معصوم گیڈر اور عیار تیتر کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک گیدڑ اور تیتر میں دوستی کے عہد و پیمان ہو گئے اور انہوں نے دوسرے کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے کا عہد کیا لیکن گیدڑ دوستی کے بدلے میں بہت کچھ طلب کرنے والا اور حاسد فطرت تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے تیتر کو کہا ”تم دوستی کی باتیں تو بہت بگھارتے ہو لیکن میرے مقابلے میں آدھا بھی نہیں کرتے۔ میرے نزدیک دوست وہ ہے جو مجھے ہنسانے اور خوب دکھی کر کے رلانے پر قادر ہو، جو مجھے خوب اچھا کھلائے پلائے اور ضرورت پڑے تو میری زندگی بچائے۔ تم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے“۔

”اچھا ابھی دیکھ لیتے ہیں۔ کچھ فاصلہ رکھ کر میرے پیچھے پیچھے آؤ اور اگر میں نے تمہیں جلد ہی ہنسا نہ ڈالا تو تم بے شک مجھے ہی کھا جانا“۔ تیتر نے کہا۔

پھر دونوں آگے پیچھے راستے پر چل پڑے۔ وہ کچھ ہی آگے گئے تھے کہ انہیں دو مسافر دکھائی دیے۔ دونوں بہت تھکے ماندے دکھائی دے رہے تھے۔ ایک آگے چل رہا تھا اور اس نے لکڑی سے ایک گٹھڑی باندھ کر کندھے پر اٹھا رکھی تھی جبکہ دوسرا اپنے ٹوٹے ہوئے جوتے ہاتھے میں اٹھائے تھکا تھکا سا اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔

تیتر اڑا اور آہستگی سے آگے والے آدمی کی چھڑی پر بیٹھ گیا۔ وہ آدمی تو اپنی دھن میں مگن چلتا گیا مگر پیچھے والے نے تیتر کو اس طرح بے فکری کے عالم میں بیٹھے دیکھا تو بھنے ہوئے تیتر کا سوچ کر ہی اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا جوتا خوب زور سے گھمایا اور تیتر کا نشانہ لے کر پوری قوت سے کھینچ مارا۔

تیتر چوکنا بیٹھا تھا، فوراً اڑ کر جھاڑیوں میں چھپ گیا اور جوتا سیدھا اگلے آدمی کے سر پر جا لگا۔ اسے دن میں تارے دکھائی دے گئے۔ وہ سنبھلا تو پچھلے آدمی سے لڑنے لگا ”تم نے مجھے جوتا کیوں مارا؟ تم نے میری بے عزتی کیوں کی؟ “

”بھائی میں نے تمہیں نہیں تمہارے کندھے پر رکھے ڈنڈے پر بیٹھے تیتر کو جوتا مارا تھا۔ “ دوسرے نے نرمی سے کہا۔

”میرے ڈنڈے پر کون سا تیتر بیٹھا تھا؟ یہاں کہاں ہے تیتر؟ پہلے تم نے مجھے جوتا مارا، اور اب جھوٹ بول کر مجھے بے وقوف بنا رہے ہو، میں تمہیں سبق سکھا کر رہوں گا“۔ یہ کہہ کر وہ دوسرے آدمی پر ٹوٹ پڑا اور کچھ ہی دیر میں دونوں لڑ لڑ کر بدحال ہو گئے۔ ان کے ناک منہ سے خون بہنے لگا، آنکھیں سوجن سے بند ہو گئیں اور کپڑے پھٹ گئے۔

ادھر جھاڑیوں میں چھپا گیدڑ پیٹ پکڑے لوٹنیاں لگا رہا تھا۔ تیتر نے پوچھا ”اب تو تمہاری تسلی ہو گئی کہ میں تمہیں خوب ہنسا سکتا ہوں؟ “
”تم نے مجھے واقعی بری طرح ہنسا دیا۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ تم مجھے رلا سکتے ہو“۔ گیدڑ نے کہا۔
”دیکھتے جاؤ“ تیتر نے برا مانتے ہوئے کہا۔ ”وہ دیکھو سامنے کچھ دور ایک شکاری اپنے کتوں کے ساتھ آ رہا ہے۔ تم اس درخت کے کھوکھلے تنے میں چھپ جاؤ اور پھر دیکھو میں کیا کرتا ہوں“۔

گیدڑ کھوکھلے تنے میں چھپ گیا اور تیتر کو دیکھنے لگا۔ تیتر جھاڑیوں میں چھپتا نکلتا شکاری کی طرف گیا اور اپنی بولی بولنے لگا۔ شکاری کے کتے ہوشیار ہو گئے اور تیتر کی طرف لپکے۔ تیتر اڑانیں بھرتا ہوا ان کے آگے آگے چلتا رہا اور آخر کار کھوکھلے تنے والے درخت کی ایک اونچی سی شاخ پر بیٹھ گیا۔

کتوں نے درخت میں چھپے گیدڑ کی بو پا لی اور ایسا شور مچایا کہ شکاری فوراً ادھر آ گیا۔ اس نے گیدڑ کو دم سے پکڑ کر باہر کھینچ نکالا اور کتے اسے بھنبھوڑنے لگے۔ گیدڑ پہلے تو بہت رویا پیٹا مگر آخر کار بے سدھ ہو کر گر پڑا۔ کتے اسے بے جان سمجھ کر آگے چل دیے۔

کچھ دیر بعد گیدڑ نے چپکے چپکے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اوپر شاخ پر تیتر بیٹھا ہوا تھا۔

”کیا تمہیں خوب رونا آیا؟ کیا تم خوب دکھی ہوئے؟ “ تیتر نے بے تابی سے پوچھا۔
”آہستہ آواز میں بولو، میں پہلے ہی خوف سے نیم مردہ ہوں“ گیدڑ درد بھری آواز میں کراہا۔

گھنٹے بھر بعد گیدڑ اٹھنے کے قابل ہوا۔ اب اسے بھوک بھی ستانے لگی تھی۔ اس نے تیتر کو کہا ”اب یہ دوستی نباہنے کا وقت ہے۔ مجھے اچھا سا کھانا کھلاؤ“۔
”ٹھیک ہے۔ مجھے دیکھتے جاؤ اور جب وقت آئے تو فوراً کھانے پر ٹوٹ پڑنا“ تیتر بولا۔

اسی اثنا میں وہاں سے سر پر چنگیریاں اٹھائیں چند عورتیں گزریں جو کھیت میں کام کرتے ہوئے اپنے آدمیوں کو کھانا دینے جا رہی تھیں۔
انہیں دیکھتے ہی تیتر نے ایک دکھ بھری آواز نکالی اور ان کے آگے آگے جھاڑیوں میں یوں پھدکنے لگا جیسے وہ زخمی ہو۔

”یہ تیتر زخمی ہے۔ ہم اسے آرام سے پکڑ سکتے ہیں پھر رات کو مزے مزے کا سالن بنا کر کھائیں گے“۔ ایک عورت بے تاب ہو کر بولی۔ وہ سب عورتیں تیتر کے پیچھے بھاگنے لگیں۔ لیکن تیتر بہت عیار تھا، وہ ان کے بہت قریب آ جاتا اور جب وہ اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتیں تو اس طرح سے چھوٹی سی اڑان بھرتا جیسے اس کے لئے حرکت کرنا بہت مشکل ہو۔ کچھ دیر میں عورتیں تھک گئیں۔ انہوں نے اپنے سر سے کھانا نیچے زمین پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے تیتر کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1195 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar