اپنے شہر کے لوگوں کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم نے شہر گردی شروع کی،لاہور اس وقت تک آلودہ نہیں ہوا تھا، سارا شہر گھر کی مانند تھا۔ ایک دوسرے پر اعتماد کا عالم یہ کہ اگر کوئی مہمان دروازے پر کھڑا ہو کر اندر آنے کی اجازت طلب کر لیتا تو گھر والے برا مناتے، اسے کہا جاتا کہ تم کوئی غیر تو نہیں ہو، آ جاؤ اندر ۔ کسی کو بھوک لگتی تو وہ کسی بھی جاننے والے کے گھر چلا جاتا ، کوئی دکھاوا نہیں ہوا کرتا تھا۔ جو بھی روکھی سوکھی ہوتی سب مل کر کھا لیا کرتے۔ میکلوڈ روڈ پر نان چنے کی کئی دکانیں اور ریڑھیاں ہوا کرتی تھیں ، اس دور میں ہماری دوپہر عموماً اسی ایریا میں ہوتی ، دو آنے کے دو نان یا گرما گرم روٹیاں اور دوآنے کے چنے، اس زمانے میں کوئی گاہک کھانا کھا کر بل دیے بغیر نکل جاتا تو دکاندار اکثر اسے آواز نہ دیتا کہ کہیں اس کی جیب خالی نہ ہو۔

ایسے کئی واقعات میرے مشاہدے میں آتے رہتے تھے۔ ایک بار ہم پانچ دوست ایک دوسرے کے بھروسے پر لنچ کرنے پاک ٹی ہاؤس میں جا گھسے۔ ہمارے ساتھ مولانا بھاشانی کا کارکن بنگالی بھی تھا، اس کی جیب میں ہمیشہ پیسے رہتے تھے ،کھانا ختم ہوا تو ہم باری باری ہاتھ دھونے غسل خانہ جانے لگے، پہلے ریاض گیا، دوسری باری میری تھی ، میں غسل خانے میں داخل اور ریاض باہر نکل رہا تھا کہ اس نے آہستگی سے کہا، ،،، کسی کی جیب میں بھی پیسے نہیں ،،،، وہ تیزی سے سڑک کی جانب بھاگا اور میں نے بھی اس کی تقلید کی، ہم دونوں کو دیکھ کر اندر بیٹھے ہوئے بشمول بنگالی تینوں دوستوں نے بھی دوڑ لگا دی۔

بنگالی عینک کے بغیر دیکھ نہیں سکتا تھا ، ٹی ہاؤس سے بھاگتے ہوئے اس کی عینک گر گئی، وہ ہوا میں ہاتھ چلانے لگا ، جاوید کو اس پر ترس آیا تو وہ اس کی مدد کو واپس لوٹ آیا۔ ٹی ہاؤس کے دو بیرے بھی آگئے، بیرے ہم سے پوچھ رہے تھے ،، کیا ہوا ؟ کیا ہوا ؟ آپ لوگ بھاگے کیوں؟ اور ہم سب بھی ایک دوسرے سے یہی سوال کر رہے تھے ، بعد میں پتہ چلا کہ ریاض نے مذاق کیا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور لاہور شہر بدلتا گیا، دکانیں مہنگی ہونے لگیں اور لوگ سستے۔

 ضیاء الحق کے ابتدائی دور میں اخبار میں نائٹ شفٹ والے ہم دوست رات دو بجے کے بعد اخبار کی کاپی پریس بھجوا کر پیدل لکشمی چوک پہنچ جاتے ، ہمارا اڈہ چوہدری ہوٹل ہوتا۔ یہ ہوٹل ماسٹر امام دین کے بیٹوں نے کھولا تھا۔ اسی جگہ بیٹھ کر ماسٹر امام دین نے درجنوں فلموں کے ایکٹروں، ایکٹرسوں کے ملبوسات تیار کئے تھے۔ وہاں کوئی کھانا منگواتا اور کوئی چائے۔ ان دنوں بھی نان چنے کی دکانوں سمیت تقریباً سبھی ہوٹل دن چڑھے تک کھلے رہتے تھے ، کہ اسٹیج ڈراموں اور فلموں کے بہت سے ایکٹر بھی وہاں آجاتے، لکشمی چوک ہمارا ’’ریسٹ ہاؤس‘‘ تھا۔

تھکان اترتی تو سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے۔ ایک رات ہم سب ساتھی لکشمی چوک کی جانب رواں دواں تھے کہ نشاط سینما (جو اب نہیں رہا) کے قریب شاہین قریشی نے فرمائش کر دی کہ وہ آج نان چنے کھانا چاہتا ہے، ہم وہیں رک گئے۔ سینما ہاؤس کے باہر رکھی ہوئی کرسیوں پر براجمان ہوئے اور نان چنوں کا آرڈر دے دیا گیا، سب نے جی بھر کے کھایا، بیرے کو بل کے لئے بلوایا تو اس نے کہا،،، جی! بل رہنے دیں ، اسے کئی بار کہا گیا مگر اس کا جواب ایک ہی رہا،، جی رہنے دیں، سب نے بیرے کی اس مہربانی پر تبصرہ کرنا شروع کر دیا ، زیادہ خیال تھا کہ وہ جانتا ہے کہ ہم صحافی ہیں، اس لئے بل نہیں لے رہا، میرا کہنا تھا کہ بات کچھ اور لگتی ہے، میں کرسی سے اٹھا اور بیرے کو ایک جانب لے گیا،،، یار، تم بل کیوں نہیں لے رہے؟

 مالک نے کہا ہے کہ بل نہیں لینا، وہ کہتا ہے کہ یہ لوگ نہ آتے تو ہم نے اس وقت یہ بچے ہوئے نان چنے کتوں کو ہی ڈالنے تھے۔

 اللہ جانے گیلانی صاحب آئے کہاں سے تھے۔ تین بچے ،رنگوں کی چھوٹی چھوٹی درجنوں ڈبیاں اور چھوٹے سائز کے کینوس، یہ تھا ان کا کل اثاثہ۔ دھوبن ماجھاں کے گھرایک کمرہ کرائے پر لیا تھا انہوں نے،بے بے ماجھاں کا نصف کچا گھر تین کمروں پر مشتمل تھا، ایک میں سیکڑوں دھلے ان دھلے کپڑے رکھے جاتے، اسی کمرے اور اس سے ملحقہ برآمدے میں گھر کے سارے چھ سات افراد سوتے۔ ساتھ والا کمرہ ایک درزی کے پاس تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ گھر کے دروازے کے ساتھ تیسرا کمرہ مسکن بنا اس آرٹسٹ اور اس کی فیملی کا۔

گیلانی صاحب بلغم تھوکتے رہتے تھے، اس چھوٹے سے کمرے میں یہ چاروں زمین پر دری بچھا کر سوتے ، کھانا بھی وہیں بنتا۔ مصوری بھی ہوتی، پینٹنگز کی تیاری میں ان کے بچے بھی ہاتھ بٹاتے، ہر پینٹنگ کا موضوع عورت ہوتی، وہ عورت ہی کو کیوں فوکس کرتے؟ کم عمری کے باعث میں نہیں سمجھ سکتا تھا، گیلانی صاحب کے فن پارے سوکھنے کے لئے دھوبن کے گھر کے کچے صحن میں بکھرے نظر آتے ، بڑی بیٹی تھی، تیرہ چودہ سال کی ناہید ، رنگ سانولا ، نین نقش تیکھے، اس سے چھوٹا جنید تھا، اور پھر سات آٹھ برس کی مونا، جو باپ کی طرح ہی بیمار بیمار رہتی۔ ہر تیسرے چوتھے دن گیلانی صاحب پینٹنگز بغل میں دبائے گھر سے نکل جاتے۔

ایک دن گیلانی صاحب اپنی پینٹنگز بیچ کر آئے تو ان کے ہاتھوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے کئی پیکٹ تھے۔ مٹن بھی لائے تھے، اس روز یہ ساری فیملی بہت خوش تھی۔ گیلانی صاحب نے خود پکا کر بچوں کو گوشت کھلایا ، کون سخی مل گیا آج آپ کو؟ میرے سوال پر کہنے لگے، اداکارہ شبنم،،،، شبنم آپ کی جاننے والی ہے کیا؟ نہیں، میں گلبرگ میں اس کے گھر گیا تو اندر سے پوچھا گیا کہ کون ہو؟ کیوں ملنا ہے؟ میں نے کہہ کہ نعیم ہاشمی کا بھائی ہوں، آپ نے جھوٹ کیوں بولا؟ کاکا، میں تمہارا چاچا ہی ہوں، میں تو ناہید سے تمہاری شادی کا بھی سوچ رہا ہوں، میں نے آنکھیں جھکا لیں اور یہ سوچتا ہوا واپس چلا آیا کہ یہ چاچا آرٹسٹ ہے یا نوسرباز۔

پھر گیلانی صاحب پیر غازی روڈ سے دھوبن کا گھر چھوڑ کر اچھرہ مین بازار کی ایک گلی میں جا بسے۔ یہ ایک مکمل گھر تھا جہاں اور کوئی نہیں رہتا تھا۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے اسی محلے کی ایک بڑھیا سے شادی کر لی، تین ماہ بعد وہ اس بڑھیا کو طلاق دے کر کہیں اور چلے گئے۔ ایک سال بعد پتہ چلا کہ گیلانی صاحب نیو سمن آباد کی ایک بہت بڑی کوٹھی میں رہ رہے ہیں۔ ایک دن ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں پہنچا۔ نقشہ ہی بدلا ہوا تھا گیلانی فیملی کا، دیکھتا ہوں کہ مہمان خانے میں بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں بیٹھی ہیں، ایک کاؤنٹر بھی بنا ہوا ہے جہاں ناہید آنے والیوں کا خیر مقدم کر رہی تھی، باورچی خانے میں ملازمین کھانے پکا رہے تھے۔ پتہ چلا کہ گیلانی صاحب نے فلم پروڈکشن شروع کر دی ہے اور یہ لڑکیاں ،، آڈیشن ،،دینے آ رہی ہیں، ایک کمرے میں گیلانی صاحب انٹرویوز لے رہے تھے،مجھے یہ سب اچھا نہ لگا۔

اس واقعہ کے پندرہ بیس سال بعد گیلانی صاحب کی بڑی بیٹی ناہید ملی، بہت موٹی اور بھدی ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ اس کا بیمار شوہر تھا، مرض مہلک تھا، مگر ناہید اپنی پینٹنگز بیچ کر اس کا علاج کرانا چاہتی تھی۔ آرٹ کونسل میں اس کے فن پاروں کی نمائش بھی ہوئی، شوہر کی موت کے بعد اس کا فون آیا ،، وہ کہہ رہی تھی، سسرال والے بہت مذہبی ہیں، شوہر کی موت کے بعد اسے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں اور اس نے یہ پابندی قبول کر لی ہے۔ ناہید نے اپنے بھائی جنید اور بیمار مونا کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •