تیل کی عالمی رسد میں کمی کے پاکستان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Oil pump

سعودی عرب میں سنیچر کو تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا اثر پانچ دن بعد بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی تنصیبات کے مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور ان حملوں کی وجہ سے تیل کی عالمی رسد میں پانچ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

حملے کے بعد پیر کو بازار کھلتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گذشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح یعنی 68 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ جا پہنچی تھی تاہم اب اس میں قدرے کمی آئی ہے اور یہ 64 ڈالر کے لگ بھگ ہے تاہم یہ قیمت بھی حملوں سے پہلے کی قیمت سے تین سے چار ڈالر فی بیرل زیادہ ہی ہے۔

حملوں سے تیل کی فراہمی کس طرح متاثر ہو گی؟

ان حملوں کا نشانہ سعودی عرب کی تیل کی کمپنی آرامکو کا تیل صاف کرنے کا وہ کارخانہ بنا ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا کارخانہ ہے۔ بقیق میں واقع اس کارخانے میں ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیل تو سامنے نہیں آئی تاہم حکام کے مطابق اسے آٹھ مسلح ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے کہ یہ واقعات ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب آرامکو خود کو سٹاک مارکیٹ میں متعارف کروانے والی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی لسٹنگ ہوگی۔

سعودی حکام نے ان حملوں کے بعد تیل کی پیداوار سے متعلق چند اشارے دیے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ کیے گئے تیل کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں کمی کا کچھ ازالہ کیا جا سکے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ برآمدات کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کے لیے رواں ہفتے سعودی عرب اپنے ذخیرہ شدہ تیل کا استعمال کرے گا۔

تاہم نیو یارک میں آر بی سی کیپیٹل مارکیٹس میں انرجی سٹرٹیجی کے منیجنگ ڈائریکٹر مائیکل ٹران کا کہنا تھا ‘اگر تیل کی برآمدات معمول پر آ بھی جاتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی تقریبا چھ فیصد پیداوار کو نظرانداز کرنے کا خطرہ اب کوئی قیاس آرائی نہیں رہی۔’

خام تیل پیداوار

خام تیل کے بڑے پیداواری ممالک

دنیا میں سب سے زیادہ خام تیل کی پیداوار والے ممالک میں امریکہ سرفہرست ہے۔ اس وقت امریکہ کی یومیہ پیداوار 17.16 ملین بیرل ہے۔ اس کے بعد روس کا نمبر آتا ہے جہاں یومیہ 11.5 ملین بیرل خام تیل نکلتا ہے۔

سعودی عرب اس فہرست میں تسیرے نمبر پر ہے جو یومیہ 9.76 ملین بیرل تیل نکالتا ہے لیکن خیال رہے کہ سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور یہ برآمدات سات لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ ہیں جن میں حملے کے بعد فوری طور پر پانچ لاکھ بیرل کی کمی آئی۔

سعودی عرب کے بعد کینیڈا اور عراق میں خام تیل کی پیداوار بالترتیب 5.42 اور 4.72 ملین بیرل یومیہ ہے جبکہ چین اور متحدہ عرب امارات بالترتیب 3.95 اور 3.05 ملین بیرل روزانہ کے ساتھ چھٹے اور ساتویں نمبر پر ہیں۔

اس کے بعد برازیل، کویت، ایران اور قطر کی باری آتی ہے جو بالترتیب 2.74، 2.69، 2.43 اور 2.01 ملین بیرل یومیہ تیل نکال رہے ہیں۔

تیل پیداوار

ماضی میں تیل کی عالمی رسد کب کب متاثر ہوئی؟

سعودی حملے نے تیل کی روزانہ عالمی پیداوار میں سب سے زیادہ خلل ڈالا ہے۔ سعودی کمپنی آرامکو کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں پیداوار میں 57 لاکھ بیرل یومیہ کمی دیکھی گئی ہے۔ اس سے قبل ماضی میں اتنی بڑے پیمانے پر کمی صرف انقلابِ ایران کے دوران یعنی چار دہائیاں قبل ہی دیکھی گئی تھی جب پیداوار میں 56 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے 1956-57 میں سویز بحران کے دوران چھ روزہ جنگ میں یومیہ دو ملین بیرل تیل ضائع ہوا۔ سنہ 1973 سے 1974 تک اسرائیل مخالف جنگ میں یومیہ 4.3 ملین تیل کے ذخائر ضائع ہوئے۔ انقلاب ایران کے دوران 1978 سے 1979 تک 5.6 ملین بیرل تیل ضائع ہوا۔ ایرن عراق جنگ کے دوران 1980 سے 1981 تک 4.1 ملین تیل کی پیدوار ممکن نہ بنائی جاسکی۔

جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو 1990 سے 1991 تک 4.3 ملین تیل کی رسد متاثر ہوئی۔ سنہ 2001 میں عراق تیل کی برآمد میں تیل کی معطلی کی وجہ سے 2.1 ملین بیرل تیل کی سپلائی میں خلل واقع ہوا۔ وینزویلا کی ہڑتال کے دوران 2002 سے 2003 تک 2.3 ملین بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کتنا متاثر ہوسکتا ہے؟

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر جلد قابو نہ پایا جا سکا تو تیل کی عالمی رسد میں تعطل سے پاکستان بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔  پاکستان کی وزارت پٹرولیم کے ایک سینیئر افسر نے جو تیل کی درآمد کے عمل سے بھی وابستہ ہیں، بی بی سی اردو کے اعظم خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے سنگین اثرات پاکستان پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلا اثر یہ ہوگا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ ’اس وقت پاکستان خام تیل کا 70 سے 80 فیصد تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہی درآمد کرتا ہے۔ لیکن اب اس میں خلل واقع ہونے سے پاکستان کی تیل کی طلب براہ راست متاثر ہو گی۔‘

ایران سے کشیدگی خطرناک ہو سکتی ہے

پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ان حملوں کے تناظر میں اگر ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے تو پھر ایران آبنائے ہرمز سے تیل کی رسد منقطع کرسکتا ہے جس سے باقی دنیا کے علاوہ پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان متبادل کے طور پر یورپی یا افریقی ممالک سے تیل درآمد کرتا ہے تو پھر ایسی صورت میں بھی قیمتوں میں اضافہ ایک یقینی بات ہو گی جس سے ملک میں مہنگائی میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ تاہم وزارت پٹرولیم کے ترجمان شیر افگن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی سعودی عرب میں پیدا ہونے والی صورتحال کا پاکستان پر قابل ذکر اثر ہو گا۔

دیگر ممالک سے تیل کی درآمد سے متعلق سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس پہلے سے ہی بڑی مقدار میں (تیل کی) سپلائی موجود ہے۔ اور (ہمیں) یہ امید ہے کہ آئندہ چند دن تک سعودی عرب اس معاملے پر قابو پا لے گا۔‘

پاکستان میں آئل اور گیس کی ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ممبر آئل ڈاکٹر عبداللہ ملک نے تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے متعلق سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جبکہ ترجمان اوگرا عمران غزنوی نے بی بی سی کو بتایا کہ اوگرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے جو قیمتوں میں اضافہ تیل کی سپلائی پر اٹھنے والے اخراجات کو دیکھ کر ایک فارمولے کے مطابق قیمت کا تعین کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم تیل کی قیمتوں سے متعلق کوئی بات میڈیا کو نہیں بتا سکتے۔ ہم فارمولے کے مطابق قیمتوں میں اضافہ یا کمی کرتے ہیں جس کا حکومت اعلان کردیتی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11140 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp