بہرُوپیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

( سندھی افسانے کا اردو ترجمہ )

تحریر: ڈاکٹر ایاز قادری ترجمہ: یاسر قاضی

شکیلہ کا ہاتھ آہستہ آہستہ اپنے بالوں کی طرف بڑھا۔

اس کی چوٹی میں گلاب کا تازہ کِھلا ہوا پُھول ظلمات میں نُور کی کرنوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اس نے اپنے بالوں سے گلاب کو کھینچ کر نکالا۔ آہستہ آھستہ ہاتھ بڑھا کر، اس نے وہ گلاب مجید کے سفید کوٹ کے کالر میں سَجا دیا۔

مجید تھوڑا مُسکرایا۔

”یہ تمہارے بالوں میں زیادھ خوبصورت لگ رہا تھا۔ “

”یہ اِس دل کا تحفہ ہے، جس میں صرف تم آباد ہو۔ “

”شکیلہ، رُوئے زمین پر اس سے بڑھ کر بَھلا اور کیا بیش بہا تحفہ ہو سکتا ہے! یہ وہ تحفہ ہے، جسے دیکھ کر دیوتاؤں کے دل بھی بہل جاتے ہیں۔ میں تو پھر انسان ہوں۔

شکیلہ، تمہارا یہ تحفہ مجھے اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ اگر مجھے کوئی دنیا کی تمام نعمتیں دیتا، تب بھی مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی، جتنی اس گلاب کے ملنے سے حاصل ہوئی ہے۔ ”

یہ سب سُن کر، شکیلہ کا چہرہ شرم کے مارے پُھول کی مانند لال ہو گیا۔

مجید نے اپنی گردن جُھکا کر اپنے کالر میں لگے، گلاب کو اپنے ہونٹوں سے لگایا اور شکیلہ کو الوداع کہا۔

آنکھیں آنکھوں سے مل کر، جدا ہوگئیں۔

”میں بالکل مجبُور تھا، کیا کروں۔ “

مجید نے التجا کرتے ہوئے کہا۔

”کیا کبھی اس سے پہلے میں نے دیر کی ہے؟ کمبخت غفُور راستے میں مل گیا تھا۔ تمہیں تو پتہ ہے کہ وہ جان چھوڑنے والا کہاں ہے، کمبل ہی ہو گیا۔ میں نے لاکھ کوشش کی، مگر مجال ہے! جو اس سے جان چُھوٹتی۔ بالآخر اس کی مرضی سے اسے وقت دے کر ہی جان چُھوٹی ہے۔ “

ثُرّیا کا چہرہ غصّے میں لال ہو گیا۔

”ایسے جُھوٹے بہانے اس سے پہلے بھی بنا چکے ہو۔ “

”کیا تمہیں اب میری زبان پر بھروسا نہیں رہا؟ “

”میرا دل جو گواہی دے رہا ہے، کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ “

”کیا میں تمہارے ساتھ، کبھی جھوٹ بول سکتا ہوں؟ “

ثرّیا کا غصّہ کچھ ٹھنڈا ہوا، اور وہ چُپ ہو گئی۔

مجید نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ثرّیا کے ہاتھ میں دیا۔ ثریا نے اس کا ہاتھ دُور جھٹک دیا،

”مجھے ایسی حرکت پسند نہیں ہے۔ “

”ثرّیا، دیکھو، میں تمہارے لیے کون سا تحفہ لایا ہوں۔ دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کیا قیمتی تحفہ ہو سکتا ہے! یہ وہ تحفہ ہے، جسے دیکھ کر دیوتاؤں کے دل بھی بہل جاتے ہیں۔ یہ اُس دل کا تحفہ ہے، جس میں تم آباد ہو۔ “

ثرّیا کی آنکھیں، مجید کے کالر میں لگے گلاب کے پُھول پر جا ٹھہریں، جو کسی مست جوانی کی امنگوں اور امیدوں کی مانند کِھلا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ مجید کا ہاتھ اپنے کوٹ کے کالر کی طرف بڑھا، اس نے گلاب کو کھینچ کر باہر نکالا، اپنا ہاتھ بڑھایا اور وہ پھول ثرّیا کی زلفوں میں سجا دیا۔

گلاب کا پھول ثرّیا کے گیسوؤں میں ظلمات میں نُور کی کرنوں کی طرح چمکنے لگا۔ ثرّیا تھوڑا مسکرائی، آنکھیں ملیں، ہاتھ ملے، غصّہ کافور ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •