وزیر اعظم کے لیے خطرناک ترین، شہباز شریف یا جہانگیر ترین؟
پی ٹی آئی کا ووٹ بڑھنے کی وجہ اس کی مقبولیت نہیں بلکہ نظام کی کرپکشن ہے یعنی سیاست پھر سے 2 پارٹی نظام کی طرف لوٹ رہی ہے۔
Read moreپی ٹی آئی کا ووٹ بڑھنے کی وجہ اس کی مقبولیت نہیں بلکہ نظام کی کرپکشن ہے یعنی سیاست پھر سے 2 پارٹی نظام کی طرف لوٹ رہی ہے۔
Read moreاپوزیشن کے لیے اب بھی بہتر یہی ہو گا کہ ایک دوسرا کا کہا سنا معاف کر کے دوبارہ سے ساتھ چلنے کی کوشش کی جائے ابھی طلاق نہیں ہوئی صرف ناراضی ہوئی ہے اس لیے ابھی صلح کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔
Read moreاگرچہ بلاول اور مریم کے بیانات سے دونوں جماعتوں کے اختلاف بڑھے ہیں مگر دونوں جماعتوں کے سنجیدہ فکر رہنما چاہتے یہی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ اتحاد برقرار رہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن ایسا کیا فارمولا نکالتے ہیں جس سے دونوں بڑی جماعتیں بھی راضی رہیں اور اتحاد بھی نہ ٹوٹے، سہیل وڑائچ کا تجزیہ۔
Read moreپی ڈی ایم کی میٹنگ میں کھلم کھلا Clash ہوا اور بات کریش تک آ گئی۔ دوسری جانب ن لیگ اور مریم نواز Smash کیے جانے کی دھمکیوں کے باوجود اپنا جارحانہ انداز ِسیاست برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
Read moreاگر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتے ہیں تو ریاست، مقتدرہ اور حکومت مطمئن ہوں گے کہ انھوں نے نہ صرف ایک اعلیٰ ترین ریاستی پوزیشن بچا لی بلکہ وہاں ایک ایسا شخص بٹھا دیا جو ریاست یا مقتدرہ کی مرضی کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا۔ پڑھیے سہیل وڑائج کا کالم۔
Read moreسینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے امیدوار بنانے، ان کی لابنگ کرنے اور پہلے دن سے آخری وقت تک پر امید رہنے والے آصف زرداری بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں ان کی بچھائی ہوئی سیاسی بساط میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ پڑھیے سہیل وڑائچ کا کالم۔
Read moreحقیت یہ ہے کہ اگر سیاسی اصول پسندی ہو تو فیصلے سود و زیاں اور نفع نقصان سے اوپر اٹھ کر کیے جاتے ہیں مگر تلخ ترین پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی ہو یا ن لیگ ہو پیپلز پارٹی، سب کو اصو ل صرف اپنے فائدے میں یاد آتے ہیں، اور نقصان ہو تو اصول بھلا دیے جاتے ہیں۔
Read moreکسی زمانے جہانگیر ترین تحریک انصاف اور حکومت میں عمران خان کے نمبر ٹو سمجھے جاتے تھے لیکن اب ان کا رسوخ نہیں رہا کیونکہ عمران خان کی کچن کابینہ کے ارکان اعظم خان ، شہزاد اکبر اور اسد عمر سے ان کی نہیں بنتی اور یہ ساری لابی جہانگیر ترین اور عمران خان میں فاصلے برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود جہانگیر ترین گو دوبارہ سے اہم ترین تو نہیں بن سکے مگر وہ عمران خان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
Read moreپاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نہ تو اپنے خاندان کے پہلے ’شاہ محمود‘ ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان میں اعلیٰ عہدے پر متمکن ہونے والے پہلے فرد ہیں۔
Read moreاپوزیشن کی گذشتہ دو سال کی کارکردگی دیکھتے ہوئے باآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں کوئی احتجاجی تحریک یا کسی بڑی مزاحمتی تحریک کا امکان نظر نہیں آ رہا۔
Read moreجس ملک میں بھی معاشی بحران آتا ہے وہاں نہ صرف گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں بلکہ خاندانی رشتے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پنجاب کے شہر لودھراں کی راجپوت کالونی کے رانا شبیر احمد کے اخبارات میں شائع شدہ بڑے بڑے اشتہارات کا چرچہ ہے۔ ان اشتہارات کے ذریعے والد نے اپنے حقیقی بیٹے رانا محمد ارسلان سے ’بوجہ نافرمانی، گستاخی اور غلط چال چلن‘ اعلان لاتعلقی کر دیا ہے۔ رانا محمد ارسلان ضلع لودھراں سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
Read moreاس دفعہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ حساس، سنجیدہ اور پیچیدہ ہے۔ کرکٹ کی جس طرح تباہی ہو رہی ہے اس پر خاموش بیٹھنا کسی پاکستانی کے بس میں نہیں ہے۔
ہم سب کرکٹ کے کھیل کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کرکٹ ہمارا جوش، جنون اور شوق ہے۔ ہم سیاست کی غلطیاں تو معاف کر سکتے ہیں مگر کرکٹ ٹیم کی سلیکشن میں غلطیوں کو معاف نہیں کریں گے۔
Read moreاگر نیب اور حکومت شہباز شریف کی گرفتاری کے در پے نہ ہوتے تو لیڈر آف دی اپوزیشن آج بھی ماڈل ٹاؤن والے گھر میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کورونا کے بارے اعدادو شمار پڑھنے تک ہی محدود ہوتے۔ مگر حکومتی اور نیب کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ شہباز شریف لُگے (اکیلے کا پنجابی کا متبادل) نہیں ہیں ان کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی کھڑا ہے۔
ایک طرف نیب ان کے گھروں پر چھاپے مار رہا تھا، ہائیکورٹ کے دروازوں پر پولیس چوکیاں بنی ہوئی تھیں تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور خان اور چینی سفیر شہباز شریف کی طبیعت پوچھنے کے لیے فون کر رہے تھے۔
Read moreدوستوں کو اطلاع ہو کہ مجھے کرونا ہو گیا ہے۔ جب سے کرونا کی وبا پھیلی تھی میں بہت احتیاط کر رہا تھا۔ دستانے اور ماسک پہن کر باہر نکلتا رہا۔ سماجی دوری کا خیال رکھا۔ تقریبات میں جانا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ معمول کی ادویات کے علاوہ کلونجی بھی پانی کے ساتھ مسلسل لے رہا تھا۔ ساتھ ہی لہسن کی تری دہی میں ڈال کر کھا رہا تھا۔ لونگ اور ادرک والا قہوہ اہلِ خانہ زبردستی پلا رہے تھے۔
Read moreیادش بخیر وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی سندھ اور وفاق میں چینی کے مسئلے پر بحث مباحثہ پر تبصرہ کرتے تو کہتے ’چینی تو چینی ہوتی ہے چاہے وہ سندھی چینی ہو یا وفاقی چینی ہو یا پھر پنجابی چینی‘ مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔ وفاق کی چینی کا معاملہ الگ ہے، پنجاب کی چینی کا معاملہ اور ہے اور سندھ کی چینی کا معاملہ بالکل ہی مختلف ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سندھ اور وفاق کی طرف سے
Read moreافراط و تفریط ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے۔ اپنے پسندیدہ لیڈر کے اوصاف کو ہم بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور نا پسندیدہ شخص میں ہمیں کوئی خوبی نظر نہیں آتی بلکہ اس کے نقائص اس قدر زیادہ لگتے ہیں کہ اسے ہمارے لیے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ افراط و تفریط اور یہ عدم توازن ہمارے جذباتی پن کی وجہ سے ہے۔ آئیے آج وزیر اعظم عمران خان کی خوبیوں اور خامیوں کا غیر جذباتی جائزہ لیں۔
کرکٹ ہیرو سے وزیر اعظم بننے تک عمران خان نے اپنی ایمانداری اور اصول پسندی کا تاثر ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنتے ہی انھوں نے اپنے سے عمر میں بڑے خالہ زاد بھائی ماجد خان کو ٹیم سے نکال کر اپنی اصول پسندی کی دھاک بٹھا دی تھی۔
Read moreپاکستان کے آئینی نظام میں وفاقی کابینہ قومی اور بین الاقوامی امور پر فیصلے کرنے کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ کابینہ وزیر اعظم کو مشورے دیتی ہے اور فیصلہ سازی سے پہلے اس پر بحث بھی کرتی ہے۔ کابینہ میں اختلاف رائے ہونا معمول کی بات ہے کیونکہ اسی اختلاف رائے پر بحث سے اچھی فیصلہ سازی ممکن ہوتی ہے۔
جب سے پاکستان بنا ہے وفاقی کابینہ میں اختلاف رائے کی کہانیاں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ایوب کابینہ میں محمد شعیب اور ذوالفقار علی بھٹو، بھٹو کابینہ میں شیخ رشید اور کوثر نیازی، نواز کابینہ میں چودھری نثار اور خواجہ آصف کے درمیان اختلافات مستقل موضوع رہے۔
Read moreرحیم یار خان کے جاٹ کاشت کار گھرانے میں پیدا ہونے والے عاصم سلیم باجوہ کی زندگی کا بیشتر حصہ تو فن سپہ گری میں گزر گیا۔ فوجی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے تو سٹریٹیجک انتظامی عہدے سی پیک کے چیئرمین ہو گئے، اب وہ وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات بھی مقرر ہو چکے یوں زندگی میں پہلی بار وہ خالص سیاسی عہدے پر کام کریں گے۔ فوج اور سیاست کے نظام کار میں اس قدر فرق اور تضاد ہے
Read moreبلّی صدیوں سے انسان سے مانوس ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ بلّی انسان سے جنگ کرے یا اس پر حملہ آور ہو۔ مگر کئی بار دیکھا ہے کہ بلّی کو گھیر کر کونے میں لے جائیں اور اسے بھاگنے اور جان بچانے کا راستہ نہ دیں تو پالتو بلّی بھی کونے میں لے جانے والے پر حملہ آور ہو جاتی ہے، جھپٹتی ہے اور اپنی جان بچانے کے لیے انسان کو زخمی کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتی
Read moreدونوں خان پٹھان، جہانگیر ترین پٹھان اور عمران نیازی پٹھان۔ گو دونوں نسلی طور پر پٹھان ضرور ہیں مگر ان کے خاندان صدیوں سے پنجاب میں آباد ہیں، سو دونوں ہی پنجابی پٹھان ہیں۔ دونوں کے والد سرکاری ملازم تھے سو دونوں کے بچپن تقریباً ایک ہی طرح گزرے ہونگے۔ ترین کے والد اللہ نواز ترین پولیس میں تھے اور عمران کے والد سرکاری محکمے میں سول انجینئر تھے۔ ترین اور عمران دونوں کا پہلا کیرئیر سیاست نہیں تھا، ترین
Read moreدنیا بھر کی روایت ہے کہ قومیں، جنگوں بحرانوں اور دباؤ کے دوران اتحاد پیدا کرلیتی ہیں سب لوگ سیاسی سماجی اور مذہبی اختلاف کو بھلا کر سب حکومت وقت کا ساتھ دیتے ہیں ماضی میں پاکستان پر جب بھی آزمائش کا وقت آیا قوم اسی طرح متحد ہو گئی۔ سنہ 1965 میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اپوزیشن نے جنرل ایوب خان کے ساتھ اختلافات بھلا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا ذوالفقار علی بھٹو شملہ معاہدہ کرنے
Read moreپاکستان کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے واپس آنے کی وجوہات بڑی واضح ہیں، بلاول بھٹو ان کی بیرون ملک موجودگی کو اپوزیشن کے غیر موثر ہونے کی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ ن لیگ کے اراکین اسمبلی کی وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بزدار سے ملاقاتیں اور ان منحرف اراکین کی طرف سے شریف خاندان کے بیرون ملک جانے کے طعنے ان کی فوری آمد کی بڑی وجہ ہے۔ حال ہی میں مریم نواز شریف کے دورہ اسلام آباد
Read moreبالآخر پاکستان کی پائیدار ترقی کا راستہ ہموار ہو چکا ہے کیونکہ تاریخ کے طالب علم اور ترقی کے خواہاں جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لیے آرمی چیف بنا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر وزیر اعظم عمران خان، امریکہ، یورپ اور دنیا بھر کے ممالک سے مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ اب پاکستان امن اور ترقی کی راہ پر ہی چلے گا۔ تاریخ کا شعور رکھنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ نہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتے ہیں اور نہ بھارت کے ساتھ جنگ، سو دنیا بھر کے امن پسندوں کے لیے جنرل باجوہ کی تقرری ایک خوشخبری ہے۔
Read more‘اِب کے مارا تو چھوڑوں گا نہیں’ ۔ ہم غصے میں پاگل ہیں۔ بھارت نے بھی تو اس بارحد ہی کر دی کشمیر کو ہڑپ کر لیا۔ ہم نے بھی جواباًی یوم آزادی پر بھارتی مٹھائی قبول نہ کر کے وہ تھپڑ مارا ہے کہ بھارت صدیوں یاد رکھے گا۔ سب سے زیادہ غصے میں سابق کشمیری مجاہد شیخ رشید ہیں جنہوں نے رد عمل کے طور پر سمجھوتہ ٹرین بند کر دی ہے، یہ وہ کاری وار ہے جو بھارت سہہ نہیں سکے گا اور چند ہی دن میں وزیراعظم مودی سر جھکائے قبلہ شیخ صاحب کے حضور پیش ہو گا کہ اسے ماضی کے اقدامات کی معافی دے دی جائے اور سمجھوتہ ٹرین کھول کر اس کی عزت بحال کی جائے وگرنہ اس کے لئے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔
Read moreآصف علی زرداری عدالتی حکم پر ایک بار پھر جیل جا پہنچے ہیں جیل ان کے لئے نئی تو نہیں البتہ اس بار وہ 15 برس کی طویل آزادی گزار کر جیل گئے ہیں۔اس 15 برس کے وقفے میں وہ پانچ برس صدر پاکستان بھی رہے، یوں شاید یہ پندرہ برس ان کی سیاسی زندگی میں آزادی کے وہ سال تھے جن میں انھوں نے بھرپور کوشش کہ وہ مقتدر قوتوں سے بنا کر رکھیں
Read moreجب میاں نواز شریف چھ ہفتے کی میڈیکل ضمانت کے بعد پھولوں کے ہار سجائے نعروں کی گونج میں منگل کو رات گئے جیل واپس پہنچے تو ن لیگ میں کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ریلی میں شہباز شریف کا بیانیہ کہیں نظر نہ آیا بلکہ شہباز شریف نے الٹا اپنے بیان کے ذریعے نواز بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی اور ساتھ ہی اپنے لخت جگر حمزہ کو ڈرائیو کرنے پر مامور کیا کہ کوئی کسر نہ رہ جائے۔
Read moreیہ خط میاں افتخارالدین کے خاندان کے پاس اب بھی محفوظ ہے۔مہاتما گاندھی نے یہ خط اس وقت لکھا جب میاں افتخار الدین نے انڈین نیشنل کانگریس پنجاب کی صدارت چھوڑ کر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ ظاہر ہے کہ مہاتما گاندھی کو اپنے دیرینہ ساتھی اور پنجاب کانگریس کے صدر کے پارٹی چھوڑ جانے پر افسوس تو بہت ہوا ہو گا
Read moreہمارے خاندان کی پرم پرا اور روایات کے مطابق بیٹوں اور بھتیجوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا، بھتیجوں کو خاندان کی شان سمجھا جاتا ہے اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے، انہیں تگڑا کرنے اور انکی غلطیوں سے صرف نظر کرنے میں کسی قسم کی شرم یا عار محسوس نہیں کی جاتی بلکہ اسے اپنے خاندان کی عزت و وقار میں بڑھاوا تصور کیا جاتا ہے۔ اللہ نظر بد سے بچائے ہمارے بھتیجے ہوتے بھی میرٹ پر ہیں،
Read moreحالات کا جبر کچھ ایسا ہو گیا تھا کہ سب فریقوں کو نواز شریف کی ضمانت سے ریلیف ملا ہے۔ سب کے لیے یہ ضمانت Win Win ہے۔نواز شریف کی طویل خاموشی اور علاج کے لیے ہسپتال جانے سے انکار دراصل مدافعانہ مزاحمت کی ایک نئی شکل تھی جس سے فوج، عدلیہ اور عمران حکومت تینوں پر دباؤ پڑا۔نواز شریف کی مدافعانہ مزاحمت سے یہ تاثر پختہ ہو رہا تھا کہ نواز شریف کا صرف احتساب نہیں ہو رہا بلکہ انہیں انتقام کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کرنے اور انکی طاقت کم کرنے کے بعد انہیں بھٹو جیسا شہید نہیں بنانا چاہتی تھی اور نہ ہی پھر سے تارا مسیح جیسے جلاد کا خطاب لینا پسند کرتی۔
Read moreیہ بات تو طے ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان قطعاً غیر سیاسی تھا مگر اس کے سیاسی اثرات بہرحال مرتب ہوئے ہیں۔ چاہے وقتی طور پر ہی سہی عمران خان کو ذاتی طور پر اور تحریک انصاف کی حکومت کو سیاسی سہارا ملا ہے۔ معاشی گرداب اور بری طرز حکمرانی کی شکار حکومت کو سات ماہ بعد پہلی بار سر اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ سیاسی مخالف، سعودی ولی عہد کے احترام، شان و
Read moreآج کے دور میں معجزے اور کرامتیں کم کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں لیکن پھر بھی تصور کر لیتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو کیا کیا ہوتا اور کیا کیا نہ ہوتا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد سے پہلے لندن کے ہائیڈ پارک میں واک کے دوران میرا ان سے تفصیلی مکالمہ ہوا تھا۔ محترمہ کے ہمراہ رحمٰن ملک اور ناہید خان دونوں موجود تھے۔ محترمہ نے واک شروع ہوتے ہی مجھ سے
Read moreنائن الیون نے دنیا بدل دی تھی اور پاکستان میں احتساب عدالت کے فیصلے نے مسلم لیگ (ن) کی سیاست بدل دی ہے۔ نواز شریف اور ان کی پارٹی دیوار سے لگ گئے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ان کی مزاحمت میں ایسی جارحیت نہیں ہے کہ وہ ملک گیر سطح کی کوئی احتجاجی تحریک چلا کر سیاسی دباؤ ڈال سکیں۔ ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کو سیاسی طور پر فری ہینڈ ملے گا اور وہ اپنے راستے میں
Read moreوزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ نیازی خاندان کی وہ واحد خاتون ہیں جو شروع سے ہی اپنے دبنگ اظہار خیال اور اپنی چاروں بہنوں کی ترجمان کے طور پر سماجی حلقوں میں جانی پہچانی جاتی ہیں۔ حال میں ہی ان پر الزام لگا کہ دوبئی کے قلب میں واقع برج الخلیفہ سے متصل ان کا سات کروڑ 40 لاکھ روپے کا فلیٹ ہے۔ ابتدائی طور پر علیمہ خان نے اس جائیداد کو ظاہر نہیں کیا تھا جس پر انہیں
Read moreصنعتی شہر مانچسٹر کے ورکنگ کلاس علاقے لانگ سائٹ میں پیدا ہونے والے 49 سالہ انیل مسرت کا شمار بر طانیہ کے امیر ترین ایشیائی باشندوں میں ہوتا ہے۔
انیل کا بچپن ورکنگ کلاس تارکین وطن کے بچوں کی طرح ہی تھا ہر سال والدہ کے آبائی شہر چنیوٹ اور والد کے آبائی شہر گوجرہ کا چکر لگانا اور یہاں آزاد اور پر امن ماحول میں گلیوں بازاروں میں گھومنا پھرنا اُن کے لیے روٹین تھا۔ سکول میں انیل کا دل نہیں لگتا تھا اسی لیے سکول سے ڈراپ آؤٹ ہو گئے اوپر سے افتاد یہ پڑی کہ والد کا انتقال ہو گیا جس کے بعد انہیں لڑکپن میں ہی غم روزگار میں مبتلا ہونا پڑا۔
Read more