1947 اگست: شیخوپورہ پر کیا بیتی؟


24 اگست کو پولیس نے سارے شہر کو گھیر لیا۔ ڈی۔ سی کسی کام سے شہر سے باہر چلا گیا۔ پیچھے اے۔ ڈی۔ ایم نے، رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک کرفیو لگا دیا۔ مارچ سے لے کر اب تک اِس شہر میں کوئی خونی واردات نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ اس شہر میں 24 اگست کو پہلی بار کرفیو لگا۔ اُس رات 9 بج کر 27 منٹ پر گردوارہ بازار میں مسلم فوج نے آگ لگا دی۔ آگ کے بلند شعلے دیکھ کر شہر میں شور وغل بپا ہو گیا۔ لوگ مکان کی چھتوں پر چڑھ کر دیکھنے لگے۔

آگ کی لپٹیں اور شور سن کر ڈی۔ سی کار میں سوار ہو کر جائے حادثہ پر پہنچا۔ اس نے لوگوں سے آ کر آگ بجھانے کو کہا۔ شہریوں نے کرفیو کا ڈر ظاہر کیا۔ اس نے حکم دیا کہ کوئی کرفیو نہیں، لوگ آ کر آگ بجھائیں۔ یہ سن کر لوگ چھتوں سے اترے اور بالٹیاں بھر کر آگ بجھانے پہنچے۔ گردوارے کے پچھلے بازار میں مسلم فوج نے بدمعاشی کا مظاہرہ کیا۔ لوگ جب وہاں بالٹیاں لے کر نکلے تو مسلم فوج نے حکیم لچھمن سنگھ اور گربچن داس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ آگ والی جگہ پر ڈی سی نے اس طرح کا کوئی افسوسناک واقعہ نہ ہونے دیا۔ لوگوں نے آگ بجھا دی۔ بارہ دکانیں اور پانچ مکان جل کر راکھ ہو گئے۔ اس آگ سے سارے شہر میں سراسیمگی پھیل گئی۔ لوگوں کو حوصلہ دیتے ہوئے ڈی۔ سی نے کہا کہ میں اس شہر میں کوئی گڑبڑ نہیں ہونے دوں گا۔

25 اگست کی صبح جب میں گردوارے پہنچا تو اس وقت وہاں، کیرتن کے دوران، صرف بارہ آدمی بیٹھے تھے۔ کچھ بیبیاں وہاں پہنچیں تو سیکٹری نے کہا کہ آپ کیوں آئیں ہیں۔ جاؤ گھر جا کر بیٹھو۔ یہ پہلی بار تھا جب گردوارے میں اتنی بے رونقی دیکھی گئی۔ 9 بجے ڈی۔ سی پھر آگ والی جگہ پر آیا۔ میں اور شری ’دَربارہ سنگھ وکیل‘ اس سے ملنے گئے۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ سب کرفیو کی ہی وجہ سے ہوا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوبارہ کرفیو نہ لگایا جائے۔ ڈی سی نے یہ بات مان لی اور مکمل طور پر امن قائم رکھنے کا یقین دلایا۔

میں شری گوپال سنگھ جی کے کارخانے کی طرف جاتا ہوا جب ’کرامت علی‘ (وزیر مغربی پنجاب) کی کوٹھی کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ دو مسلمان مجسٹریٹ (احمد شفیع اور مسٹر بٹ) کوٹھی کے اندر داخل ہوتے ہوئے نظر آئے۔ میرا خیال ہے کہ ہماری تباہی کا پروگرام اسی وقت بنایا گیا تھا۔ کارخانہ شری ’گوپال سنگھ‘ اور ’لالہ املوک رام‘ کا مشترکہ تھا۔ ان دونوں کے پریوار، میرا پریوار، کارخانے کے مزدوروں کے پریوار اور مزید کچھ لوگ وہاں اکٹھے ہو چکے تھے۔ جن کی تعداد بعد میں لگ بھگ تین سو ہو گئی۔

10 بجے کے قریب مسلم فوج اور پولیس کی شہر میں بھاگ دوڑ شروع ہو گئی۔ شہر میں جگہ جگہ چوراہوں، گلیوں اور بازاروں میں ہتھیار بند سپاہی کھڑے ہو گئے۔ شہر کی ناکابندی کچھ اس ڈھنگ سے کی گئی کہ کوئی بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتا تھا۔ دوپہر تک ہزاروں مسلمان ہتھیار لے کر باہر سے آ پہنچے۔ شہر کی آبادی میں مسلمان بمشکل تیسرا حصہ تھے۔ لیکن باہر سے آئے مسلمان، فوج اور پولیس کے ساتھ مل کر بہت دلیر ہو گئے۔

سب سے پہلے کوٹ رامگڑھ کی باری آئی۔ یہ کوٹ ریلوے لائن کی دوسری طرف تھا جہاں زیادہ تر آبادی رامگڑھی سکھوں کی تھی۔ 25 اگست کو دن ڈیڑھ بجے چار ہزار مسلم بلوائی، 50 سپاہیوں اور 2 ٹینکوں کے ساتھ رامگڑھ پر حملہ کرنے کے لیے بڑھے۔ ہم گوپال سنگھ جی کے کارخانے کی اوپر والی چھت پر کھڑے دیکھ رہے تھے۔ ملٹری، ٹینکوں کے ہمراہ ریلوے لائن پر کھڑی ہو گئی۔ ان کے پاس 303 نمبر کی قسم کی بندوقیں، اسٹین گنیں اور برین گنیں تھیں۔

چار ہزار مسلم ہجوم نے آگے بڑھ کر رامگڑھ پر حملہ کیا۔ سکھ اپنے مورچوں میں ڈٹے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے سامنے سے گولیاں چلائیں تو مسلمان پیچھے کی طرف بھاگے۔ ملٹری نے انہیں روک کر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ بڑی مشکل سے بلوایوں کو دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ اس بار سکھوں نے کچھ اس ڈھنگ سے گولی چلائی کی کہ مسلمان زمین پر گر پڑے۔ باقی سب کچھ اس طرح سے گھبرائے کہ ریلوے لائن کی دوسری طرف جا کھڑے ہونے۔

اب بہت زور دینے پر بھی مسلمان آگے بڑھ کر حملہ کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ پھر ملٹری خود آگے بڑھی۔ لائن کی دوسری طرف مورچے بنا کر ملٹری نے فائرنگ شروع کر دی۔ سکھ بھی اسی طرح کا جواب دینے لگے۔ تین گھنٹے تک آمنے سامنے سے گولیاں برستی رہیں۔ ملٹری نے فوجی گرنیڈ (بم) چلائے۔ سکھوں کے پاس سکا بارود ختم ہو گیا۔ مسلم بلوائی کوٹ میں داخل ہو گئے اور جگہ جگہ آگ لگا دی۔ جو بھی سکھ آدمی یا عورت سامنے نظر آیا، موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 5 بجے شام تک سارا کوٹ تباہ کر دیا گیا۔ مسلمانوں کا اردگرد مضبوط گھیرا تھا، شاید ہی کوئی کوٹ میں سے بچ کر نکلنے میں کی کامیاب ہوا ہو۔ شام تک کوٹ میں صرف آگے کے شعلے ہی شعلے دکھائی دے رہے تھے۔

وہاں سے فارغ ہو کر ملٹری مسلم بلوائیوں کے ساتھ پانچ بجے شہر میں داخل ہو گئی۔ سارے شہر میں آگ اور خون کی باتیں ہی ہو رہی تھیں۔ ایک ایک منٹ میں ہزاروں گولیوں کے چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اخباروں میں دوسری جنگ عظیم کے بارے میں پڑھتے رہے تھے کہ ’سٹالن گراڈ‘ میں بہت گولی برسی تھی، لیکن یہاں اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ برس رہی تھی۔ 25 اگست کو دن ڈیڑھ بجے سے لے کر اگلے دن شام کے چھ بجے تک گولی چلتی رہی۔ ہم اس رات پورے شہر میں آگ اور گولی چلتی دیکھتے رہے۔

شہر میں گڑبڑ شروع ہوتے ہی مزید ہندو اور سکھ کارخانے کے اندر آ گئے۔ کل گنتی تین سو کے قریب ہو چکی تھی۔ کارخانے کے قریب ہی چنگڑ محلہ، مسلمانوں کی آبادی تھی۔ 25 اگست کی شام 5 بجے چنگڑ محلے کے مسلمانوں نے کارخانے کو گھیر لیا۔ وہ دور کھڑے نعرے لگا رہے تھے، لیکن آگے بڑھ کر حملہ کرنے کا حوصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ کارخانے میں اس وقت 12 بور کی تین (دونالی) بندوقیں تھیں۔ ایک میری، دوسری گوپال سنگھ جی کی اور تیسری لالہ املوک رام (کارخانے کے حصہ دار) کی۔

تینوں کے پاس کل 250 کارتوس تھے۔ لیکن مسلمانوں کے خیال میں، کارخانے میں بہت سے ہتھیار تھے۔ شام 5 بجے دو ٹرک بچوں سے بھر کر ہم نے کارخانے سے باہر نکالے۔ ٹرکوں کو نکلتا دیکھتے ہی گھیرا ڈالے مسلمان ڈر کر بھاگ نکلے۔ یوں ایک ٹرک تو نکل گیا لیکن دوسرا کارخانے کے دروازے کے سامنے ہی خراب ہو گیا۔ مسلمان واپس مڑے اور پہنچتے ہی ٹرک کے انجن کو توڑنے اور کوٹنے لگے۔ اب کارخانے سے نکل کر ہم میں سے کچھ آدمی آگے بڑھے اور ٹرک میں سے بچوں اور عورتوں کو باحفاظت نکال کر کارخانے میں لے آئے۔

ایک معمولی جھڑپ ہوئی جس میں تین سکھ زخمی ہوئے۔ مسلمانوں نے کوٹ کوٹ کر سارا ٹرک توڑ دیا۔ ہماری طرف سے، کارخانے کے اندر سے پتھر برسانے پر، وہ ٹرک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پھر کچھ مسلمان آگے بڑھے اور اس ٹوٹے ہوئے ٹرک کو آگ لگا دی۔ قریب ہی ایک کٹا ہوا درخت رکھا تھا۔ انہوں نے وہ اٹھا کر سڑک کے درمیان رکھا اور دونوں طرف گڑھے کھود ڈالے۔ تاکہ پھر کوئی ٹرک باہر نہ نکل سکے۔

شام کو چنگڑ محلے کے مسلمانوں نے اپنے مکانوں سے، گھر میں بنی ہوئی بندوقیں چلائیں۔ ان کا شور تو بہت تھا لیکن وار بالکل نہیں، جس کا کارخانے پر کوئی اثر نہ ہوا۔ بندوقوں کا شور سن کر اندر موجود عورتیں اور بچے رونے لگے۔ جنہیں ڈرا دھمکا کر چپ کرایا گیا۔ اس وقت ہم سب سہمے ہوئے تھے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ رات، زندگی کی آخری رات ہے۔ ہمارے پاس بندوقیں تو تھیں لیکن اس ڈر سے ہم نے نہ چلائیں کہ آواز سن کر ملٹری اس جانب نہ آ جائے۔

اس وقت میں بھی گھبرا گیا تھا۔ میں گرو مہاراج کے کمرے میں گیا، ہاتھ جوڑ کر اَرداس کی اور شری گرو گرنتھ صاحب کے آگے ماتھا ٹیکا۔ واہگرو کی کرپا سے وہیں مجھے یہ احساس ہو گیا کہ ہم سب بچ نکلیں گے۔ یہی بات میں نے باہر آ کر لوگوں سے کہی اور انہیں حوصلہ دینے لگا۔

رات ہو گئی تھی۔ سب کو چپ رہنے کا کہہ کر میں چھت پر چڑھا اس وقت پورے شہر میں جگہ جگہ آگ جل رہی اور گولی چل رہی تھی۔ میں نیچے اتر آیا۔ میں نے لوگوں کو سمجھایا کہ چاند کے غروب ہونے کے بعد ہم یہاں سے نکل چلیں گے۔ رات کے بارہ بجے ایک باگرانی عورت، چیخیں مارتی ہوئی اٹھی اور ’مار ڈالا، مار ڈالا‘ کی دہائی دینے لگی۔ میں دوڑ کر اس کے قریب پہنچا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر مارا۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ میں نے ڈانٹ جھڑک کر اسے چپ کرایا۔ اس کا شور سن کر کچھ بچے رونے لگے۔ میں نے ان کی ماؤں کو کہا کہ وہ بچوں کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر انہیں چپ کرائیں۔ اسی طرح کیا گیا، سو یہ شور وہیں ختم ہو گیا۔

ایک بجے رات کو چاند غروب ہو گیا۔ ہم سب چھتوں سے اتر کر احاطے میں جمع ہو گئے۔ میں نے کہا کہ ہر پریوار کے کچھ آدمی کارخانے کے اندر اور کچھ باہر نکلنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ شری ’سوہن سنگھ‘ اسٹیشن ماسٹر کے پریوار کے کل چودہ افراد کارخانے کے اندر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے آٹھ باہر چلیں گے اور چھ کارخانے کے اندر رہیں گے۔ دیگر کوئی پریوار یہ فیصلہ نہ کر پایا کہ ان میں سے کون اندر اور کون باہر جائے گا۔

کارخانے کے دونوں مالکوں، سردار گوپال سنگھ اور لالہ املوک رام نے کہا ہم دونوں کارخانے کے اندر رہیں گے باقی سب چلے چلیں۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ وہ دونوں بھی ساتھ ہی چلیں گے۔ چلنے سے پہلے ہر ایک سے یہ بات پکی کی گئی کہ، چاہے گولی لگے، چھرا گھونپا جائے، یا سانپ کاٹ لے، وہ چپ چاپ اپنی جان دے دے، لیکن منہ سے آواز ہرگز نہ نکالے۔ مختصر یہ کہ کسی کو معلوم نہ ہو پائے کہ کوئی گزر رہا ہے۔ سب تیاری کرنے کے بعد دو آدمیوں کو باہر بھیجا گیا۔

انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ دیوار کے قریب کوئی بھی نہیں ہے، لیکن سو گز فاصلے پر رستے میں لوگوں کی باتیں کرنے کی آواز آ رہی ہے۔ رات ایک بجے ہم کارخانے سے باہر نکلے۔ اس وقت کچھ آدمی کارخانے کے بوائلر میں چھپے ہوئے تھے۔ ایک چھ سال کی لڑکی سو رہی تھی۔ ایک گونگا بہرا نوکر، ایک زخمی بڑھیا اور اسٹیشن ماسٹر کے بوڑھے ماں باپ وہاں رہ گئے، باقی سب چل پڑے۔ میں اور شری گوپال سنگھ سب سے آخر میں کارخانے سے باہر نکلے۔

میں نے کندھے پر کارتوسوں والا تھیلا ڈال رکھا تھا۔ دائیں ہاتھ میں بندوق اور بائیں ہاتھ میں شری گوپال سنگھ کا بازو پکڑ رکھا تھا۔ باہر نکلتے ہی ہم پر کسی نے گولی چلائی، جو کسی کو نہ لگی۔ ہم کارخانے کے پچھلے دروازے سے باہر نکلے تھے۔ اندر سے دروازہ بند کر کے ایک نوجوان دیوار پر سے کود کر باہر نکلا۔ اس کے کودنے کی آواز سن کر پھر کسی نے گولی چلائی، جو میرے سر پر سے تقریبا ایک ہاتھ کی اونچائی سے گزری۔ باہر نکلتے ہی ہم نے رستہ چھوڑ دیا۔ جوہڑ میں سے گزرتے ہوئے، ہم سیم کے کیچیڑ سے گزرتے ہوئے تقریبا تین فرلانگ چلے۔ پھر آبادی سے دور ہوتے ہوئے، صبح چار بجے ہرن مینار کے قریب ایک ٹیلے پر جا پہنچے۔ رات کو جب نہر پر سے گزرے تو اس میں لاشیں تیرتی ہوئی آ رہی تھیں۔

رات کا باقی وقت اسی ٹیلے پر بِتایا۔ ہمارے نوکر کے کچھ باگڑی (تقریبا 60 افراد) اندھیرے میں ہم سے بچھڑ کر کسی دوسری طرف جا پہنچے تھے۔ ہم صبح ہوتے ہی ہرن مینار کے قریب شری پیارا سنگھ رنیکے والے کے کنویں پر جا پہنچے۔ کارخانے سے بچوں سے بھرا ٹرک اسی رنیکے گاؤں میں پہنچا تھا۔ بچوں کا کہنا تھا کہ اگر آج ہمارے ماں باپ نہ پہنچے تو ہم کنوئیں میں چھلانگ لگا کر مر جائیں گے۔ گاؤں سے یہ پیغام ملنے پر ہم سب گاؤں جا پہنچے۔

پورا گاؤں سکھوں کا تھا۔ مسلمان سب ’کمی‘ تھے۔ ہمارے وہاں پہنچے پر وہ مسلمان بگڑ گئے اور اپنے مالکوں سے کہنے لگے کہ آپ نے باہر سے آئے لوگوں کو گاؤں میں ٹھہرا لیا ہے۔ ہم جا کر ملٹری لے آتے ہیں۔ اس دھمکی سے گھبرا کر گاؤں کے بہت سے سکھ، گھروں کو چھوڑ کر کھیتوں میں جا چھپے۔ ( 26 اگست) شام کو سات بجے، ایک گاڑی شیخوپورہ کی طرف سے آتی ہوئی نظر آئی۔ ہم فوجی ٹرک سمجھ کر ڈر گئے۔ کار جب قریب پہنچی تو اس میں ہمارے ہی آدمی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شیخوپورہ تقریبا ختم ہو چکا ہے، ہم کار لاشوں پر سے گزار کر لائے ہیں۔ ہمارے دلوں پر پہلے سے بھی زیادہ ڈر چھا گیا۔ ہم چھوٹے چھوٹے جتھوں میں بٹ کر گنے کے کھیتوں میں جا چھپے اور ساری رات وہیں گزاری۔ کچھ آدمی گاؤں میں ہی رہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3