خواجہ احمد عباس : پروپیگنڈا نگار یا حقیقت نگار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواجہ احمد عباس 7 جون 1914 کو پیدا ہوئے اور یکم جون 1967 کو انتقال کرگئے۔ 1920 سے 1960 تک کے ادب پر نظر ڈالتا ہوں تو گراہم گرین، ڈی ایچ لارنس، ژاں پال سارترے، ولیم فاکنر، سیمول بکٹ، ارٹیسٹ ہیمنگ وے، جارج آرویل، ورجینا ولف، پرل اس بک اور جیمس جوائز تک کے نام ذہن میں آ جاتے ہیں، اور بھی کئی بڑے نام ہیں۔ غور کریں تو جوائز سے سارترے اور جارج آرویل تک مغرب کا ادب محض روایتی نہ ہوکر تبدیلی اور فلسفوں کے نئے جزیروں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

ورجینا ولف ہوں یا سیمون دبوار، عورت کے متھ کو توڑنے کی کوشش کررہی تھی۔ ایک مکمل دنیا تبدیل ہو رہی تھی اور ان کے اثرات ادب قبول کر رہا تھا۔ ہندوستانی پس منظر میں دیکھیں تو ہماری شروعاتی کہانیوں کے لیے جان گالس وردی، چیخوف، موپاساں تو مل گئے لیکن ہم ہر طرح کی غلامی میں کچھ ایسے گم تھے کہ ہماری کہانیاں کوری ترقی پسندی اور روایت کی بھینٹ چڑھ گئی تھیں۔ شاعری دیکھیں تو اقبال کی فکرو بصیرت کی تربیت میں مغرب کا ہاتھ رہا۔

اقبال گوئیٹے، نطثے، برگساں ہیگل کے اثرات کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا افسانہ نگار پریم چند سے سدرشن اور خواجہ احمد عباس تک، اس حد تک غلامی سے خوفزدہ تھا کہ نئے فلسفوں کی روشنی کہیں دور چلی گئی تھی۔ اس وقت کا تقاضا بھی تھا کہ ادب اور تحریر کے ذریعہ معاشرے کی برائیوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ کچھ فنکار ذمہ داری کے ساتھ اس کام کو انجام دے رہے تھے۔ 36 کی ترقی پسندی اور انگارے تک نہ مجمودالظفر کی بغاوت میں کوئی نئی لہر پوشیدہ تھی، اور نہ ہی رشید جہاں دلی کی سیر کے بہانے نئے خیال کا کوئی تحفہ دیتی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ انگارے پر ہنگامہ ہوا۔ مولوی صاحبان کو ٹھس اور سرد انگارے میں بھی اتنی تپیش محسوس ہوتی تھی کہ باہر آگ اگلتے تھے اور گھرمیں چھپا کے پڑھتے تھے۔ یہ دور نئے ترقی پسند باغیوں اور انگریزی جاننے والوں کا تھا۔ پھر بھی مغرب کے مقابلہ ہم کسی صف میں نہیں تھے۔

خواجہ احمد عباس کی پہلا مطبوعہ افسانہ ابابیل تھا جو 1937 میں شائع تھا۔ اس وقت ان کی عمر 21 سال تھی۔ پہلی کہانی سے ہی جس انسانی وسیع نظریے کو خواجہ صاحب نے قارئین کے سامنے رکھا، اسی نظریے پر چلتے ہوئے اپنی عمر گزار دی۔ آپ دیکھیں تو ان کی فلمیں ہوں یا بلٹنر کے اداریے، یہ اداریے بھی تالستائے اور وکٹر ہیوگو کی طرح انسانیت کا پیغام بن کر ابھرے۔ نکسلائٹ سے انقلاب تک، میجر رفیق سارا گیا سے اردو تک۔ دراصل وہ اپنا پیغام محبت ہے، جہاں تک پہنچے، اور وسیع انسانی نظریات کو عام قاری تک پہنچانے کی سعی کر رہے تھے۔ ابابیل کو دیکھیں یہ کہانی کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے۔

”اس کا نام تو رحیم خاں تھا مگر اس جیسا ظالم بھی شاید ہی کوئی ہو۔ گاؤں بھر اس کے نام سے کانپتا تھا۔ نہ آدمی پر ترس کھائے نہ جانور پر۔ ایک دن رامو لہار کے بچے نے اس کے بیل کی دم میں کانٹے باندھ دیے تھے تو مارتے مارتے اس کو ادھ موا کر دیا۔

رحیم خاں ظالم آدمی تھا۔ اور ایک دن اس کے ظلم سے گھبرا کر اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ رحیم خاں جانتا ہے کہ اس کی بیوی اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔ صفائی کا خیال آتا ہے تو کھپریل میں ابابیل کا گھونسلہ نظرآتا ہے۔ اندر دو لال بوٹی سے بچے چوں چوں کر رہے تھے۔ ان کی حفاظت کے لیے مادہ ابابیل رحیم خاں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اور بس یہی لمحہ ظالم رحیم خاں کی پوری زندگی کو بدل دیتا ہے۔ موسلادھار بارش میں ایک دن جب ابابیل کا گھونسلہ تباہ ہونے کے نزدیک پہنچ جاتا ہے تو ہمارا رحیم خاں، اوہنری کی شہرہ آفاق کہانی ’دلاسٹ لیف‘ کا پنٹر بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ اس گھونسلہ کو بچاتے ہوئے بیمار پڑ جاتا ہے۔ اورآخر مر جاتا ہے۔ کہانی کا یہ اختتام دیکھئے۔

”اگلے دن صبح کو جب اس کے پڑوسی شفاخانہ والوں کو لے کر آئے اور اس کے جھونپڑے کا دروازہ کھولا تو وہ مرچکا تھا۔ اس کی پائنتی پرچار ابابیلیں سرجھکائے خاموش بیٹھی تھیں۔“

وہ امید اور خوابوں کے افسانہ نگار ہیں۔ اس لیے وہ پروپیگنڈسٹ بھی ہیں اورمزے کی بات یہ ہے کہ عمر کے آخری حصے میں وہ اپنے معترضین کی باتوں کا جواب بھی ہنس کر دیا کرتے تھے۔ کہ ہاں بھئی، میں کہانیاں کہاں لکھتا، پروپیگنڈا کرتا ہوں۔ شہر کا سپنا ہو، دھرتی کا لال، یا آوارہ کا راجو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بوبی کی ڈمپل کپاڈیہ، میرا نام جو کر کا جوکر، جو ہنساتا ضرور ہے لیکن شروع سے آخر تک ایک ڈریم لینڈ میں رہتا ہے۔ ان کی مشہور کہانی ٹریلین کا پینٹ اسی خواب کا حصہ ہے جہاں ایک غریب مزدور آدمی 80 روپے کی ٹیریلین کی پتلون خرید کر منگتی کے ساتھ آؤ پیار کرنے فلم دیکھنے جاتا ہے۔

کیونکہ پڑھی لکھی کملا اس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھی اور یہ خواب اسے منگتی کی آنکھوں میں نظرآتا ہے تو وہ اپنے لیے ایک نئی زندگی کی تلاش کرلیتا ہے۔ صدیوں کی غلامی اور ہندوستان کی غریبی سے ممبئی کی چال تک وہ انہی کہانیوں کو موضوع بناتے رہے جہاں خوابوں کی سرحد ہے اور ہمارے خواجہ غریبی امیری میں تفریق نہ کرتے ہوئے محلوں کے خواب کو چال اور گندی بستیوں تک منتقل کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ محبت جیسے لافانی جذبے کو صرف امیروں کی وراثت نہیں سمجھتے۔

وہ ان آنکھوں میں خواب سجاتے ہیں، یا محبت کی نئی بستیاں آباد کرتے ہیں، جو آنکھیں سورج کی چکا چوند سے محروم، غربت و افلاس کا حصہ ہیں۔ وہ حاشیے کے غریب مزدوروں کے لیے زندگی اور محبت کی علامت بن جاتے ہیں۔ اسی لیے وہ نرے ترقی پسند تھے، پروپیگنڈست بھی۔ ان کی کہانیاں بہت حد تک روایت پسند اور مقصدیت کے بطن سے جنم لے رہی تھیں۔ مگر خواجہ خوش تھے کہ فلم ہو، صحافت ہو یا ناول یا فکشن کا میدان، وہ اپنا کام کیے جا رہے ہیں اور اپنے نظریات کو تنقید، تنقیص اور اعتراض کے باوجود قاری کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ واپسی کا نکٹ کے اس بوڑھے برجو کو یاد کیجئے، جو ایک عمرگزار کر اپنی محبوبہ سے ملنے جا رہا ہے، جو غربت میں مندر کی سیڑھیوں پر اپنی باقی بچی زندگی گزار رہی ہے۔

ٹرین روانہ ہونے سے پہلے میں نے ایک عجیب معجزہ دیکھا۔ وہ جھریوں دار چہرے اور کھچڑی بالوں والا بوڑھا اب بوڑھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس کے گال ایک عجیب مسرت اورجوش سے تمتما رہے تھے۔

فلم بابی کے منظر میں غریب ڈمپل کپاڈیہ کا باپ اس سے کہتا ہے کہ تم اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ فلم دیکھنے جارہی ہو تو خیال رہے، پیسے تم خرچ کروگی۔ ٹکٹ تم لوگی۔ اسے پتہ تو چلے کہ تمہارے باپ کے پاس بھی بہت پیسہ ہے۔ اور اس خواب کی حد دیکھئے کہ فلم کے انجام میں ایک بہتا ہوا دریا ہے۔ لڑکے کا امیر باپ، غریب باپ کے ساتھ مل کر اپنے بچوں کو تلاش کر رہا ہے۔ اور یہاں محبت کی فتح ہوتی ہے، دراصل ہوا محل ہو، آوارہ، شہر اورسپنا، یہ فلمیں کم خواجہ صاحب کے افسانے زیادہ ہیں۔

سردار جی سے روپے آنا بائی، اجنتا، اورآج کے لیلیٰ مجنوں تک خواجہ صاحب بے رنگ و بے نور آنکھوں کو خوابوں سے سجاتے رہے۔ اونچے محلوں اور جھگی جھونپڑیوں کے درمیان کی دیواریں توڑتے رہے۔ خواب اور محبت کا سفر ان کے نظریات کا ایک پہلو تھا تو دوسرا قومی یکجہتی اور لسانی یکجہتی سے ہوکر گزرتا ہے۔ میجر رفیق مارا گیا کہانی کشمیر کے محاذ پر ہوئی پہلی ہندو پاک جنگ کو لے کر تھی، جہاں ہندوستان سے محبت کرنے والے میجر رفیق کے کردار نے اپنا نقطہئی نظر اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ وقت پڑے تو مسلمان اپنی جاں کی قربانی بھی پیش کر سکتا ہے۔

آج ہمارے درمیان کتنے ایسے ادیب ہیں جو نئے پس منظر میں کشمیر کے موضوع پر کوئی افسانہ تحریر کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکتے ہیں۔ منٹو کی ٹوبہ ٹیک سنگھ یاد کیجئے اور خواجہ احمد عباس کی کہانی اردو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملک تقسیم ہوچکا ہے۔ اور ایک بے سہارا طوائف ہندو پاک کی سرحد پر دم توڑتی ہے اور جب دونوں ملک کے فوجی اس سے اس کا نام پوچھتے ہیں تو وہ کہتی ہے۔ میں اردو ہوں۔ یہی وہ کہانیاں تھیں، جن کے مطالعہ کے بعد معترضین نے انہیں پروپیگنڈا نگار کہنا شروع کیا تھا۔

یہ بھی کہاگیا کہ وہ کہانیوں کے لیے اخبار کے تراشے استعمال کرتے ہیں اور ان کی کہانیاں بہت حد تک صحافت سے قریب ہیں۔ دراصل ایسی آوازوں کے پیچھے جدیدیت کی آواز بلند کرنے والے نقاد تھے جو کبھی کہانی اورصحافت کے فرق کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ کیا کوئی کہانی سماجی و سیاسی شعور کے بغیر بھی وجود میں آسکتی ہے؟ آپ غور کریں تو ایسی کہانی ممکن ہی نہیں ہے جس کے وژن کے پیچھے سیاست کو دخل نہ ہو۔

یہی وہ کہانیاں تھیں، جن کے مطالعہ کے بعد معترضین نے انہیں پروپیگنڈا نگار کہنا شروع کیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ کہانیوں کے لیے اخبار کے تراشے استعمال کرتے ہیں اور ان کی کہانیاں بہت حد تک صحافت سے قریب ہیں۔ دراصل ایسی آوازوں کے پیچھے جدیدیت کی آواز بلند کرنے والے نقاد تھے جو کبھی کہانی اور صحافت کے فرق کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ کیا کوئی کہانی سماجی اور سیاسی شعور کے بغیر بھی وجود میں آسکتی ہے؟ آپ غور کریں تو ایسی کہانی ممکن ہی نہیں ہے جس کے وژن کے پیچھے سیاست کو دخل نہ ہو۔

نیتھنل ہاتھرن کا داسکارلٹ لیٹر ہو، روسی ناول نگاروں کے افسانے یا ناول ہوں، کہیں نہ کہیں صحافتی رنگ بھی غالب ملے گا۔ سارترے کی دی وال میں ابیٹا اور ریمون گریس کا واقعہ بھی مجھے اخبار کا تراشا لگتا ہے، جس کے پس پردہ عالمی جنگ کی تباہ کاریاں بھی ہیں اور انسان کے زندہ رہنے کا عزم بھی۔ گوگول کی ڈیڈ سول، وکٹرہیوگو کے لیس میزریبل، اور مارخیز کے ’تنہائی کے سوسال تک‘ آپ نہ صحافتی زبان سے بچ سکتے ہیں اور نہ سیاست سے دامن چرا سکتے ہیں۔

اور یہی ہماری جدید تنقید کا وہ کمزور پہلو تھا اور ایسے لوگ آج بھی ہمارا حصہ ہیں کہ منٹو سے خواجہ احمد عباس کی کہانیوں پر بلا وجہ اعتراض کی کیل ٹھوکنے میں عمر گزاردی۔ خواجہ احمد عباس نے غلامی کے ماحول میں آنکھیں کھولیں اورموجودہ گھٹن بھرے ماحول کو لے کر جب سوچنا شروع کیا تو خواب سے محبت تک کی منزلیں نمایاں ہوتی چلی گئیں۔ اور یہی وہ نظریات تھے جسے وہ اپنی قاری کو سونپتے رہے۔ ہاں، جیسا میں نے شروع میں تحریر کیا، مجھے اس بات کا احساس ضرور ہے کہ خواجہ احمد عباس نے جب لکھنا شروع کیا، مغرب عالمی جنگوں کے بطن سے باہر نکل کر ادب میں نئے فلسفوں کی راہ ہموار کر رہا تھا۔

ممکن ہے، ہمارے گھٹے ہوئے معاشرے میں اتنی وسعت نہ تھی کہ ہم غلامی اور غلامی کے بعد کے پیدا شدہ تنگ ماحول میں آزادی کے نئے فلسفوں، نئے آہنگ یا نئے اسلوب کی طرف چھلانگ لگا سکتے ہوں۔ پریم چند سے منٹو اور خواجہ احمد عباس تک روایت اور ترقی پسندی کا زور رہا۔ میں بس اتنا سوچتا ہوں کہ خواجہ احمد عباس کا تعلق اس کلاس سے تھا جہاں وہ کہانی کو پروپیگنڈے سے الگ نئے راستوں کی طرف بھی موڑ سکتے تھے۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *