ٹیٹوال کا کتا: کشمیری منٹو نے کشمیر کا دکھ کیسے لکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے بر جمے ہوئے تھے۔ دن میں ادھر اور ادھر سے دس بارہ فائر کیے جاتے جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہواخود رو پھولوں کی مہک میں بسی ہوئی تھی۔ پہاڑیوں کی اونچائیوں اور ڈھلوانوں پر جنگ سے بے خبرقدرت اپنے مقررہ اشغال میں مصروف تھی۔ پرندے اسی طرح چہچہاتے تھے۔ پھول اسی طرح کھل رہے تھے اور شہد کی سست رو مکھیاں اسی پرانے ڈھنگ سے ان پر اونگھ اونگھ کر رس چوستی تھیں۔

جب پہاڑیوں میں کسی فائر کی آواز گونجتی تو چہچہاتے ہوئے پرندے چونک کر اڑنے لگتے، جیسے کسی کا ہاتھ ساز کے غلط تار سے جا ٹکرایا ہے۔ اور ان کی سماعت کو صدمہ پہنچانے کا موجب ہوا ہے۔ ستمبر کا انجام اکتوبر کے آغاز سے بڑے گلابی انداز میں بغل گیر ہورہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ موسمِ سرما اور گرما میں صلح صفائی ہورہی ہے۔ نیلے نیلے آسمان پر دھنکی ہوئی روئی ایسے پتلے پتلے اور ہلکے ہلکے بادل یوں تیرتے تھے جیسے اپنے سفید بجروں میں تفریح کررہے ہیں۔

پہاڑی مورچوں میں دونوں طرف کے سپاہی کئی دن سے بڑی کوفت محسوس کررہے تھے کہ کوئی فیصلہ کن بال کیوں وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ اکتا کر ان کا جی چاہتا تھا کہ موقع بے موقع ایک دوسرے کو شعر سنائیں۔ کوئی نہ سنے تو ایسے ہی گنگناتے رہیں۔ پتھریلی زمین پر اوندھے یا سیدھے لیٹے رہتے تھے۔ اور جب حکم ملتا تھا ایک دو فائر کردیتے تھے۔ دونوں کے مورچے بڑی محفوظ جگہ تھے۔ گولیاں پوری رفتار سے آتی تھیں اور پتھروں کی ڈھال کے ساتھ ٹکرا کر وہیں چت ہو جاتی تھیں۔

دونوں پہاڑیاں جن پر یہ مورچے تھے۔ قریب قریب ایک قد کی تھیں۔ درمیان میں چھوٹی سی سبز پوش وادی تھی جس کے سینے پر ایک نالہ موٹے سانپ کی طرح لوٹتا رہتا تھا۔ ہوائی جہازوں کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ توپیں ان کے پاس تھیں نہ ان کے پاس، اس لیے دونوں طرف بے خوف و خطر آگ جلائی جاتی تھیں۔ ان سے دھوئیں اٹھتے اور ہواؤں میں گھل مل جاتے۔ رات کو چونکہ بالکل خاموشی ہوتی تھی، اس لیے کبھی کبھی دونوں مورچوں کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کے کسی بات پر لگائے ہوئے قہقہے سنائی دے جاتے تھے۔

کبھی کوئی لہر میں آکے گانے لگتا تو اس کی آوازرات کے سناٹے کو جگا دیتی۔ ایک کے پیچھے ایک باز گشت صدائیں گونجتیں تو ایسا لگتا کہ پہاڑیاں آموختہ دہرا رہی ہیں۔ چائے کا دور ختم ہو چکا تھا۔ پتھروں کے چولھے میں چیڑ کے ہلکے پھلکے کوئلے قریب قریب سرد ہو چکے تھے۔ آسمان صاف تھا۔ موسم میں خنکی تھا۔ ہوا میں پھولوں کی مہک نہیں تھی جیسے رات کو انھوں نے اپنے عطردان بند کرلیے تھے، البتہ چیڑ کے پسینے یعنی بروزے کی بوتھی مگر یہ بھی کچھ ایسی ناگوار نہیں تھی۔

سب کمبل اوڑھے سورہے تھے، مگر کچھ اس طرح کہ ہلکے سے اشارے پر اٹھ کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ خود پہرے پر تھا۔ اس کی راسکوپ گھڑی میں دو بجے تو اس نے گنڈا سنگھ کو جگایا اورپہرے پر متعین کردیا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ سو جائے، پر جب لیٹا تو آنکھوں سے نیند کو اتنا دور پایا جتنے کہ آسمان کے ستارے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ چٹ لیتا ان کی طرف دیکھتا رہا۔ اورگنگنانے لگا۔ جُتیّ لینی آں ستاریاں والی۔

ستاریاں والی۔ وے ہر نام سنگھا ہو یارا، بھاویں تیری مہیں وک جائے اور ہرنام سنگھ کو آسمان ہر طرف ستاروں والے جوتے بکھرے نظر آئے۔ جو جھلمل جھلمل کررہے تھے جتی لے دؤں ستاریاں والی۔ ستاریاں والی۔ نی ہرنام کورے ہونارے، بھاویں میری مَہیں وک جائے یہ گا کر وہ مسکرایا، پھر یہ سوچ کر کہ نیند نہیں آئے گی، اس نے اٹھ کر سب کو جگا دیا۔ نار کے ذکر نے اس کے دماغ میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اوٹ پٹانگ گفتگو ہو، جس سے اس بولی کی ہرنام کوری کیفیت پیدا ہو جائے۔

چنانچہ باتیں شروع ہوئیں مگر اُکھڑی اُکھڑی رہیں۔ بنتا سنگھ جو ان سب میں کم عمر اور خوش آواز تھا، ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا۔ باقی اپنی بظاہر پرلطف باتیں کرتے اور جمائیاں لیتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد بنتا سنگھ نے ایک دم اپنی پرسوز آواز میں ہیر گانا شروع کردی۔ ہیر آکھیا جو گیا جھوٹھ بولیں، کون روٹھڑے یار مناؤندائی ایسا کوئی نہ ملیا میں ڈھونڈتھکی جیہڑا گیاں نوں موڑلیاؤندائی اک باز تو کانگ نے کونج کھوئی دیکھاں چپ ہے کہ کرلاؤندائی دکھاں والیاں نوں گلاں سُکھدیاں نی قصے جوڑ جہان سناؤندائی پھر تھوڑے وقفے کے بعد اس نے ہیر کی ان باتوں کا جواب رانجھے کی زبان میں گایا ؂ جیہڑے بازتوں کانگ نے کونج کھوئی صبرشکر کر بازفناہ ہویا اینویں حال ہے اس فقیر دانی دھن مال گیا تے تباہ ہویا کریں صدق تے کم معلوم ہووے تیرا رب رسول گواہ ہویا دنیا چھڈ اداسیاں پہن لیاں سید وارثوں ہن وارث شاہ ہویا بنتا سنگھ نے جس طرح ایک دم گانا شروع کیا تھا، اسی طرح وہ ایک دم خاموش ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خاکستری پہاڑیوں نے بھی اداسیاں پہن لی ہیں۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد کسی غیر مرئی چیز کو موٹی سی گالی دی اور لیٹ گیا۔ دفعتہً رات کے آخری پہر کی اس اداس فضا میں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ سب چونک پڑے۔ آواز قریب سے آئی تھی۔ صوبیدار ہرنام سنگھ نے بیٹھ کر کہا۔

”یہ کہاں سے آگیا بھونکو؟ “

کتا پھر بھونکا۔ اب اس کی آواز اور بھی نزدیک سے آئی تھی۔ چند لمحات کے بعد دور جھاڑیوں میں آہٹ ہوئی۔ بنتا سنگھ اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔ جب واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک آوارہ سا کتا تھا جس کی دم ہل رہی تھی۔ وہ مسکرایا۔

”جمعدار صاحب۔ میں ہوکمر ادھر بولا تو کہنے لگا، میں ہوں چپڑ جُھن جُھن! “

سب ہنسنے لگے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے کتے کو پچکارا۔

”ادھر آچپڑ جُھن جُھن۔ “

کتا دم ہلاتا ہرنام سنگھ کے پاس چلا گیا اور یہ سمجھ کر کہ شاید کوئی کھانے کی چیز پھینکی گئی ہے، زمین کے پتھر سونگھنے لگا۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھیلا کھول کر ایک بسکٹنکالا اور اس کی طرف پھینکا۔ کتے نے اسے سونگھ کر منہ کھولا، لیکن ہرنام سنگھ نے لپک کر اسے اٹھا لیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •