بڑودہ میں سیلاب، ریلوے کی تعمیر نو اور بھگت کبیر کا جزیرہ
چھ سات روز بعد پانی کم ہوا۔ اس عرصے میں ہم ریلوے ملازمین تو گاڑیوں کے ڈبوں میں ٹھہرے رہے۔ جب راشن کی ٹرین آتی تو ہم اپنے ملازموں کو اپنے حصہ کا راشن لینے بھیج دیتے۔ تیسرے روز ہم اپنے کپڑوں کے بکس وغیرہ نکال لائے تھے جو کہ انھی رسوں کی مدد سے کھینچے گئے تھے۔ اب خدا خدا کرکے بارش بند ہوئی اور پانی بھی کم ہو گیا۔ تب بڑودہ شہر کے نقصانات اور جانوں کے تلف ہونے کا علم ہوا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ شہر کی کتنی عمارتیں گر کر تباہ ہو ئیں اور ان کے نیچے دب کر کتنی جانیں ضائع ہوئیں ۔
کئی ایک انسان جو شہر سے ٹانگوں پر جا رہے تھے مع ٹانگوں اور گھوڑوں کے دریا میں بہہ گئے۔ راجہ کے کمپنی باغ کے اندر جو چڑیا گھر تھا، اس میں بہت سے جانور پانی میں ڈوب کر مر گئے۔ ان میں ٹائیگر اور افریقا کے شیر ببر اور دیگر قسم کے جانور تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارا مکان جو کہ عمارت کے لحاظ سے بوسیدہ تھا، گرنے سے بچ رہا۔ اس طغیانی اور تباہی کے بعد ہم لوگ نے دوسری جگہ سیاجی گنج میں مکان کرایہ پر لے لیا۔ لیکن بعد ازاں سوتے ہوئے جب کبھی پانی کا نظارہ، انسانوں اور حیوانوں کی لاشیں بہنے کا منظر خواب میں نظر آ جاتا تو نیند اچاٹ ہو جاتی اور چارپائی سے اٹھ کر بیٹھ جاتا۔
اس طغیانی نے آنند کھمباٹ برانچ کو بھی بہت نقصان پہنچایا۔ اس لائن کے نیچے سے بھی دو تین پل بہہ گئے تھے بلکہ پلوں کی جگہ بیس تیس فٹ گہرے گڑھے پڑ گئے تھے۔ تاراپور کے آگے کھمباٹ کی طرف ایک سٹیشن ہے، جس کا نام مجھے یاد نہیں ، وہاں کا بے چارہ سٹیشن ماسٹر، اس کا لڑکا اور لڑکے کا ماموں ، جو کہ شام کے وقت طغیانی کا نظارہ اور شکستہ پلوں کو دیکھنے آئے تھے، پاؤں کے نیچے سے بینک کی مٹی نکل جانے سے تینوں اشخاص پانی کی نذر ہو گئے اور ان کی لاشیں کئی دنوں کے بعد پانی میں تیرتی پائی گئیں ۔
سنا گیا کہ سٹیشن ماسٹر صاحب اپنی بیوی کو کہنے لگے کہ تم چائے تیار کرو ہم لوگ ابھی پانی دیکھ کر واپس آتے ہیں لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ وہ پانی دیکھنے جا رہے ہیں یا اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے جا رہے ہیں ۔ اف خدا یا پناہ۔ وہ وقت بھی ان بے چاروں کے بیوی بچوں ، ماں بہن کے لیے کس قدر غم و اندوہ کا باعث اور تباہ کن ہو گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ایسے ناقابل برداشت واقعہ سے بچائے رکھے اور ہر ایک پر اپنا فضل رکھے۔ آمین۔
اب اس تباہ کن طغیانی کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ ریلوے اور سٹیٹ کا لاکھوں کا نہیں بلکہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بہت سے پل جو طغیانی میں بہہ گئے تھے دوبارہ تعمیر ہونے لگے۔ ریلوے کی آمدو رفت متبادل ڈال کر شروع کر دی۔ اس وقت جناب ایکسین صاحب نے مجھے سروے کی ڈیوٹی سے ہٹا کر اوپن لائن کے کاموں پر لگا دیا اور نیرو گیج ریلوے جو کہ بھروچ سے جمبوسرکو آدرے سے ہو کر جاتی تھی، جو کہ دو تین میل بہہ گئی تھی۔ مجھے بعد ازاں اسسٹنٹ انجینئر کے ماتحت بڑودہ سب ڈویژن میں انجنیئرنگ ورکشاپ کا انچارج بنا دیا گیا جہاں پر میں نے خوب جاں فشانی اور محنت سے اٹھارہ ماہ کام کیا۔
اس کے بعد مجھے نربدا دریا کے سروے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اس کے ختم ہونے پر مجھے ایکسین کے آفس میں ایک نیرو گیج ریلوے کا Regrading estimate تیار کرنے کے لیے دیا گیا جو کہ دو تین لاکھ روپے کا تھا۔ لگ بھگ چالیس چھوٹے بڑے پل تھے جن کو دوبارہ مرمت کرنا تھا۔ یہ کام میں نے تین چار ماہ میں ختم کر دیا۔ بعد ازاں مجھے ہی اس کی کنسٹرکشن پر لگا دیا گیا۔ یہاں پر میں نے خوب کام کیا اور ایسٹیمیٹ سب کا سب ختم کر دیا۔ کام بھی پورے طور پر مکمل ہو گئے تھے۔
اس کنسٹرکشن کے دوران میں میرا ہیڈکوارٹر مقام جھگڑیا میں رہا جو کہ راج پپلا ریاست کا شہر تھا۔ یہ نیرو گیج ریلوے جس کو Regrade کرنا تھا وہ بھی اسی سٹیٹ کی تھی۔ پہلے پہل تو کام ریلوے کی لیبر سے شروع کیا گیا لیکن بعد ازاں کنٹریکٹ دے دیا گیاجو کہ میں نے ہیرا پھیری کرکے اپنی مرضی کے ٹھیکیدار صاحب کو دلوا دیا۔ ٹھیکیدار کی کمپنی کا نام ایسٹرن سٹور کمپنی تھا جس کے مالک اچھے پڑھے لکھے فہمیدہ اور شریف لوگ تھے۔ 18 ماہ اس کنسٹرکشن کا کام چلا۔ میرے پاس جو کلرک تھا وہ میرے گاؤ ¿ں کا لڑکا تھا جو کہ دس جماعت پاس تھا۔ وہ بڑا شریف اور محنتی تھا۔
کنسٹرکشن کا یہ کام مکمل ہونے پر مجھے نوکری سے نوٹس ہو گیا۔ چونکہ میں نے اچھی خاصی رقم اس کنسٹرکشن سے کما لی تھی اور کافی سے زیادہ فرنیچر بھی بنوا لیا تھا۔ اس لیے میں نے چنداں پروا نہ کی۔ نیز میری طبیعت پہلے سے آزادانہ تھی اور مستقل نوکری کا زیادہ خواہش مند بھی نہیں تھا۔ اس لیے اپنا حساب وغیرہ کروا کر واپس اپنے گھر آ گیا۔
اب اس جگہ جھگڑیا میں ایک قصہ اپنے ہندو بھائیوں کی بت پرستی کا تحریر کرتا ہوں ۔ ایک جگہ جہاں پر لائن کے لیے کٹائی کرنی تھی کچھ پتھروں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ ان میں کوئی بھی پتھر تراشیدہ نہیں تھا اور اردگرد سب آبادی بھیل قوم کی تھی۔ ٹھیکے داروں کے مزدور مدراسی تھے جنھوں نے وہ پتھر ہٹانے سے انکار کر دیا۔ ٹھیکے دار صاحبان بھی گو تعلیم یافتہ تھے لیکن آخر تھے تو ہندو۔ وہ بھی مزدوروں کی ناراضگی اور دھرم کی رکھشا کو مدنظر رکھتے ہوئے پتھر ہٹانے سے گریز کر رہے تھے۔
آخر کار میں نے اپنے ہاتھ سے ان پتھروں کو ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دیا اور کام بدستور جاری رکھا گیا۔ اس کے چند روز بعد انھی مزدوروں نے محض پتھروں کے ڈھیر تبدیل ہونے کی وجہ سے کہ دیوتاؤں کی جگہ تبدیل ہو گئی اور پتھروں کے دیوتاؤں کی ناراضگی سے بچنے کے لیے کپڑے کا ایک بت بنایا اور اس کے گلے میں سونے کا ایک پتر ڈالا جو کہ دو اڑھائی روپے کی مالیت کا ہو گا۔ چند ناریل اور ایک مصری ایک چھاج میں رکھ کر ایک دوسرے درخت کے نیچے جنگل میں رکھ دی۔
اتفاق سے میں د وسرے روز دوپہر کے وقت کام پر سے اپنی جگہ کھانا کھانے کے بعد ایک درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا۔ اتنے میں میرا ایک ٹھیلے والا نوکر آیا اور کہنے لگا کہ وہاں پر درخت کے نیچے کچھ چیزیں پڑی ہیں ۔ ٹھیلے والا گو مسلمان تھا لیکن رہنے والا اسی علاقہ گجرات کا تھا اور بالکل اسلام سے ناواقف تھا۔ وہ بھی اس کپڑے کے بت کو ہاتھ لگانے سے ڈرتا تھا۔ پس میں اس کی نشان دہی پر اس جگہ پر گیا اور وہاں پر پہنچ کر میں نے سونے کا وہ پترا تو اس ٹھیلے والا کو دے دیا اور ناریل اور مصری جیب میں ڈال لی۔
وہ چھاج جو بالکل نیا بانس کا بنا ہوا تھا، اس نوکر کو دے دیا کہ ٹھیلے پر رکھ دے۔ اس اثنا میں ہمارے ٹھیکے دار صاحبان بھی آ گئے۔ میں نے وہ ناریل اور مصری ان کو کھانے کو دی اور انھوں نے مزے سے کھائی۔ بعد ازاں جب بطور مذاق کے میں نے اس مصری اور ناریل کی دستیابی کا قصہ سنایا تو وہ بہت سٹ پٹائے۔ لیکن اب وہ چیزیں تو پیٹ میں جا چکی تھیں پھر سٹ پٹانے سے کیا حاصل۔ خیر بعد میں وہ جہاں تک ہو سکتا تھا میرے ہاتھ سے کوئی چیز لے کر نہیں کھایا کرتے تھے۔
میں ان سے خوب ہنسی مذاق کرتا رہتا اور آخر کار مجبور ہو کر یہی جواب دیتے کہ چوہدری صاحب کیا کریں ہمارا دھرم ہی ایسا کمزور اور نازک ہے کہ ذرا سی بے احتیاطی برتنے سے اس کو گزند پہنچنے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔ وہ چھاج لا کر میں نے اپنی بیوی کو دے دیا جو کہ گیہوں وغیرہ صاف کرنے کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوا۔ جب ہم واپس اپنے گھر آئے تو اس چھاج کو بطور یادگار ان دیوتاؤں کی ساتھ لے آئے جو کئی سال تک ہمارے گھر رہا اور شاید اب بھی ہو۔ پنجاب میں جو چھاج بنائے جاتے ہیں وہ سرکنڈوں کے ہوتے ہیں لیکن وہ بانس کا بڑا عمدہ اور مضبوط بنا ہوا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں





