سارے کام آسانی سے ہوگئے۔ میں نے بھی وقت کے ساتھ لندن کے امتحان پاس کرلیے اور اپنی ٹریننگ کے فوراً ہی بعد میں کراچی واپس آگیا۔ کراچی میں میرے چچا کا اپنا ہسپتال تھا جہاں کام کی کوئی کمی نہیں تھی۔ میں گردے کی بیماریوں کا ماہر تھا اور اپنے چچا کے ہسپتال میں گردے کی بیماریوں کا ایک یونٹ کھول کر میں اسی میں مصروف ہوگیا۔ نہ مریضوں کی کمی تھی نہ پیسوں کی قلت۔ زندگی آرام سے بسر ہورہی تھی۔

عامر نے بھی ہمیشہ واپس ہی آنے کا پروگرام بنایا تھا۔ خاص طور پر نسرین نے تو کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ انگلینڈ میں رہے گی۔ اسے کراچی کی زندگی پسند تھی۔ مجھے یقین تھا کہ تھوڑے عرصے کے بعد عامر بھی کراچی آجائے گا۔ پھر یہی ہوا کہ تین سال اچھی جگہ پر کام کرنے کے بعد دونوں میاں بیوی کراچی آگئے۔ اتفاق کچھ ایسا ہوا کہ عامر کے آنے کے چار ہفتے کے بعد ہی جناح ہسپتال میں ایک جگہ نکلی۔ جگہ ایک تھی جس کے لیے ڈومیسائل رورل ایریا کا چاہیے تھا جب کہ عامر کے پاس کراچی کا ڈومیسائل تھا۔

عامر کو جناح ہسپتال میں نوکری نہیں مل سکی۔ جناح ہسپتال میں اسسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹ ایک ایسے نا اہل ڈاکٹر کوملی جس نے جاپان کی کسی یونیورسٹی سے گورنمنٹ کے وظیفے پر بندروں کے نظامِ ہاضمہ کے خلیوں میں ہونے والی تبدیلی پر کام کیا تھا اورجاپان سے ایک ریسرچ کی ڈگری لے کر آیا تھا۔ سرجری اس نے نہ پاکستان میں کی تھی اورنہ ہی جاپان میں۔ بعد میں یہ بھی پتا لگا کہ رورل علاقے کے ڈومیسائل پر ایک اور بھی امیدوار تھا جس نے جناح ہسپتال میں ہی کام کیا اور کالج آف فزیشن سرجن سے ایف سی پی ایس کیا تھا مگر شاید غریب ہونے کی وجہ سے اس کے تعلقات نہیں تھے۔ تعلقات نہ ہونے کی بنا پر باہر کی ڈگری والے کو فوقیت دی گئی تھی۔ نظام ایسے ہی چلتا ہے۔

عامر اور میں دونوں ہی کافی مایوس ہوئے۔ مجھے عامر کی صلاحیتوں کا پتا تھا۔ اس کے کام کا جنونی انداز، اس کے پڑھانے کا شوق اور اس کی دوستانہ طبیعت، جناح ہسپتال میں تو کسی ایسے استاد کی ضرورت تھی جو ڈپارٹمنٹ کو صحیح معنوں میں ایک تربیت گاہ بنا ڈالتا۔ نظامِ ہاضمہ کے کینسر کے شکار لوگوں کا علاج کرتا، ان کے آپریشن کرتا، یہ آپریشن کراچی کے ان نوجوان ڈاکٹروں کو سکھاتا جو باہر نہیں جا سکے تھے اوراب کراچی میں ہی کام کر رہے تھے، مگر پبلک سروس کمیشن کے لوگوں کو یہ سمجہادیا گیا تھا کہ جو آدمی بندر کے نظامِ ہاضمہ کے خلیوں کی رطوبت کا ماہر ہو وہ پاکستانیوں کے نظامِ ہاضمہ کا آپریشن کرسکتا ہے۔ جاپان کے بندر تو پاکستانیوں سے زیادہ معزز ہیں اس کا اندازہ تو ہم سب کو ہوگیا تھا۔

عامر نے میرے چچا کے ہسپتال میں کام شروع ہی کیا تھا کہ سندھ گورنمنٹ نے میڈیکل کالج کے لیے سرجری کے اسسٹنٹ پروفیسروں کے لیے پوسٹوں کا اعلان کیا۔ ان پوسٹوں کی تعداد زیادہ تھی اور کچھ میں رورل ڈومیسائل چاہیے تھا اور کچھ کے لیے شہری ہونے کی ضرورت تھی۔

میرے کہنے پر عامر نے پھر اپلائی کیا۔ پبلک سروس کمیشن سے اعتراضات بھی آئے ان کا جواب بھی دیا گیا۔ انٹرویو بھی ہوئے اور تقریباً سال سے بھی زیادہ وقت لگنے کے بعد اسے اس بات کی خبر دی گئی کہ اسے نوکری دے دی گئی ہے۔

نوکری کے خط کے ساتھ پوسٹنگ کا مسئلہ تھا۔ ہم سب کا خیال تھا کہ اسے کراچی میں پوسٹنگ مل جائے گی مگر ہوا یہ کہ جس کا رورل کا ڈومیسائل تھا اسے کراچی میں نوکری کی پیشکش کی گئی اور عامر جس کا کراچی کا ڈومیسائل تھا اسے لاڑکانہ میں جگہ دی گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •