پولیس اور ٹارچر – چند تجربات اور مشاہدات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے لگ بھگ دو سال تک پنجاب پولیس کے ٹارچر کیسز کی انویسٹیگیشن کرنے کا موقعہ ملا جو ایک نامکمل تجربہ ضرور تھا لیکن اس کی بنیاد پر میں اتنا حق ضرور جتا سکتا ہوں کہ میری رائے کی بنیاد ذاتی تجربہ ہے ناکہ سنی سنائی۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے جسے ہارورڈ یونیورسٹی کے ایلرڈ کے لوونسٹن انٹرنیشنل کلینک آف ہیومن رائٹس کی سرپرستی میں پاکستان میں پولیس ٹارچر کے مسئلے پر تحقیق کا کام سونپا گیا۔ اس کا ایک محرک یہ بھی تھا کہ پاکستان 2008 سے یونائیٹڈ نیشنز کنونشن اگینسٹ ٹارچر (UNCAT) کا دستخطی ممبر ہے لیکن اس حوالے سے کسی طرح کے عملی اقدامات نہیں کرسکا۔ جس وقت، 2012 میں میں فیلڈ ریسرچر کی حیثیت سے اس ٹیم کا حصہ بنا تھا، اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال اوسطاً سو افراد پولیس حراست میں جان سے جاتے رہتے ہیں۔

ان اعداد و شمار کو یہود و نصاریٰ کے فنڈ پہ چلنے والی اسلام دشمن این جی اوز کا پراپیگنڈا کہہ کر مسترد بھی کہا جا سکتا ہے لیکن پھر مسئلہ یہ ہے کہ وطن عزیز کے سرکاری اداروں کے دیے گئے اعداد و شمار بھی بہت قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ ان میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے جن کی حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ اس ریسرچ میں مجھے فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ، تاندلیانوالہ، سمندری، چک جھمرہ اور شہر کے جملہ تھانوں کے کیسز پر متاثرین سے مل کر، ایم ایل سی اور پولیس ڈاکٹ و دیگر کاغذات وغیرہ کی مدد سے حقائق تک پہنچنا تھا۔

یہ ایک کٹھن کام تھا۔ پولیس تعاون کے لیے ہرگز تیار نہ ہوسکتی تھی اور فقط متاثرین ہی کے موقف پر نتیجہ نکال لینا ریسرچ کے بنیادی اصول کے خلاف تھا، لہٰذا دونوں طرف کا جھوٹ پکڑنا مشکل تھا۔ ایک ہزار آٹھ سو چھہتر کیسز کو پڑھ کر ان میں سے بمشکل ایک سو پر انویسٹیگیشن کی جاسکی اور حتمی رپورٹ کے لئے بمشکل درجن بھر کیس ہی منتخب ہو سکے۔ بات ہارورڈ اور یو این کا رانجھا راضی کرنے کی نہ تھی، بات یہ تھی کہ رپورٹ کا معیار بین الاقوامی سطح کا ہونا اور اس کا شفاف ہونا ضروری تھا۔ ہماری مختصر تربیت گوانتا نامو بے، ابو غریب اور بگرام جیل کے قیدیوں کی ٹارچر انویسٹیگیشن کرنے والے او ایس آئی کے تفتیش کار کرسٹوفر روجرز اور چند ماہر انگریز وکلاء نے کی تھی۔ استنبول پروٹوکول اس بابت ہماری رہنما دستاویز تھی جسے دنیا بھر میں ٹارچر انویسٹیگیشن کی بنیادی تربیت میں پڑھا جاتا ہے۔

حافظے کے سہارے ہی اس تجربے پر چند باتیں کرنا چاہوں گا کہ میرے انویسٹیگیشن نوٹس یا تو ضائع ہو گئے یا پھر وہ پراجیکٹ چھوڑنے کے ساتھ ہی وہاں چھوڑ آیا۔

عوام میں اس بابت شعور کی شدید کمی تھی۔ ایک بڑی تعداد کو تشدد (جسے ہم ایذا رسانی کہتے تھے ) کے مفہوم معنی کا اندازہ ہی نہ تھا۔ یعنی وہ سمجھتے تھے کہ بدکلامی، گالم گلوچ، بلا وجہ حراست، حراست کے دوران روشنی، ہوا اور پانی وغیرہ سے محروم رکھنا اور بنا اجازت زیر حراست فرد کی ذاتی ملکیت سے لی جانے والی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ ٹارچر کے زمرے میں نہیں آتی۔ ٹارچر ان لوگوں کے خیال میں فقط وہی ایذا رسانی ہے جو میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ سے ثابت ہو۔

پولیس اور عدالت کم از کم اتنی ہی ایذا رسانی کو ٹارچر تسلیم کرتی ہے جو کہ اے ٹی ایم چوری کے ملزم صلاح الدین کے کیس میں آر پی او کے بیان سے ظاہر ہوا ہے۔ بدقسمتی سے یہ درجہ بالا تمام چیزیں ٹارچر کے زمرے میں آتی ہیں اور عوام اس امر سے ناواقف ہیں جبکہ پولیس والے اس کے انکاری ہیں اور اسے اپنا پیشہ ورانہ حق سمجھتے ہیں۔ یہی وجوہ ہیں کہ ٹارچر کے اکثر کیس کمزور بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں کہ ہم لوگ ٹارچر کو ٹارچر سمجھتے بھی نہیں۔

عوام میں بظاہر پڑھے لکھے افراد بھی دوران تفتیش ملزم پر ٹارچر کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ کافی اعلیٰ تعلیم یافتہ عوام اور پولیس اہلکاروں کو عملاً پتہ ہی نہیں ہے کہ کن کن ایذا رسانیوں پر لفظ ”ٹارچر“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کم علمی کی وجہ سے ہماری انویسٹیگیشن میں تعاون کا فقدان رہا۔ چھوٹے جرائم پیشہ افراد میں پولیس پر دباؤ ڈالنے کے لئے ٹارچر کے جھوٹے کیسز رجسٹر کروانے کے رواج نے بھی ہماری انویسٹیگیشن کو مشکل بنایا۔

ایسے جھوٹے کیسز سے حقیقی متاثرین کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ حقیقی متاثرین اکثر وہ طبقہ ہوتے ہیں جو قانونی جنگ لڑنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے۔ کئی عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ جن کسی بوتل میں بند نہیں ہو پاتا اور پولیس بنا روک ٹوک کے ٹارچر کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیروں اور بیٹھکوں پہ نجی ٹارچر سیل بنے ہوتے ہیں، افسران بالا کی آشیر باد ہمراہ ہوتی ہے، عدالت کی کمزوریوں اور اس سے بچنے کے ایک ہزار طریقے ہر تھانے دار کو آتے ہیں سو یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ پولیس ٹارچر کیوں کرتی ہے؟ پولیس میں کہاں مسائل ہیں جو ایسے بدصورت حالات کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔ میں اس حوالے سے چند باتیں اس تمہید کے ساتھ کہوں گا کہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت نہیں بلکہ سرے سے اس کی آرگنائزیشن اور اس کے اسٹرکچر ہی کو بدلا جائے۔ اگرچہ میری ریسرچ کا موضوع ٹارچر کے واقعات تھے، ناکہ اس میں ملوث محکمے کے مسائل (لاکھوں مسائل ہوں تو بھی انسانی حقوق کا کوئی بھی قانون اس ہتھ چھٹ کلچر کو تسلیم نہیں کرتا) مگر دونوں طرف کے رخ دیکھے بغیر مسئلے کا حل نہیں ملتا۔

پولیس کا موجودہ ڈھانچہ ہی بنیادی طور پر وہ ہے جو انگریز کی قابض حکومت کی ضرورتوں کے مطابق پولیس ایکٹ 1861 کے تحت بنایا گیا تھا، نا کہ ایک ویلفیئر اسٹیٹ کی پولیسنگ کے لیے۔ یہ حکومت کے ہاتھ میں جبر کا انسٹرومنٹ تھا جس کے کردار کو 1947 کے بعد ری ڈیفائن کرنے اور ادارے کو ری اسٹرکچر کرنے کی ضرورت تھی۔ ایسا نہیں ہوا۔ جابر اور جلاد کا کردار کبھی معاون اور محافظ سے بدلا نہ جاسکا۔ ہم آج بھی پولیس اسٹیٹ ہی ہیں، ایک ویلفیئر اسٹیٹ بنے بغیر پولیس کو کیا بدلیں گے؟

تربیت اور وسائل کی کمی ایک بڑی وجہ ہے کہ شارٹ کٹ تفتیش کے لیے مار پٹائی کا سہارا لیا جاتا ہے کیونکہ اوپر سے جلد از جلد کیس حل کرنے کا پریشر ہوتا ہے۔ یہی وسائل کی کمی ہے کہ جوانوں پر کام کا بوجھ ہے، چھٹی، پروموشن، مراعات اور سروس سیکیورٹی کے بے شمار مسائل نے سپاہیوں کو بد دل، چڑچڑا اور بدتمیز بنا دیا۔ (میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وسائل کی کمی افسران کی بدانتظامی کا مناسب سا نام رکھا گیا ہے ورنہ وسائل کا مسئلہ ہر محکمے کو درپیش ہوتا ہے اور بری لیڈرشپ کا جواز فراہم نہیں کرتا) سو پولیس کلچر کا لفظ ایک جرم کی طرح بدنام ہو گیا جس کے ذمہ دار تھانے دار ہیں نہ سپاہی، فقط افسر ہیں، ان کے بعد ہی یہ الزام سیاست دانوں پہ دھرا جائے۔

نیپولین کے ایک قول کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ کوئی سپاہ اچھی یا بری نہیں ہوتی، اچھے یا برے اس کے افسر ہوتے ہیں۔ پولیس کی خرابی کے اولین ذمہ دار اس کے اعلیٰ افسران ہیں۔ سپاہی سے آپ کم علمی، سطحی سمجھ بوجھ اور غلط فیصلوں ہی کی اغلب توقع رکھ سکتے ہیں۔

محکمہ پولیس دراصل دو مختلف اداروں سے مل کر بنا ہے۔ پنجاب پولیس اور پی ایس پی یعنی پولیس سروس آف پاکستان۔ اول الذکر میں تمام سپاہی اور تھانے دار ہیں جن کے مسائل کا بیان ایک الگ موضوع ہے اور دوسرا شعبہ سول سرونٹس کا ہے جو کہ پنجاب پولیس کے لوگ نہیں، وفاقی حکومت کے افسران یا بیوروکریٹ ہیں اور پنجاب پولیس سے وفاداری ان کی قطعی مجبوری نہیں ہے، اس جملہ معترضہ کے ساتھ میں یہ کہوں گا کہ ایک وردی میں دو محکمے کام کررہے ہیں تو کیا خاک ایک دوسرے سے وفادار ہو کر کام کریں گے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں محکمے ایک دوسرے کے ساتھ ستر سال کی اٹل رفاقت کے بعد بھی ایک دوسرے پہ بھروسا کرتے ہیں نا ہی ایک دوسرے سے وفادار ہیں۔ افسر جوان کے خون پہ سودے بازی کرے گا اور جوان افسر کے ساتھ دھوکے بازی کی کوشش کرے گا تو سپاہ بکھرے گی، مورخ الزام افسر پر ہی دھرے گا۔

ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کا گریڈ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنی بڑی ان پر ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں۔ سیاسی پریشر اور افسران بالا کی ناروا سختی ایک گریڈ سولہ کے ایس ایچ او کے لیے ہمیشہ قابل برداشت نہیں بھی ہوتی، یہی حال گریڈ چودہ کے تفتیشی افسر کا ہے۔ یہ انگریز کا زمانہ نہیں جب ایک سیکنڈ لفٹین کو پورے ضلعے کا کمشنر لگا دیا جاتا تھا۔ پولیس کی آرگنائزیشن میں عہدیداران کی ذمہ داریوں اور تھانوں میں تعیناتیوں کا وہی پیٹرن چل رہا ہے جو 1903 کی جسٹس کینڈی پولیس کمیٹی یا 1923 کی لمسڈن کمیٹی برائے پولیس کی سفارشات کے مطابق تھا۔ آخر کیا قباحت ہے کہ پولیس کو ری اسٹرکچر نہ کریں اور اس کے تمام عہدے ایک ہی کیڈر کے اندر ہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •