پولیس اور ٹارچر – چند تجربات اور مشاہدات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر اسٹیشن ہاؤس افسر کی ذمہ داری اے ایس پی، ڈی ایس پی کو دی جائے تو ان سی ایس پی شہزادگانِ سلطنت کی انفرادیت پر تو برا اثر پڑے گا لیکن جہاں پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار ملے گا، قابل اہل کاروں کو ترقیاں ملیں گی وہاں ادارہ مضبوط اور کارکردگی بہتر ہو گی۔ کانسٹیبل ایک چھوٹا عہدے دار ضرور ہوتا ہے مگر کم اہم نہیں ہوتا، سو اس کی بھرتی کے لیے مطلوبہ تعلیمی معیار اور تربیت کے معیار کو بلند کیا جائے۔ جو فرانزک سائینس، کرمنالوجی، ہیومن رائٹس اور سروس ایتھکس افسران کو پڑھا کر ضائع کردی جاتی ہے، وہ ان تعلیم یافتہ اہل کاروں کو پڑھائیں، ہمارے پاس تعلیم یافتہ جوانوں کی کمی ہے، نہ ہی تربیتی معیارات کی کمی ہے۔

بدتمیز اور سٹھیائے ہوئے ایسٹ انڈیا کمپنی فیشن کے فرعون تھانے داروں کا شکریہ ادا کر کے انہیں گھر بھیجنا آج ہمیشہ سے زیادہ آسان ہے۔

پولیس ٹارچر کے واقعات کی تفتیش کا کام پولیس ہی کو سونپنا متاثرین کے ساتھ ایک بازاری مذاق سے سوا کچھ نہیں۔ اس مسئلے کو اہمیت دی جاتی تو اس کی روک تھام کے لئے کوئی انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹریٹ، کوئی خود مختار ادارہ تشکیل پا چکا ہوتا لیکن ایسا نہ ہو سکنا ریاست پر ایک الزام بن کر سامنے آتا ہے جو غلط بھی نہیں۔

اگر ہم اپنے ادارے سے ٹارچر کا کلچر ختم نہیں کریں گے تو ہم اقوام متحدہ میں مہذب دنیا سے کیے گئے تحریری وعدے کی خلاف ورزی کے مرتکب جانے جائیں گے اور آپ کو تو علم ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی بہت پسندیدہ قوم نہیں ہیں جو وہ ہم سے کچھ رو رعایت کرے گی! یہ جملہء معترضہ صحیح لیکن کچھ غلط بھی نہیں۔

سی ایس ایس کے کٹھن مراحل سے گزر کر اپنی سیٹوں پر براجمان افسر اگر آج یہ کہیں کہ پولیس کی بہتری کے لیے وہ کوئی اسٹریٹیجک سطح کی کوششیں نہیں کرسکتے تو اس بیان میں خبث باطن کے سوا کچھ نہیں۔ بیوروکریسی سیاستدانوں کے سامنے مجبور ہوتی ہے ناں عوام کے سامنے کیونکہ ہم ہنوز ایک ویلفیئر اسٹیٹ نہیں بن پائے جہاں طاقت کا سرچشمہ عوام اور نمائیندے ہوتے ہیں جبکہ بیوروکریسی ہر دو سے ڈرنے والی گربہء مسکین۔ تاہم سیاستدانوں نے بھی پولیس کے سسٹم کو خراب کرنے میں سب سے زیادہ محنت کی ہے۔

اور سابقہ پنجاب حکومت نے تو اس بابت محنت شاقہ سے کام لیا۔ اب تو شاید اس مضمون کے نشر ہوتے ہی کوئی ہیڈ کانسٹیبل صاحب مجھے ناکے پہ روک کر ڈانٹ پلا دیں یا کمنٹس میں میرے بخیے ادھیڑ دیں لیکن مجھے یاد ہے کہ سارک ممالک کی پولیس ٹارچر کانفرنس کے دوران کھانے کی میز پر جب ایک سینیٹر اور ایک غیر ملکی پروفیسر کی موجودگی میں میں نے ایک ڈی آئی جی صاحب سے یہ جملہ کہا تھا کہ

I am sorry to say sir, that this is our CM who can be labeled as patron-in-chief of this torture culture.

تو ڈی آئی جی صاحب نے مسکرا کر آہستہ سے کہا
True Zaki sahb, I agree with you…

اور پھرنہایت دیانت داری سے اس موضوع پر بہت پڑھی لکھی اور مدلل گفتگو کی۔ یہ گفتگو کبھی اپنے عملی جامے میں نظر نہ آسکی۔ ہماری بیوروکریسی کی اس بے عمل علمیت نے بھی اداروں کی لٹیا ڈبوئی ہے!

میں اپنے انویسٹیگیشن کے تجربات کی روشنی میں یہ واضح کر دوں کہ پولیس ٹارچر کا عفریت جس حد تک میڈیا پہ دکھایا جا رہا ہے، حقیقت میں اس سے زیادہ بھیانک ہے، اس سے کم ہرگز نہیں۔ یہ امر اس کی ہیبتناکی کو اور بڑھا دیتا ہے کہ اس میں ملوث لوگ اس جرم کو جرم بھی نہیں سمجھتے۔ جب عدالتیں عادی مجرموں کو سزا نہیں دے پاتیں تو پولیس اہلکار سزا کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور ان کے نزدیک صلاح الدین جیسے عادی چوروں کی سزا موت یا اس کے لگ بھگ ہے۔

بد قسمتی سے ان کا یہ خیال انصاف کے تقاضے تو پورے نہیں کرتا البتہ عدلیہ کی بے اعتنائی اور ”امتیازی“ رویے سے ناراض پولیس ملازمان کا غصہ کافی ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ ان کی دل بستگی ضروری ہے لیکن اس کی یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔ عدلیہ اور پولیس کے درمیان یہ ذہنی فاصلے واضح طور پر بتاتے ہیں کہ قانون کی شقوں کا جاننا ہی نہیں، اصول قانون (Jurisprudence) کا جاننا بھی پولیس ملازمان کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ بلاشبہ ملزم اور مجرم کا فرق ہرگز نہیں جانتے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معیاری تفتیش کی جائے تو کوئی غنڈا، کرمنل ایک دفعہ ہی کی عدالت پیشی کے بعد دوبارہ سوسائٹی میں دندناتا پھرتا نظر نہ آئے۔ ٹارچر کرنے سے تفتیش کے نتائج دوررس ہوتے ہیں نہ ہی پائیدار۔

جو عدالت ایک عادی مجرم کو شک کی بناء پر بری کرکے پولیس کی ناراضی مول لیتی ہے، وہی عدالت میرے ناقص علم کے مطابق جعلی مقابلوں میں لوگوں کو قتل کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی کئی دفعہ باعزت بری کردیتی ہے۔ میں نے اپنی انویسٹیگیشن میں کچھ ایسے ایس ایچ او بھی فیصل آباد میں تعینات دیکھے جو مقتولین کے ورثا کو خوں بہا ادا کر کے دوبارہ اپنے ”کار خیر“ میں مشغول تھے۔ ہتھ چھٹ اہل کاروں کو فقط معطل کر دینے سے بڑھ کر کوئی بھونڈا مذاق اس بابت نہیں ہو سکتا۔

قرار واقعی سزا پر تو پولیس سے بڑھ کر کسی اور کا ایمان ہے ہی نہیں، پھر پولیس افسران اپنے محکمے کا نام بدنام کرنے والوں کو معمولی سزاؤں کے بعد ہی نوکری پر بحال کر لیں تو چہ بوالعجبی؟ ایک دبنگ ایس ایچ او ہوتا ہی وہی ہے جو اپنے کیریئر میں ان گنت دفعہ معطل ہو چکا ہو۔ سخت ترین سزاؤں سے آغاز کر کے پورے سروس اسٹرکچر اور سسٹم کو بدلنے تک کئی صلاح الدین جان سے جاتے رہیں گے اور آر پی او کے چالاک چنڈال بیانوں کے ساتھ معاملے ٹھپ ہو جایا کریں گے۔

اپنے کیرئیر سنوارنے کے لئے سپاہیوں اور انسپکٹرز کی شخصیت اور کردار کو مسخ کر کے ان کے ذہنوں کو مکمل طور پر اینٹی سوشل نفسیاتی فریم میں جکڑ دینے کی ذمہ داری انہی افسران پر پڑتی ہے جو خود ڈرائینگ رومز اور دفتروں میں ہونے والی نجی ملاقاتوں میں سارتر، ٹیگور، کافکا اور سدھارتھ کے افکار پر گفتگو کرکے ہمیں متاثر اور مرعوب کر رہے ہوتے ہیں۔

نیز پولیس میں سیاسی مداخلت اور دباؤ سے آزادی کا نعرہ لگانے اور ریفارمز یا ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت پر زور دینے سے پہلے اس حوالے سے معاشرے کی ذہن سازی بھی ضروری ہے۔

انسانی جان کی حرمت کا کلچر اگر معاشرے میں ہی گھٹ جائے تو تھانہ تو پھر تھانہ ہے۔ گلی محلے کے نیم خواندہ ملا اگر قتل انسان کے فتوے جاری کر سکتے ہیں تو ایک سب انسپکٹر تو یقیناً چوری کے مجرم کو سزائے موت سنائے گا۔ ایک ذہنیت جو ہمارے ہر سرکاری محکمے میں پائی جاتی ہے جسے انگریزی میں ”Jack in the office“ کے محاورے سے بیان کیا جاتا ہے، یعنی معمولی سے عہدے پر بہت زیادہ اکڑفوں دکھانا۔ بڑے عہدے اور زیادہ اختیارات کے ساتھ یہ فرعونیت بن جاتی ہے۔ پولیس میں یہ ذہنیت ہر محکمے سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ یہاں اس ”جیک“ یعنی معمولی آدمی کے ہاتھ میں ڈنڈا بھی ہوتا ہے۔

تشدد اور ایذا رسانی قومی مزاج بن جائے تو پھر ان متشدد سپاہیوں سے کیا شکوہ جن کا واسطہ ہی لچے بدمعاشوں سے رہتا ہے، جن کے ہاتھ میں ہتھوڑی ہے انہیں ہر مسئلہ کیل ہی نظر آئے گا۔ اگر گھر، اسکول، سیاسی جلسہ، مذہبی اجتماع، مسجد، مدرسہ اور گلی محلے میں متشدد رویوں کی سخت حوصلہ شکنی کی جائے گی تو ہی آج کے بچے کل کے پولیس افسر بن کر مہذب رویوں کے حامل افراد بنیں گے کہ ادارے معاشروں کا پرتو ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •