آصف علی زرداری کی احتساب عدالت میں پیشی: ’جج صاحب مجھے تو یہ نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے‘

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آصف علی زرداری

Getty Images
جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ملزمان میں شامل ہیں (فائل فوٹو)

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بلآخر پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا جسمانی ریمانڈ ختم کر کے جوڈیشیل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

عدالت نے مبینہ جعلی اکاؤنٹس کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی طرف سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

آصف علی زرداری کے وکیل اور سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا کہ عدالت ان کے موکل کی بات پر عمل کرتے ہوئے ’ایک ہی مرتبہ 100 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیتی تاکہ ملزم کو عدالت میں لانے اور لے جانے میں ملکی خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑے‘ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ کہہ دیا کہ ’عدالت کے پاس ایک وقت میں 14 روز سے زیادہ کا جسمانی ریمانڈ دینے کا اختیار نہیں ہے۔‘

آصف علی زرداری دو ماہ سے زیادہ عرصہ جسمانی ریمانڈ پر جیل میں رہے۔ سابق صدر رکن قومی اسمبلی بھی ہیں اور وہ اس عرصے کے دوران قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔

سماعت کے دوران آصف علی زرداری اپنی نشست سے اُٹھے اور روسٹم پر آگئے اور اُنھوں نے عدالت سے شکوے کے انداز میں کہا کہ ’جج صاحب یہ تو مجھے نماز بھی نہیں پرھنے دیتے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب والوں نے تو اُنھیں ’عید کی نماز بھی نہیں پڑھنے دی۔‘

سابق صدر نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہاں پر ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی موجود ہوتے تو ان سے پوچھتے کہ ’یہ کونسی اسلامی ریاست ہے‘۔

آصف علی زرداری نے شکوے کے انداز میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی بیٹی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سابق صدر کی بیٹی آصفہ بھٹو سماعت کے دوران اپنے والد کے برابر والی نشست پر بیٹھی تھیں۔

سابق صدر کے وکیل نے بھی کہا کہ اُنھیں بھی اپنے موکل سے ملاقات کرنے سے پہلے دو تین گھنٹے انتظار کروایا جاتا ہے اور ’وکلا چونکہ عدالتی نظام کا حصہ ہیں اس لیے اس کو عدالت کی توہین تصور کیا جائے۔‘

عدالت کی طرف سے جب ملزم آصف علی زرداری کو اڈیالہ جیل بھجوانے کی روبکار جاری کر دی گئی تو آصف علی زرداری نے اپنے وکلا کے توسط سے احتساب عدالت کے جج سے ایک خواہش کا اظہار کیا کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں لے جاتے وقت اُنھیں بکتر بند گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا جائے جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ گاڑی کے آگے بیٹھنا ہے یا پیچھے اس بارے میں کیسے کوئی احکامات جاری کرسکتے ہیں۔ عدالت نے ملزم کی یہ استدعا مسترد کردی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کا فاصلہ 25 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

آصف علی زرداری کی خواہش پوری نہ ہونے پر ان کے وکیل نے جیل میں ملزم کو اے کلاس دینے سے متعلق بھی جج کو درخواست دی ہے جس میں ائر کنڈیشن کے علاوہ فرج، ٹی وی اور پڑھنے کے لیے کتابیں اور اخبارات بھی فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیل مینوئیل کے مطابق اے کلاس اس شخص کو دی جاتی ہے جو اہم آئینی عہدے پر تعینات رہا ہو، رکن پارلیمنٹ یا ملک کی اہم شخصیات کو اے کلاس دی جاتی ہے۔ جیل حکام کے مطابق ایسے ملزم یا مجرم کو ایک یا دو مشقتی بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان اس قانون کو تبدیل کروانے کے حق میں ہیں اور اُنھوں نے بارہا اس کا اظہار بھی کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10818 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp