مرحومہ پی ڈی ایم

اپوزیشن کے لیے اب بھی بہتر یہی ہو گا کہ ایک دوسرا کا کہا سنا معاف کر کے دوبارہ سے ساتھ چلنے کی کوشش کی جائے ابھی طلاق نہیں ہوئی صرف ناراضی ہوئی ہے اس لیے ابھی صلح کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔

Read more

پی ڈی ایم کے اختلافات سے فائدہ کسے ہوگا؟

اگرچہ بلاول اور مریم کے بیانات سے دونوں جماعتوں کے اختلاف بڑھے ہیں مگر دونوں جماعتوں کے سنجیدہ فکر رہنما چاہتے یہی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ اتحاد برقرار رہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن ایسا کیا فارمولا نکالتے ہیں جس سے دونوں بڑی جماعتیں بھی راضی رہیں اور اتحاد بھی نہ ٹوٹے، سہیل وڑائچ کا تجزیہ۔

Read more

مسلم لیگ ن اور پی پی پی ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں؟

پی ڈی ایم کی میٹنگ میں کھلم کھلا Clash ہوا اور بات کریش تک آ گئی۔ دوسری جانب ن لیگ اور مریم نواز Smash کیے جانے کی دھمکیوں کے باوجود اپنا جارحانہ انداز ِسیاست برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

Read more

کیا صادق سنجرانی تاریخ دہرانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

اگر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتے ہیں تو ریاست، مقتدرہ اور حکومت مطمئن ہوں گے کہ انھوں نے نہ صرف ایک اعلیٰ ترین ریاستی پوزیشن بچا لی بلکہ وہاں ایک ایسا شخص بٹھا دیا جو ریاست یا مقتدرہ کی مرضی کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا۔ پڑھیے سہیل وڑائج کا کالم۔

Read more

غیر متوقع جیت اور متوقع مشکلات

سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے امیدوار بنانے، ان کی لابنگ کرنے اور پہلے دن سے آخری وقت تک پر امید رہنے والے آصف زرداری بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں ان کی بچھائی ہوئی سیاسی بساط میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ پڑھیے سہیل وڑائچ کا کالم۔

Read more

ڈر کاہے کو؟

حقیت یہ ہے کہ اگر سیاسی اصول پسندی ہو تو فیصلے سود و زیاں اور نفع نقصان سے اوپر اٹھ کر کیے جاتے ہیں مگر تلخ ترین پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی ہو یا ن لیگ ہو پیپلز پارٹی، سب کو اصو ل صرف اپنے فائدے میں یاد آتے ہیں، اور نقصان ہو تو اصول بھلا دیے جاتے ہیں۔

Read more

کیا جہانگیر ترین دوبارہ سے عمران خان کے لیے اہم ترین بن سکیں گے؟

کسی زمانے جہانگیر ترین تحریک انصاف اور حکومت میں عمران خان کے نمبر ٹو سمجھے جاتے تھے لیکن اب ان کا رسوخ نہیں رہا کیونکہ عمران خان کی کچن کابینہ کے ارکان اعظم خان ، شہزاد اکبر اور اسد عمر سے ان کی نہیں بنتی اور یہ ساری لابی جہانگیر ترین اور عمران خان میں فاصلے برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود جہانگیر ترین گو دوبارہ سے اہم ترین تو نہیں بن سکے مگر وہ عمران خان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

Read more

شاہ محمود قریشی آف ملتان

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نہ تو اپنے خاندان کے پہلے ’شاہ محمود‘ ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان میں اعلیٰ عہدے پر متمکن ہونے والے پہلے فرد ہیں۔

Read more

اپوزیشن کی ’سرگرمیاں‘

اپوزیشن کی گذشتہ دو سال کی کارکردگی دیکھتے ہوئے باآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں کوئی احتجاجی تحریک یا کسی بڑی مزاحمتی تحریک کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

Read more

اعلانِ لاتعلقی

جس ملک میں بھی معاشی بحران آتا ہے وہاں نہ صرف گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں بلکہ خاندانی رشتے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پنجاب کے شہر لودھراں کی راجپوت کالونی کے رانا شبیر احمد کے اخبارات میں شائع شدہ بڑے بڑے اشتہارات کا چرچہ ہے۔ ان اشتہارات کے ذریعے والد نے اپنے حقیقی بیٹے رانا محمد ارسلان سے ’بوجہ نافرمانی، گستاخی اور غلط چال چلن‘ اعلان لاتعلقی کر دیا ہے۔ رانا محمد ارسلان ضلع لودھراں سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری ہیں۔

Read more

سلیکٹرز سے کون پوچھے؟

اس دفعہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ حساس، سنجیدہ اور پیچیدہ ہے۔ کرکٹ کی جس طرح تباہی ہو رہی ہے اس پر خاموش بیٹھنا کسی پاکستانی کے بس میں نہیں ہے۔

ہم سب کرکٹ کے کھیل کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کرکٹ ہمارا جوش، جنون اور شوق ہے۔ ہم سیاست کی غلطیاں تو معاف کر سکتے ہیں مگر کرکٹ ٹیم کی سلیکشن میں غلطیوں کو معاف نہیں کریں گے۔

Read more

شہباز شریف کے پیچھے کون؟

اگر نیب اور حکومت شہباز شریف کی گرفتاری کے در پے نہ ہوتے تو لیڈر آف دی اپوزیشن آج بھی ماڈل ٹاؤن والے گھر میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کورونا کے بارے اعدادو شمار پڑھنے تک ہی محدود ہوتے۔ مگر حکومتی اور نیب کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ شہباز شریف لُگے (اکیلے کا پنجابی کا متبادل) نہیں ہیں ان کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی کھڑا ہے۔

ایک طرف نیب ان کے گھروں پر چھاپے مار رہا تھا، ہائیکورٹ کے دروازوں پر پولیس چوکیاں بنی ہوئی تھیں تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور خان اور چینی سفیر شہباز شریف کی طبیعت پوچھنے کے لیے فون کر رہے تھے۔

Read more

مجھے کرونا ہے…

دوستوں کو اطلاع ہو کہ مجھے کرونا ہو گیا ہے۔ جب سے کرونا کی وبا پھیلی تھی میں بہت احتیاط کر رہا تھا۔ دستانے اور ماسک پہن کر باہر نکلتا رہا۔ سماجی دوری کا خیال رکھا۔ تقریبات میں جانا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ معمول کی ادویات کے علاوہ کلونجی بھی پانی کے ساتھ مسلسل لے رہا تھا۔ ساتھ ہی لہسن کی تری دہی میں ڈال کر کھا رہا تھا۔ لونگ اور ادرک والا قہوہ اہلِ خانہ زبردستی پلا رہے تھے۔

Read more

سندھی چینی بمقابلہ وفاقی چینی

یادش بخیر وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی سندھ اور وفاق میں چینی کے مسئلے پر بحث مباحثہ پر تبصرہ کرتے تو کہتے ’چینی تو چینی ہوتی ہے چاہے وہ سندھی چینی ہو یا وفاقی چینی ہو یا پھر پنجابی چینی‘ مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔ وفاق کی چینی کا معاملہ الگ ہے، پنجاب کی چینی کا معاملہ اور ہے اور سندھ کی چینی کا معاملہ بالکل ہی مختلف ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سندھ اور وفاق کی طرف سے

Read more

عمران خان کی خوبیاں اور خامیاں

افراط و تفریط ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے۔ اپنے پسندیدہ لیڈر کے اوصاف کو ہم بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور نا پسندیدہ شخص میں ہمیں کوئی خوبی نظر نہیں آتی بلکہ اس کے نقائص اس قدر زیادہ لگتے ہیں کہ اسے ہمارے لیے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ افراط و تفریط اور یہ عدم توازن ہمارے جذباتی پن کی وجہ سے ہے۔ آئیے آج وزیر اعظم عمران خان کی خوبیوں اور خامیوں کا غیر جذباتی جائزہ لیں۔

کرکٹ ہیرو سے وزیر اعظم بننے تک عمران خان نے اپنی ایمانداری اور اصول پسندی کا تاثر ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنتے ہی انھوں نے اپنے سے عمر میں بڑے خالہ زاد بھائی ماجد خان کو ٹیم سے نکال کر اپنی اصول پسندی کی دھاک بٹھا دی تھی۔

Read more

کوچہ کابینہ

پاکستان کے آئینی نظام میں وفاقی کابینہ قومی اور بین الاقوامی امور پر فیصلے کرنے کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ کابینہ وزیر اعظم کو مشورے دیتی ہے اور فیصلہ سازی سے پہلے اس پر بحث بھی کرتی ہے۔ کابینہ میں اختلاف رائے ہونا معمول کی بات ہے کیونکہ اسی اختلاف رائے پر بحث سے اچھی فیصلہ سازی ممکن ہوتی ہے۔

جب سے پاکستان بنا ہے وفاقی کابینہ میں اختلاف رائے کی کہانیاں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ایوب کابینہ میں محمد شعیب اور ذوالفقار علی بھٹو، بھٹو کابینہ میں شیخ رشید اور کوثر نیازی، نواز کابینہ میں چودھری نثار اور خواجہ آصف کے درمیان اختلافات مستقل موضوع رہے۔

Read more

جنرل عاصم باجوہ سیاسی ہو گئے؟

رحیم یار خان کے جاٹ کاشت کار گھرانے میں پیدا ہونے والے عاصم سلیم باجوہ کی زندگی کا بیشتر حصہ تو فن سپہ گری میں گزر گیا۔ فوجی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے تو سٹریٹیجک انتظامی عہدے سی پیک کے چیئرمین ہو گئے، اب وہ وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات بھی مقرر ہو چکے یوں زندگی میں پہلی بار وہ خالص سیاسی عہدے پر کام کریں گے۔ فوج اور سیاست کے نظام کار میں اس قدر فرق اور تضاد ہے

Read more

ترین تنگ آمد، بجنگ آمد

بلّی صدیوں سے انسان سے مانوس ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ بلّی انسان سے جنگ کرے یا اس پر حملہ آور ہو۔ مگر کئی بار دیکھا ہے کہ بلّی کو گھیر کر کونے میں لے جائیں اور اسے بھاگنے اور جان بچانے کا راستہ نہ دیں تو پالتو بلّی بھی کونے میں لے جانے والے پر حملہ آور ہو جاتی ہے، جھپٹتی ہے اور اپنی جان بچانے کے لیے انسان کو زخمی کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتی

Read more

ترین اور خان: اقتدار کے دوست اور ہوتے ہیں اور اپوزیشن کے دوست اور

دونوں خان پٹھان، جہانگیر ترین پٹھان اور عمران نیازی پٹھان۔ گو دونوں نسلی طور پر پٹھان ضرور ہیں مگر ان کے خاندان صدیوں سے پنجاب میں آباد ہیں، سو دونوں ہی پنجابی پٹھان ہیں۔ دونوں کے والد سرکاری ملازم تھے سو دونوں کے بچپن تقریباً ایک ہی طرح گزرے ہونگے۔ ترین کے والد اللہ نواز ترین پولیس میں تھے اور عمران کے والد سرکاری محکمے میں سول انجینئر تھے۔ ترین اور عمران دونوں کا پہلا کیرئیر سیاست نہیں تھا، ترین

Read more

سہیل وڑائچ کا کالم: عہد کورونا میں انتشار

دنیا بھر کی روایت ہے کہ قومیں، جنگوں بحرانوں اور دباؤ کے دوران اتحاد پیدا کرلیتی ہیں سب لوگ سیاسی سماجی اور مذہبی اختلاف کو بھلا کر سب حکومت وقت کا ساتھ دیتے ہیں ماضی میں پاکستان پر جب بھی آزمائش کا وقت آیا قوم اسی طرح متحد ہو گئی۔ سنہ 1965 میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اپوزیشن نے جنرل ایوب خان کے ساتھ اختلافات بھلا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا ذوالفقار علی بھٹو شملہ معاہدہ کرنے

Read more

شہباز شریف واپس کیوں آئے؟

پاکستان کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے واپس آنے کی وجوہات بڑی واضح ہیں، بلاول بھٹو ان کی بیرون ملک موجودگی کو اپوزیشن کے غیر موثر ہونے کی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ ن لیگ کے اراکین اسمبلی کی وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بزدار سے ملاقاتیں اور ان منحرف اراکین کی طرف سے شریف خاندان کے بیرون ملک جانے کے طعنے ان کی فوری آمد کی بڑی وجہ ہے۔ حال ہی میں مریم نواز شریف کے دورہ اسلام آباد

Read more

جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن اور تسلسل و استحکام کا روشن خیال ماڈل

بالآخر پاکستان کی پائیدار ترقی کا راستہ ہموار ہو چکا ہے کیونکہ تاریخ کے طالب علم اور ترقی کے خواہاں جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لیے آرمی چیف بنا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر وزیر اعظم عمران خان، امریکہ، یورپ اور دنیا بھر کے ممالک سے مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ اب پاکستان امن اور ترقی کی راہ پر ہی چلے گا۔ تاریخ کا شعور رکھنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ نہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتے ہیں اور نہ بھارت کے ساتھ جنگ، سو دنیا بھر کے امن پسندوں کے لیے جنرل باجوہ کی تقرری ایک خوشخبری ہے۔

Read more

کشمیر: اِب کے مار!

‘اِب کے مارا تو چھوڑوں گا نہیں’ ۔ ہم غصے میں پاگل ہیں۔ بھارت نے بھی تو اس بارحد ہی کر دی کشمیر کو ہڑپ کر لیا۔ ہم نے بھی جواباًی یوم آزادی پر بھارتی مٹھائی قبول نہ کر کے وہ تھپڑ مارا ہے کہ بھارت صدیوں یاد رکھے گا۔ سب سے زیادہ غصے میں سابق کشمیری مجاہد شیخ رشید ہیں جنہوں نے رد عمل کے طور پر سمجھوتہ ٹرین بند کر دی ہے، یہ وہ کاری وار ہے جو بھارت سہہ نہیں سکے گا اور چند ہی دن میں وزیراعظم مودی سر جھکائے قبلہ شیخ صاحب کے حضور پیش ہو گا کہ اسے ماضی کے اقدامات کی معافی دے دی جائے اور سمجھوتہ ٹرین کھول کر اس کی عزت بحال کی جائے وگرنہ اس کے لئے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔

Read more

آصف زرداری کی مفاہمتی سیاست کے باوجود جیل واپسی کی وجہ کیا بنی؟

آصف علی زرداری عدالتی حکم پر ایک بار پھر جیل جا پہنچے ہیں جیل ان کے لئے نئی تو نہیں البتہ اس بار وہ 15 برس کی طویل آزادی گزار کر جیل گئے ہیں۔اس 15 برس کے وقفے میں وہ پانچ برس صدر پاکستان بھی رہے، یوں شاید یہ پندرہ برس ان کی سیاسی زندگی میں آزادی کے وہ سال تھے جن میں انھوں نے بھرپور کوشش کہ وہ مقتدر قوتوں سے بنا کر رکھیں

Read more

مریم جی کی واپسی!

جب میاں نواز شریف چھ ہفتے کی میڈیکل ضمانت کے بعد پھولوں کے ہار سجائے نعروں کی گونج میں منگل کو رات گئے جیل واپس پہنچے تو ن لیگ میں کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ریلی میں شہباز شریف کا بیانیہ کہیں نظر نہ آیا بلکہ شہباز شریف نے الٹا اپنے بیان کے ذریعے نواز بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی اور ساتھ ہی اپنے لخت جگر حمزہ کو ڈرائیو کرنے پر مامور کیا کہ کوئی کسر نہ رہ جائے۔

Read more

میجر جنرل آصف غفور اور مہاتما گاندھی

یہ خط میاں افتخارالدین کے خاندان کے پاس اب بھی محفوظ ہے۔مہاتما گاندھی نے یہ خط اس وقت لکھا جب میاں افتخار الدین نے انڈین نیشنل کانگریس پنجاب کی صدارت چھوڑ کر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ ظاہر ہے کہ مہاتما گاندھی کو اپنے دیرینہ ساتھی اور پنجاب کانگریس کے صدر کے پارٹی چھوڑ جانے پر افسوس تو بہت ہوا ہو گا

Read more

اسد عمر: پاکستان کی سیاسی تاریخ اور بھتیجے

ہمارے خاندان کی پرم پرا اور روایات کے مطابق بیٹوں اور بھتیجوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا، بھتیجوں کو خاندان کی شان سمجھا جاتا ہے اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے، انہیں تگڑا کرنے اور انکی غلطیوں سے صرف نظر کرنے میں کسی قسم کی شرم یا عار محسوس نہیں کی جاتی بلکہ اسے اپنے خاندان کی عزت و وقار میں بڑھاوا تصور کیا جاتا ہے۔ اللہ نظر بد سے بچائے ہمارے بھتیجے ہوتے بھی میرٹ پر ہیں،

Read more

ضمانت کی سیاست اور سال 2019، آنے والے چند ماہ کیا گل کھلائیں گے؟

حالات کا جبر کچھ ایسا ہو گیا تھا کہ سب فریقوں کو نواز شریف کی ضمانت سے ریلیف ملا ہے۔ سب کے لیے یہ ضمانت Win Win ہے۔نواز شریف کی طویل خاموشی اور علاج کے لیے ہسپتال جانے سے انکار دراصل مدافعانہ مزاحمت کی ایک نئی شکل تھی جس سے فوج، عدلیہ اور عمران حکومت تینوں پر دباؤ پڑا۔نواز شریف کی مدافعانہ مزاحمت سے یہ تاثر پختہ ہو رہا تھا کہ نواز شریف کا صرف احتساب نہیں ہو رہا بلکہ انہیں انتقام کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کرنے اور انکی طاقت کم کرنے کے بعد انہیں بھٹو جیسا شہید نہیں بنانا چاہتی تھی اور نہ ہی پھر سے تارا مسیح جیسے جلاد کا خطاب لینا پسند کرتی۔

Read more

پاکستانی سیاست اور شاہی دورہ

یہ بات تو طے ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان قطعاً غیر سیاسی تھا مگر اس کے سیاسی اثرات بہرحال مرتب ہوئے ہیں۔ چاہے وقتی طور پر ہی سہی عمران خان کو ذاتی طور پر اور تحریک انصاف کی حکومت کو سیاسی سہارا ملا ہے۔ معاشی گرداب اور بری طرز حکمرانی کی شکار حکومت کو سات ماہ بعد پہلی بار سر اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ سیاسی مخالف، سعودی ولی عہد کے احترام، شان و

Read more

بے نظیر زندہ ہوتیں تو ۔۔۔۔

آج کے دور میں معجزے اور کرامتیں کم کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں لیکن پھر بھی تصور کر لیتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو کیا کیا ہوتا اور کیا کیا نہ ہوتا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد سے پہلے لندن کے ہائیڈ پارک میں واک کے دوران میرا ان سے تفصیلی مکالمہ ہوا تھا۔ محترمہ کے ہمراہ رحمٰن ملک اور ناہید خان دونوں موجود تھے۔ محترمہ نے واک شروع ہوتے ہی مجھ سے

Read more

نواز لیگ کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟

نائن الیون نے دنیا بدل دی تھی اور پاکستان میں احتساب عدالت کے فیصلے نے مسلم لیگ (ن) کی سیاست بدل دی ہے۔ نواز شریف اور ان کی پارٹی دیوار سے لگ گئے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ان کی مزاحمت میں ایسی جارحیت نہیں ہے کہ وہ ملک گیر سطح کی کوئی احتجاجی تحریک چلا کر سیاسی دباؤ ڈال سکیں۔ ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کو سیاسی طور پر فری ہینڈ ملے گا اور وہ اپنے راستے میں

Read more

علیمہ خان کون ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ نیازی خاندان کی وہ واحد خاتون ہیں جو شروع سے ہی اپنے دبنگ اظہار خیال اور اپنی چاروں بہنوں کی ترجمان کے طور پر سماجی حلقوں میں جانی پہچانی جاتی ہیں۔ حال میں ہی ان پر الزام لگا کہ دوبئی کے قلب میں واقع برج الخلیفہ سے متصل ان کا سات کروڑ 40 لاکھ روپے کا فلیٹ ہے۔ ابتدائی طور پر علیمہ خان نے اس جائیداد کو ظاہر نہیں کیا تھا جس پر انہیں

Read more

عمران خان کے مشیر اور 50 لاکھ گھروں کے منصوبے کے ذمہ دار انیل مسرت کون ہیں؟

صنعتی شہر مانچسٹر کے ورکنگ کلاس علاقے لانگ سائٹ میں پیدا ہونے والے 49 سالہ انیل مسرت کا شمار بر طانیہ کے امیر ترین ایشیائی باشندوں میں ہوتا ہے۔

انیل کا بچپن ورکنگ کلاس تارکین وطن کے بچوں کی طرح ہی تھا ہر سال والدہ کے آبائی شہر چنیوٹ اور والد کے آبائی شہر گوجرہ کا چکر لگانا اور یہاں آزاد اور پر امن ماحول میں گلیوں بازاروں میں گھومنا پھرنا اُن کے لیے روٹین تھا۔ سکول میں انیل کا دل نہیں لگتا تھا اسی لیے سکول سے ڈراپ آؤٹ ہو گئے اوپر سے افتاد یہ پڑی کہ والد کا انتقال ہو گیا جس کے بعد انہیں لڑکپن میں ہی غم روزگار میں مبتلا ہونا پڑا۔

Read more