عراق میں نکاحِ متعہ: ’کتنی بار شادی ہوئی اب صحیح تعداد بھی یاد نہیں‘
عراق میں بغیر شادی کے کنوار پن کا خاتمہ خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ عراق میں لوگ اسے خاندان کی عزت پر لگا دھبہ مانتے ہیں۔
مونا کی عمر 14 برس تھی جب ان کا نکاحِ متعہ ایک ایسے شخص سے ہوا جو سکول سے واپسی پر ان کا پیچھا کرتا تھا۔
اب وہ 17 برس کی ہیں اور خاندان والے چاہتے ہیں کہ ان کی شادی ہو جائے لیکن وہ خوفزدہ ہیں کہ ان کے مستقل شوہر کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کنواری نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے چچا نے اپنی بیٹی کو اس لیے قتل کر دیا تھا کہ اس کی ایک لڑکے سے دوستی تھی۔ مونا کا کہنا ہے کہ وہ خودکشی کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہیں۔
’میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ اگر مجھ پر زیادہ دباؤ آیا تو میں یہ کر گزروں گی۔ ‘
بی بی سی سے اس بات چیت کے بعد مونا اپنا گھر چھوڑ کر جا چکی ہیں۔
لیکن یہ صرف کم عمر لڑکیاں ہی نہیں جو نکاحِ متعہ کی وجہ سے استحصال کے خطرے کا شکار ہیں۔ رعنا کی عمر اب 20 برس سے زیادہ ہے۔ پانچ برس قبل داعش کے جنگجوؤں کے حملے کے بعد گھر سے بھاگ کر بغداد آنے کی وجہ سے ان کے شوہر نے انھیں طلاق دے دی تھی۔
بغداد میں ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی اور اس کی جانب سے شادی کی پیشکش پر وہ خوش تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مستقل شادی ہے۔ انھوں نے شادی کا معاہدہ پڑھنے کی تکلیف ہی نہیں کی کیونکہ انھیں اپنے شوہر پر اعتماد تھا۔
عراق میں بغیر شادی کے کنوار پن کا خاتمہ خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ عراق میں لوگ اسے خاندان کی عزت پر لگا دھبہ مانتے ہیں
اگر وہ ایسا کر بھی لیتیں تو شاید جان نہ پاتیں کہ یہ نکاحِ متعہ ہے کیونکہ نکاح نامے میں کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ نکاح خواں بریکٹ میں صرف لفظ متعہ لکھ دیتا ہے۔
رعنا بتاتی ہیں ’وہ میری زندگی کے تین سب سے پرمسرت دن تھے۔ جب آپ ٹوٹے ہوئے ہوں اور کوئی آپ کو امید دلا دے تو وہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ ‘
مگر پھر ایک دن ان کے شوہر شاپنگ پر انھیں ساتھ لے گئے اور پھر غائب ہو گئے۔
جب رعنا کے خاندان کو علم ہوا کہ ان کا نکاح عارضی تھا، تو انھوں نے رعنا کو چھوڑ دیا کیونکہ معاشرے میں ایسے نکاح کو قبول نہیں کیا جاتا۔
وہ کہتی ہیں ’جب آپ کی شادی ہوتی ہے تو آپ کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ وہ آپ کا شوہر ہے۔ آپ کو بہتر مستقبل کا یقین آ جاتا ہے لیکن پھر یہ سب جھوٹ نکلا۔ ہمارے لیے مولوی بہت خاص ہوتے ہیں لیکن پھر آپ کو علم ہوتا ہے کہ عمامہ پہنا ہوا یہ شخص دھوکے باز ہے۔ ‘
کچھ مولوی نکاحِ متعہ کو بیواؤں اور مطلقہ خواتین کے لیے آمدن کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین کو بھی اپنی جنسی خواہشات کے حصول کے لیے مذہب میں جائز طریقہ چاہتی ہیں۔
تاہم روسل یہ ماننے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ممکن ہے کہ کچھ کی خواہش ہو لیکن میں نہیں سمجھتی کہ بیشتر لوگ اس راہ پر چلنا چاہیں گے۔ کوئی نوعمر لڑکی یہ کیوں کرنا چاہے گی۔ ‘
آیت اللہ سیستانی کے دفتر نے بی بی سی کو بتایا کہ جس استحصال کا مشاہدہ کیا گیا ہے اس کی وجہ حکام کی جانب سے قوانین کے نفاذ میں ناکامی ہے۔
عراقی حکومت کے ایک ترجمان نے اس پر کہا کہ ’اگر خواتین مولویوں کے خلاف پولیس میں شکایت ہی نہیں لے جائیں گی تو حکام کے لیے کوئی قدم اٹھانا بہت مشکل ہے۔ ‘
لیکن مونا جیسی لڑکیوں کا، جو نہیں چاہتیں کہ ان کے خاندان کو ان کے نکاحِ متعہ کا علم ہو، پولیس کے پاس جانا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
اس بارے میں کوئی اعدادوشمار موجود نہیں کہ عراق میں کتنے نکاحِ متعہ ہوئے لیکن اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ 2003 میں عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد ان میں اضافہ ہوا۔
روسل کی کہانی کی تمام تفصیلات کی تصدیق ممکن نہیں لیکن ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان کی کہانی کے کئی جزو ایسی دیگر لڑکیوں کی کہانی سے متماثل ہیں جو مولویوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوئیں۔
روسل آج بھی اس دن کو یاد کر کے پچھتاتی ہیں جب انھوں نے اس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ ’کوئی بھی لڑکی جب یہ شروع کرتی ہے تو سمجھیں اس کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ ‘
عراق میں نکاحِ متعہ کے برعکس شرعی طریقے سے ہونے والی مستقل شادیاں بھی اس صورت میں لڑکیوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں اگر ان کی سرکاری طور پر تصدیق نہ کروائی جائے۔
بغداد کی صدر سٹی عدالت میں جوڑے اپنی شادی کی عدالتی تصدیق کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ وہیں بی بی سی کو حنین ملیں جن کی عمر 13 برس تھی۔ ایک مولوی نے چھ ماہ قبل ان کا نکاح پڑھایا تھا اور اب وہ حاملہ ہیں۔
کمسن لڑکی کی شادی کرنے پر حنین کے والد اور ان سے شادی کرنے پر ان کے شوہر کو دو برس قید ہو سکتی تھی لیکن عدالت نے انھیں صرف 50 ڈالر کے مساوی جرمانہ کیا۔
اس معاملے میں جج اپنے فیصلے کا دفاع کرتے نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کم عمری میں شادی بعض اوقات ان کمسنوں کے لیے مفید ہوتی ہے۔ وہ اس پر رضامند تھی اور یہ چاہتی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ شادی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ ‘
اس جج کے سامنے شادی کروانے والوں کی ایک طویل قطار تھی۔ ان میں سمیع عقیبی بھی تھے جو اپنی 14 سالہ بیٹی کی شادی کروانے آئے تھے۔
ان کا کہنا تھا ’ہمارے نوجوان 18 سالہ لڑکیوں میں بھی دلچسپی نہیں لے رہے۔ انھیں 13، 14، 15 سال کی لڑکیوں کی تلاش ہے۔ ‘
اس عدالت کے عملے کے مطابق گذشتہ چھ ہفتے میں 126 کم عمر لڑکیوں کی شادیاں ہوئی ہیں۔
عملے کی رکن اور سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ ’ان میں سے زیادہ تر طلاق پر منتج ہوں گی۔ چار پانچ ہی کامیاب ہو سکیں گی۔ اس کم عمری میں جوڑے ذمہ داریاں سنبھالنے کے لائق نہیں ہوتے۔ ‘
یعنار محمد کا کہنا ہے کہ عراقی معاشرے میں مطلقہ لڑکی کا بھی کوئی مستقبل نہیں۔ ’ایسی لڑکی یا خاتون کو ان کا خاندان بھی رد کر دیتا ہے۔ آپ کا کوئی مستقبل نہیں۔ آپ ایک داغدار فرد ہیں۔ ‘
روسل جب اپنی بہن کا ذکر کرتی ہیں تو ان کا چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ رولہ ابھی تک اس راہ پر نہیں چلیں جس پر روسل کو چلنا پڑا اور وہ اپنی زندگی کو مختلف بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
روسل کہتی ہیں ’مجھے ہمہ وقت اس کا خیال رہتا ہے۔ میں اسے بچانے کے لیے کوشاں ہوں۔ میرے خیال میں وہ اچھی رہے گی۔ وہی مجھے اس زندگی سے بچائے گی۔ ‘
اس مضمون میں کچھ نام شناخت چھپانے کے لیے تبدیل کر دیے گئے ہیں۔



