عالمی برادری کس ایڈریس پر رہتی ہے؟

وسعت اللہ خان - تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کے خاتمے کے اعلان کا ایک ماہ مکمل ہونے کے موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ ’دنیا خاموش کیوں ہے؟ جہاں مسلمانوں پر ابتلا ٹوٹے وہاں عالمی برادری کی انسانیت کیا مر جاتی ہے؟ اس (خاموشی) سے دنیا کے ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟‘

خان صاحب یہ کون سی عالمی برادری ہے جو خاموش ہے اور جس کی انسانیت مر چکی ہے؟

ابھی 23 جولائی کو ہی تو آپ واشنگٹن سے ٹرمپ کی ثالثانہ پیش کش کی سوغات لے کر اسلام آباد ائیرپورٹ پر اترے تو فرمایا تھا کہ دورہ امریکہ اتنا کامیاب رہا گویا ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں۔

ابھی پچھلے ماہ ہی تو چین کی کوششوں سے کشمیر کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پچاس برس بعد ہونے والے اجلاس کو آپ تاریخی فتح قرار دے رہے تھے۔

امتِ مسلمہ کے رویے پر جز بز آپ ہی کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی پچھلے ہفتے ہی تو کہہ رہے تھے کہ سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے بعد ہمارے گلے شکوے دور ہو گئے اور بطور رسید تینوں وزرائے خارجہ کی ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ دھر کے اتحاد کا تاثر دینے والی مسکراتی تصویر بھی جاری کی گئی۔

کیا پاکستانی وزیرِ خارجہ روزانہ ہی کسی ملک کے صدر، وزیرِ اعظم یا وزیرِ خارجہ کو فون کر کے مقامی میڈیا کو نہیں بتاتے کہ آج آئس لینڈ نے کشمیر پر ہمارے موقف کی تائید کر دی، کل جبوتی نے ہمارے موقف کو ہمدردی سے سنا اور پرسوں میں نے مالدیپ کے وزیرِ خارجہ کو مسئلہ کشمیر سمجھا دیا۔

پچھلے ایک ماہ کے دوران علی خامنہ ای سے لے کر ایرانی مجلس تک سب نے کھل کے کشمیر کے بارے میں انڈیا کی بدلی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا، ترک صدر اردوان نے بھی اس بابت کوئی لاگ لپٹ نہیں رکھی۔ یورپی پارلیمینٹ میں حال ہی میں کشمیر پر دھواں دھار بحث ہوئی۔ لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے دو بڑے مظاہرے ہو چکے ہیں۔ ان میں برطانوی ارکانِ پارلیمان بھی شریک ہوئے۔

انڈیا میں کانگریس اور کیمونسٹ پارٹی سمیت کئی سرکردہ سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات و خدشات ظاہر کر چکی ہیں۔ دلی اور ممبئی میں سیکولر ازم پر یقین رکھنے والی سول سوسائٹی اور طلبا کئی مظاہرے کرچکے ہیں۔ متعدد صحافی ، قانون دان ، مورخ ، دانشور مودی حکومت کے اس قدم کو تباہ کن بتا رہے ہیں اور گنتی کے ہی سہی مگر کچھ بھارتی نیوز چینلز اور میڈیا ویب سائٹس کشمیریوں کی ابتلا کی کوریج بھی کر رہے ہیں۔ دو بھارتی سول بیورو کریٹ ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کے عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔

انڈین سپریم کورٹ میں مودی حکومت کے اقدامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا ’کمشیر کو بولنے دو‘ مہم کا آغاز کر چکی ہے۔ بی بی سی، الجزیرہ، نیویارک ٹائمز، گارڈئین وغیرہ، کیا یہ سب کردار عالمی برادری کا حصہ نہیں؟

چلیے ایک لمحے کو مان لیتے ہیں کہ عمران خان کے تصور میں جو بھی عالمی برادری ہے اس کی خاموشی سے دنیا بھر کے ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کو غلط پیغام جا رہا ہے۔ مگر یمن کی انسانی ابتری، جمال خاشقجی کیس، شنجیانگ کے اویغور اور برما کے روہنگیا مسلمانوں کے بقائی مسائل، شام کا خانہ جنگ المیہ، قطر کی ناکہ بندی، سوڈان میں فوج اور سول سوسائٹی کی خونی کش مکش وغیرہ جیسے معاملات بھی تو عالمی برادری کے روبرو ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔

بحثیت مسلم امہ کی واحد اعلانیہ جوہری طاقت اور عالمی برادری کے ایک اہم رکن کے طور پر پاکستان کا ان علاقائی و بین الاقوامی معاملات کے بارے میں کیا ویسا ہی دوٹوک، غیر مبہم رویہ ہے کہ جس کی توقع وہ باقی عالمی برادری سے کشمیر کے معاملے میں کرتا آ رہا ہے؟

مجھ جیسے لال بھجکڑوں کو جواب کی کوئی جلدی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •