1947 اگست: شیخوپورہ پر کیا بیتی؟
جو آدمی کارخانے کے بوائلر میں چھپے ہوئے چھوڑ آئے تھے، 27 اگست کو وہ بھی ’رنیکے‘ پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ رات دو بجے (ہمارے نکلنے کے بعد) شہر کے مزید اسی کے قریب افراد کارخانے میں آ گئے۔ ( 25 اگست) رات تین بجے ملٹری نے کارخانے پر ہلا بول دیا۔ اندر موجود سب افراد قتل کر دیے گئے۔ اسٹیشن ماسٹر کے بوڑھے ماں باپ کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لاشوں کو ٹرکوں پر لاد کر ملٹری کارخانے سے باہر لے گئی۔ ڈی۔ سی نے سمجھا کہ میں (گردیال سنگھ تحصیلدار) اور شری گوپال سنگھ قتل ہو چکے ہیں۔ جب دہلی سے تعلق رکھنے والے چوپڑا نے فون پر، ڈی۔ سی سے ہمارے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔ اگلے دن ہمارے مارے جانے کی خبر اخباروں میں بھی چھپ گئی۔
27 اگست کی رات بھی بچوں کے ہمراہ گنے کے کھیتوں میں کاٹی۔ رات بارش شروع ہو گئی۔ ہم کھیت میں بنے ایک چھپر کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ اگلے دن بھی بارش جاری رہی۔ دوپہر کے وقت وہ چھپر گر گیا۔ ہم واپس گاؤں رنیکے پہنچے۔ شیخوپوریے سردار بہادر بوٹا سنگھ کا لڑکا بھی ہمارے ساتھ تھا۔ 28 اگست کی رات ہم نے گاؤں میں ہی کاٹی۔ 29 اگست کو پچھلے پہر ہم پانچ آدمی بندوقیں لے کر گاؤں غازی منارے (سرگودھا والی سڑک پر) گئے، ہمیں کوئی سکھ فوجی نظر نہ آیا، سو ہم واپس رنیکے آ گئے۔
30 اگست کو پھر کچھ نوجوانوں کو ہمراہ لے کر غازی منارے پہنچے۔ سکھ فوج کے دو ٹرک سرگودھا کی طرف جاتے نظر آئے۔ اس امید پر کہ پیچھے مزید بھی آ رہے ہوں گے، ہم سڑک پر موجود پھاٹک والی کوٹھری میں جا چھپے۔ پھر ایک ٹرک بلوچ ملٹری کا آیا۔ اس میں شری راجندر سنگھ ای۔ اے۔ ڈی۔ اے تین سکھوں کے ہمراہ سوار تھے۔ ہم بھی تین آدمی اسی ٹرک پر سوار ہو کر شیخوپورے چلے گئے۔ گردوارے میں کیمپ بنا ہوا تھا اور مسلم ملٹری اس کا پہرا دے رہی تھی۔
میں نے پورے کیمپ میں پھر کر دیکھا۔ اسی دوران ایک آدمی نے آ کر میرے کان میں کہا، آپ کے آنے کا افسروں کو معلوم ہو چکا ہے۔ پندرہ آدمی چھرا گھونپے کے لیے، آپ کے تعاقب میں لگا دیے گئے ہیں۔ پھر اس نے مجھے دشمنوں کی نظروں سے بچانے کے لیے لڑکیوں کے سکول کے ایک کمرے میں جا بٹھایا۔ مسٹر احمد شفیع پھرتا پھراتا اس کمرے کی طرف آ نکلا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بہت حیران ہوا۔ مجھ سے بنا کوئی بات کیے وہ فورا ہی وہاں سے چل دیا۔
اس کا اس طرح چلے جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ چھرا گھونپے والے آدمی بھی احمد شفیع کے ہی مقرر کردہ تھے۔ یہ بھید مجھے اس کے ہندو اردلی سے معلوم ہوا تھا۔ پھر مجھے میرے ساتھیوں نے اس کمرے سے نکال کر ایک دوسرے مکان میں، ایک کمرے میں لا چھپایا۔ وہاں ایک سکھ نے مجھ سے آ کر کہا کہ آپ کو پولیس انسپکٹر رفیع احمد باہر بلا رہا ہے۔ میں نے کہا اسے جا کر کہو ’مجھے تحصیلدار نہیں ملا‘ ۔
بلوچ ملٹری کے چار ٹرکوں نے ہندؤوں اور سکھوں کو لاہور پہنچانا شروع کر دیا۔ جب وہ اگلے پھیرے کے لیے آئے تو میرے دوستوں نے زور دیا اور مجھے ٹرک پر سوار کروا دیا۔ ٹرک چلنے ہی والے تھے، جب رفیع احمد اس طرف آیا۔ میں نے اسے آواز دے کر کہا، ’میں پٹھان کوٹ جا رہا ہوں، اگر سُجھان پور سے (رفیع احمد کا گاؤں ) تمہارے کسی آدمی کو نکلوانا ہو تو بتاؤ۔ ‘ مجھ دیکھ کر وہ گھبرا گیا اور منحنی سی آواز میں کہا، ’میرے اپنے۔ اپنے سارے آ گئے ہیں۔ ‘ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ پایا اور فورا ہی وہاں سے چلا گیا۔
ٹرکوں نے ہمیں ڈی۔ اے۔ وی کالج لاہور کیمپ میں جا اتارا۔ شیخوپورہ کارخانے میں بھی کیمپ بن چکا تھا۔ میرا پریوار بھی رنیکے سے یکم ستمبر کو پہلے شیخوپورہ پہنچا اور 3 ستمبر کو وہاں سے ڈی۔ اے۔ وی کالج آ گیا۔ وہاں سے ہم سب ملٹری ٹرک پر چھ ستمبر کو امرتسر کے لیے چلے۔ جب واہگہ سے ہندوستان کی حد کے اندر پہنچے، تب جان میں جان آئی۔ ”



