کشمیر: اِب کے مار!

سہیل وڑائچ - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘اِب کے مارا تو چھوڑوں گا نہیں’ ۔ ہم غصے میں پاگل ہیں۔ بھارت نے بھی تو اس بارحد ہی کر دی کشمیر کو ہڑپ کر لیا۔ ہم نے بھی جواباًی یوم آزادی پر بھارتی مٹھائی قبول نہ کر کے وہ تھپڑ مارا ہے کہ بھارت صدیوں یاد رکھے گا۔ سب سے زیادہ غصے میں سابق کشمیری مجاہد شیخ رشید ہیں جنہوں نے رد عمل کے طور پر سمجھوتہ ٹرین بند کر دی ہے، یہ وہ کاری وار ہے جو بھارت سہہ نہیں سکے گا اور چند ہی دن میں وزیراعظم مودی سر جھکائے قبلہ شیخ صاحب کے حضور پیش ہو گا کہ اسے ماضی کے اقدامات کی معافی دے دی جائے اور سمجھوتہ ٹرین کھول کر اس کی عزت بحال کی جائے وگرنہ اس کے لئے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔

ذاتی طور پر میں خود بڑا غصیلا ہوں، میں نے خود بھی مودی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ اِب کے مارا تو ذاتی طور پر لڑوں گا۔ بھارتی ہمارے غصے کو جانتے ہیں۔ ماضی میں تو ہم سے ڈرتے بھی تھے مگر ہم نے اِب کے مار کہہ کے ان کا ’جھاکا’ کھول دیا ہے ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہ’کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے ‘ے ایک زمانے میں لکھنؤ کے اردو بولنے والوں کا اِب کے مار کہہ کر مذاق اڑایا جاتا تھا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ بزدل ہیں لڑاکے نہیں ہیں انہیں تھپڑ بھی پڑ جائے تو رد عمل صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ اب کے مار۔ کچھ ایسا ہی حال اس بار ہمارا کشمیر ہڑپ ہو جانے پر ہے نہ ہماری کوئی حکمت عملی نظر آ رہی ہے اور نہ کچھ سوجھ رہا ہے کہ بھارت کو جواب کیا دیں؟ بس ہمارا گزارا اسی پر ہے کہ ’اِب کے مار‘۔

سچ تو یہ ہے کہ کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدو جہد سے دنیا کو یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان کا اور بھارت کا اکٹھے گزارا نہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت کوئی بھی عالمی ادارہ یا لیڈر ایسا نہیں جو بین الاقوامی معاملات کا درد رکھتا ہو ہر ایک کو اپنے مفاد ات کی پڑی ہے ٹرمپ ہو یا پیوٹن کوئی بھی اپنے ملکی مفادات کے تنگ دائرے سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔

ایک زمانہ ایسا تھا جب آزادی اور خود مختاری کی تحریکوں کو دنیا بھر سے اخلاقی حمایت ملا کرتی تھی۔ آئر لینڈ اورفلسطین کی آزادی کو دنیا بھر میں عوامی حمایت حاصل تھی ان دونوں تحریکوں کی خاص بات یہ تھی کہ تحریک کی قیادت سیاسی ہاتھوں میں تھی جبکہ مزاحمتی تنظیمیں پس پردہ رہ کر کام کرتی تھیں۔

کشمیر میں سیاست اور مزاحمت کاری میں وہ ہم آہنگی کم رہی ہے ،قیادت مزاحمت کاروں کے ہاتھ میں رہی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ جس طرح کشمیر میں بھارت غیر مقبول ہو چکا ہے حریت کانفرنس فقید المثال انتخابی کامیابی حاصل کرتی، دہلی جا کر مظاہرے کرتی مگر اس مقبول عام سیاسی راستے پر کام نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف پاکستان کی کشمیر پر خارجہ پالیسی مکھی پر مکھی مارنے کے مترادف رہی ہے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ اگر وزیر اعظم مودی نے کشمیر کو ہڑپ کر نے کا فیصلہ کیا تو ہمارا جواب کیا ہوگا؟

اب وزیر اعظم اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ بتائیں ہم کشمیر پر کیا کریں؟ کیا باقی فیصلے اپوزیشن سے پوچھ کر کر رہے ہیں جو یہ فیصلہ ان کی مرضی سے کریں گے؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خارجہ پالیسی کے بادشاہ بنے ہوئے تھے اب حال یہ ہے کہ انہیں بلاول اور اقبال ظفر جھگڑا کی ضرورت پڑ گئی ہے اور ان کا وفد بنا کر نماز عید پڑھنے مظفرآباد گئے ہیں۔ کہاں گئی وہ بڑی بڑی باتیں، وہ بڑے بڑے دعوے کہاں تو آپ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کے بیان پر بھنگڑے ڈال رہے تھے اور کہاں اب یہ دست سوال دراز کر رہے ہیں کہ ہمیں بتائیں کیا کریں؟ کیا واقعی حکومت کشمیر کی صورتحال پر آؤٹ آف آئیڈیاز ہو چکی ہے اور ‘اِب کے مار’ کہہ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش میں ہے۔

گذشتہ 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا پہلا نکتہ رہا ہے۔ قائد اعظم نے اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، قائد ملت لیاقت علی نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کشمیر کاز کے چیمپیئن تھے۔ بینظیر بھٹو نے تحریک آزادی کشمیر کا بھرپور ساتھ دیا۔

وزیر اعظم عمران سے کچھ بھی نہیں بن پڑتا تو بھٹو اور بے نظیر جیسی جذباتی تقریریں ہی کر دیتے۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی ناکام کوشش کی مگر کوشش تو کی۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبر الٹر بھی ناکام ہو اتھا مگر کچھ ہوا تو تھا۔

اب تو شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے عوام احمقوں کی جنت میں نہ رہیں یعنی ‘اِب کے مار’۔ کہاں گیا وہ شاہ محمود قریشی جو امریکی ’جاسوس’ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی حکومت سے حب الوطنی کے نام پر مستعفی ہو گیا تھا۔

کیا بھارت کے ساتھ کشمیر کے معاملے پر کوئی ایسا بہادرانہ موقف نہیں لیا جاسکتا؟ امریکہ سے اس قدر دشمنی اور بھارت سے اسقدر معذرت خواہی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا سقوط ڈھاکہ ہو چکا ہے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو مگر کیا کہیں صاف لگ رہا ہے کہ کشمیر میں فلسطینی ماڈل کے مطابق کام ہو رہا ہے اور ہم عرب ورلڈ کی طرح ‘اِب کے مار’ والی مزاحمت کر رہے ہیں۔ قومی قیادت کا امتحان آزمائش کے وقت بھی ہوتا ہے۔

کرپشن اور کشمیر میں سے ہماری پہلی ترجیح کونسی ہے؟ سب کو علم ہے۔ بس ہم کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے اس کے بعد کشمیر کی باری آئے گی اس وقت تک جو بھی وہاں ہو رہا ہے ہوتا رہے ہم اِب کے مار کہہ کر بھارت کے دانت کھٹے کرتے رہیں گے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سہیل وڑائچ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

suhail-warraich has 193 posts and counting.See all posts by suhail-warraich