کیا میں اپنی بہن کو ڈیٹنگ کرنے دوں گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے لکھا، ماں باپ سے اولاد کو ڈیٹنگ کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ جذباتی رد عمل سامنے آیا۔ سوال ہوا۔ اپنی ماں اور بہن کو بھی ڈیٹنگ کی اجازت دوگے؟ حیرت انگیز طور پر سب ہی نے مجھ سے میری ماں اور بہن کے بارے استفسار کیا۔ پڑھنے والوں نے میری ماں اور بہن کو تو یاد رکھا مگر باپ اور بھائی کو فراموش کردیا۔ صرف ماؤں اور بہنوں کے بارے میں ہی سوال ثابت کرتا ہے کہ مردوں کو ڈیٹنگ اور سیکس کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں۔ یا پھر ڈیٹنگ مردوں کے لیے برائی ہی نہیں سمجھی جاتی۔ یعنی مرد کچھ بھی کرے۔ عورت کو اجازت چاہیے۔ کیوں؟

اب آتے ہیں سوال کے جواب کی طرف۔ میں اپنی بہن اور ماں کو ڈیٹنگ کی اجازت دوں گا یا نہیں۔ میرے خیال میں اجازت دینا یا نہ دینا میرے اختیار میں ہی نہیں۔ یہ آپ کے اختیار میں بھی نہیں ہے۔ ڈیٹنگ تو چھوٹی سی بات ہے۔ آپ سیکس سے بھی کسی کو نہیں روک سکتے۔ جس کو بھوک ہوگی وہ کرے گا۔ جس کو نہیں ہوگی نہیں کرے گا۔ انسانی دماغ بغاوت پر اکساتا ہے۔ دل اور محبت کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آپ لاکھ پابندیاں لگالیں۔ جس نے جو کرنا ہے وہ کر ہی گزرے گا۔ کیا سینیما میں جاکر پیار کرنے والوں پر پابندی نہیں تھی؟ وہ اجازت کو خاطر میں لے آئے؟ جو کرنا تھا کر گزرے۔

کیا میں اپنی بہن کو گھر سے باہر جانے سے روک سکتا ہوں؟ کیا اس کی تعلیم پر اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرسکتا ہوں؟ کیا ہر وقت اس کی نگرانی کرسکتا ہوں؟ اوئے دیکھو کہیں یہ ڈیٹنگ نہ کرلے! کہیں سیکس نہ ہوجائے؟ میرے خیال میں یہی سوچ ہے۔ عورت کو غلام رکھنے کی اپنے ماتحت رکھنے کی۔ نہ جانے کتنی ہی بہنیں تعلیم حاصل نہیں کرپاتیں۔ کتنی ہی خوشحال زندگی سے بہت دور رہ جاتی ہیں۔ اور کتنی ہی قتل ہوجاتی ہیں۔ خوف صرف ایک خوف کہیں یہ سیکس نہ کرلے۔

ایک اور جواب سامنے آیا۔ کہا گیا ہم اپنے بچوں کو شرم سکھاتے ہیں، حیا سکھاتے ہیں نہ کہ ڈیٹنگ۔ میرے خیال میں یہ بھی ایک حسین سراب ہے۔ جو نوجوان سینما میں جاکر پیار کرتے رہے کیا انہیں شرم و حیا نہیں سکھائی گئی تھی؟ جن جوڑوں سے پارک بھرے رہتے ہیں۔ کیا وہ بری پرورش کا نتیجہ ہوتے ہیں؟ آنکھیں کھولیں معاشرے کو ذرا سا ٹٹولیں۔ گلی محلوں میں کھلے کلینکس میں ابارشن کرانے والوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ طوائفیں سرعام سڑک پر دعوت گناہ دیتی ہیں۔ کیا وہ بھوکی مررہی ہیں؟ اگر ہمارا معاشرہ نسلوں کو شرم و حیا سکھا رہا ہے تو پھر ہماری اجتماعی گراوٹ کی وجہ کیا ہے؟ کیا سیکس کا تعلق اخلاق سے ہے بھی؟ کیا ایک بالغ پر پابندی لگانا اخلاقی عمل ہے۔

اپنی بات ایک مثال سے واضح کرنا چاہوں گا۔ بچپن سے سکھایا جاتا ہے جھوٹ نہیں بولنا۔ ایسا کرنا گناہ بھی ہے اور برا بھی۔ تو کیا ہم جھوٹ نہیں بولتے؟ ہم بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔ لیکن ایسا جھوٹ جو پکڑا نہ جائے۔ اس ہی طرح نوجوان سیکس کر بھی رہے ہیں اور کرتے بھی رہیں گے۔ لیکن ایسا سیکس اور ایسی ڈیٹنگ جو کہ پکڑی نہ جائے۔ سینیما میں آنے والے جوڑے کیا پہلی مرتبہ ایسا کررہے تھے؟

صرف سیکس ہی نہیں۔ اولاد کچھ بھی چھپ چھپا کر کرے گی تو اس کے بہت سے نقصانات ہوں گے۔ جیسا کہ سنیما میں جاکر پیار کرنے والے جوڑوں کو ہوا۔ وائرل ہوگئے۔ اپنے لیے بھی شرمندگی اور ماں باپ کے لیے بھی۔ اس کے برعکس گھر کی چاردیواری میں ہونے والا کوئی بھی کام محفوظ ہوتا ہے۔ آخر گھر ہوتا ہی تحفظ کے لیے ہے۔ میرے بلاگ کے جواب میں گالیوں کے بجائے اگر آپ کوئی مناسب حل تجویز کریں گے تو بہتری آئے گی۔

اسی بارے میں: سینما سکینڈل: پیار کرنے دیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •