ڈائریکٹر مجھے اکیلے کمرے میں لے گیا، چھ ماہ تک آئینے میں اپنی شکل نہیں دیکھ سکی: ودیا بالن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بالی ووڈ کی مشہوراداکارہ ودیا بالن نے ساوتھ انڈین فلم انڈسٹری میں کام کرنےکے دوران ایک ایسے واقعے کے بارے میں بتایا ہے، جس سےمایوس ہو کر انہوں نے 6 ماہ تک اپنی شکل شیشےمیں نہیں دیکھی تھی۔ یہ معاملہ ان دنوں کا ہےجب ودیا بالن ساوتھ انڈین فلم انڈسٹری میں آنے کے لئےجدوجہد کررہی تھیں۔ تب انہوں نےہندی فلم انڈسٹری میں قدم نہیں رکھا تھا۔ وہ اپنے والدین کےساتھ چنئی میں ایک پروڈیوسر سے دوسرے پروڈیوسر کے دفتر میں بھٹک رہی تھیں۔

کافی جدوجہد کےبعد انہیں ملیالم اورتمل فلمیں ملنی شروع ہو گئیں، لیکن اچانک انہیں بیشتر فلموں سےنکال دیا گیا۔ اس کے پیچھےایک حیران کرنے والی وجہ تھی۔ اصل میں ودیا بالن ایک کاسٹنگ کاوچ کے تجربے سے گزری تھیں۔ وہاں پیش آنے والےحادثہ کے بعد انہیں نہ صرف فلموں سےنکال دیا گیا بلکہ ان کےجسم پر کئی طرح کےتبصرے کئےگئے۔

یہ تمام انکشاف ودیا بالن نے ایک انٹرویو میں کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کےپاس کئی فلمیں آگئی تھیں۔ انہوں نےکچھ کی شوٹنگ بھی شروع کر دی تھی، لیکن ایک دن ایک ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ فلم کے بارے میں ان سے بات کرنا چاہتا ہے۔ ودیا بالن نےکہا کہ کسی کافی شاپ پر چلتے ہیں، لیکن ڈائریکٹر بار بار ان سے روم میں چلنےکو کہہ رہا تھا۔

کچھ دیر میں ودیا بالن نےاس کی نیت بھانپ لی لیکن انہوں نے ڈائریکٹر کو سبق سکھانےکی ٹھان لی۔ وہ ڈائریکٹرکے ساتھ روم میں چلی گئیں، لیکن روم میں جاتے وقت ودیا بالن نےدروازوں کو کھلا چھوڑ دیا۔ روم میں جانےکےبعد کچھ دیر تک ڈائریکٹر ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا، لیکن وقت کی نزاکت، ودیا کا مزاج، ودیا کی بات چیت کا لہجہ اور کھلے دروازے کو دیکھتے ہوئے وہ خود ہی وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔

ودیا بالن نے اسی موضوع پر ڈرٹی پکچر فلم بھی بنائی تھی۔

تاہم اس رویے کی پاداش میں ودیا بالن کو اس فلم سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اسی طرح کےکئی اور حادثات اچانک ہونے لگے۔ ودیا بالن کے ہاتھ میں 10 سے زیادہ فلمیں تھیں، لیکن زیادہ تر سےانہیں نکال دیا گیا۔ چنئی میں رہنےکےدوران جب ان کے والدین ملیالم اور تمل فلم پروڈیوسروں سے ودیا بالن کو باہرکرنےکی وجہ جاننے پہنچے تو انہوں نے ودیا بالن کی تصویردکھاتے ہوئے کہا کہ یہ کہاں سے ہیروئن لگتی ہے۔

ودیا بالن بتاتی ہیں، ‘میں ان لوگوں کو کافی طویل وقت تک معاف نہیں کرپائی تھی، لیکن اب میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے مجھےاپنے آپ کو قبول کرنے اور اپنے آپ سے پیار کرنے کی وجہ دی۔ ودیا بالن کے مطابق کئی تمل پروڈیوسروں نے مجھے بدصورت کہا تھا، میں نے تقریباً 6 ماہ تک خود کو شیشے میں نہیں دیکھا’۔

ودیا بالن کہتی ہیں کہ ‘اس وقت سب کچھ اتنا منظم نہیں ہوتا تھا۔ مجھے فون پر رابطہ کر کے فلم کے بارے میں بتایا گیا۔ میں نے حامی بھردی، لیکن جب شوٹنگ شروع ہوئی تو میں بے چین ہوگئی۔ فلم میں عجیب قسم کے بےہودہ مکالمے بولے جا رہیے تھے۔ میں اس کی بالکل حمایت نہیں کرتی تھی، اس لئے میں نے فلم چھوڑدی، لیکن بعد میں اس پروڈیوسر- ہدایت کارنے مجھے قانونی نوٹس بھیج دیا’۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •