عراق میں نکاحِ متعہ: ’کتنی بار شادی ہوئی اب صحیح تعداد بھی یاد نہیں‘

نوال المغافی - بی بی سی عربی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روسل کی جب آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں تنہا تھیں۔ انھوں نے اپنے شوہر کو جاتے نہیں دیکھا۔ ان کی شادی کا دورانیہ کل تین گھنٹے تھا۔

یہ اس لڑکی کی پہلی شادی نہیں تھی بلکہ دوسری، تیسری یا چوتھی بھی نہیں۔ درحقیقت ان کی اتنی شادیاں ہو چکی ہیں کہ انھیں اس کی صحیح تعداد بھی یاد نہیں۔

روسل کا یہ خوفناک طرزِ زندگی ان کے دفتر میں پیش آنے والے ایک واقعے سے شروع ہوا۔

وہ وہاں شوخ میک اپ کیے چست کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں کو آتا اور انتظار کرتا دیکھتیں۔ پھر ادھیڑ عمر افراد آتے اور انھیں ساتھ لے جاتے۔

وہ کہتی ہیں ’وہ اتنی نوجوان اور خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ میں سمجھ نہیں سکتی کہ کوئی بھی لڑکی خود کو ایسے کس طرح بیچ سکتی ہے۔ ‘

روسل اس وقت اپنے خاندان سے الگ تھلگ تھیں اور اپنی بہن رولہ کا خرچ بھی اٹھا رہی تھیں۔ لیکن ان مشکل حالات کے باوجود انھوں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی بقا کے لیے کسی مرد پر انحصار نہیں کریں گی۔

جب کبھی مرد اپنا نمبر کاغذ کے پرزوں پر لکھ کر ان کے حوالے کرنے کی کوشش کرتے تو وہ انھیں نظرانداز کر دیتیں۔

ایک دن ایک شخص ان کے دفتر آیا اور روسل سے بات چیت شروع کر دی۔ ان دونوں نے ان کے ماضی کے بارے میں بات کی اور یہ کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتی ہیں، ملازمت کیوں کر رہی ہیں، تعلیم حاصل کیوں نہیں کر رہیں۔ روسل کو یہ احساس ہوا کہ کوئی ان کے بارے میں فکرمند ہے۔

روسل کے لیے زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔ بغداد میں اتنی کم تنخواہ پر گزارہ کرنا بہت مشکل تھا۔

خودمختار رہنے کے عہد کے باوجود روسل اب ایک شوہر کا خواب دیکھنے لگیں۔ ایک ایسا فرد جو ان کا خیال رکھے۔

وہ شخص روزانہ ان کے دفتر آنے لگا اور ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہا۔ آہستہ آہستہ روسل اس کی جانب مائل ہوتی گئیں۔

چند ہفتوں بعد اس شخص نے انھیں شادی کی پیشکش کر دی۔ وہ انھیں بغداد کے علاقے کاظمین لے گیا۔ جب وہ شادی دفتر میں داخل ہوئے تو روسل بہت پرجوش تھیں۔

شادی کی تقریب بہت مختصر تھی۔ مولوی نے چند صیغے پڑھے اور روسل سے دریافت کیا کہ کیا انھیں 250 ڈالر کے مساوی رقم بطور مہر قبول ہے اور پھر انھیں ایک معاہدہ دیا گیا۔ روسل اسے پڑھ نہیں پائیں لیکن اگر وہ ایسا کر بھی لیتیں تو شاید اس میں کوئی خامی تلاش نہ کر پاتیں۔

نکاح کے چند منٹ بعد ان کا شوہر انھیں قریب ہی ایک فلیٹ میں لے گیا تاکہ ان سے جنسی تعلق قائم کر سکے۔ روسل اگرچہ کچھ نروس تھیں لیکن اپنے اور اپنی بہن کے لیے ایک مناسب گھر کا خیال ان کے ذہن میں موجود تھا۔

وہ اپنے شوہر کے پیچھے پیچھے خواب گاہ میں چلی گئیں اور دروازہ بند کرتے ہوئے یہ دعا کی کہ یہ شخص ان کا خیال رکھے اور دونوں ساتھ طویل زندگی گزاریں۔

اس شادی کے ابتدائی چند دن روسل کے لیے واقعی کسی پریوں کی کہانی جیسے ہی ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا ہے ’مجھے لگتا تھا کہ میرے کندھوں سے ایک بھاری بوجھ سرک گیا ہے۔ آخر وہ وقت آ گیا تھا جب ہر چیز کی فراہمی میری ذمہ داری نہیں تھی۔ ‘

لیکن پھر چند ہفتوں بعد ان کا شوہر غائب ہو گیا۔

روسل نہیں جانتی تھیں کہ ان کی شادی ختم ہو چکی ہے بلکہ اس کے خاتمے کی تاریخ کا تعین اس کی ابتدا سے قبل ہی ہو گیا تھا۔ روسل اور اس شخص کے درمیان ’متعہ‘ ہوا تھا۔

کاظمین میں مقدس مزار کے اردگرد کے علاقے میں شادی دفتر عام ہیں

متعہ کیا ہے؟

نکاحِ متعہ ایک متنازع مذہبی عمل ہے جسے شیعہ مسلک میں وقتی شادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں خاتون کو شادی کے لیے رقم دی جاتی ہے۔ سنی اکثریتی ممالک میں نکاحِ المسیار میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صدیوں پہلے اس قسم کا نکاح عموماً تاجر اور مقاماتِ مقدسہ کا دور کرنے والے وہ مرد کرتے تھے جو اپنی بیویوں سے دور ہونے کی وجہ سے کسی ساتھی کے متلاشی ہوتے تھے۔

نکاحِ متعہ ایک معاہدے کی بنیاد پر ہوتا ہے جس میں شادی کی مدت اور عارضی بیگم کو اس کے عوض دی جانے والی رقم درج ہوتی ہے تاہم یہ معاہدہ زبانی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی مولوی کی جانب سے تصدیق ضروری نہیں تاہم عموماً مولوی اس عمل کے لیے موجود ہوتا ہے۔

اس کی مدت ایک گھنٹے سے لے کر 99 برس تک کچھ بھی ہو سکتی ہے اور شوہر پر خاتون کے نان نفقے کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ وہ جب چاہے اس شادی کو ختم بھی کر سکتا ہے۔

اس عمل کے بارے میں مسلم علما کی رائے منقسم ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ یہ جسم فروشی کو قانونی شکل دیتا ہے اور اس حوالے سے بھی بحث جاری ہے کہ یہ شادی کس قدر مختصر مدت کی ہو سکتی ہے۔

روسل جیسی لڑکیوں کے معاملے میں متعہ کا عمل بچوں سے جسم فروشی کو ممکن بناتا ہے۔ یہ شادیاں عراق کے عائلی قوانین کے تحت بھی نہیں آتیں۔ عراق کے فوجداری قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے غیرازدواجی تعلقات قائم کرتا ہے تو اگر لڑکی کی عمر 15 سے 18 برس کے درمیان ہے تو سات برس جبکہ لڑکی کے 15 برس سے کم عمر ہونے کی صورت میں اسے 10 برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

روسل نے اپنے شوہر کے غائب ہونے کے بعد اس مولوی سے ملاقات کا فیصلہ کیا جس نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ شخص بظاہر ان کی آمد کا منتظر دکھائی دیا۔

اس مولوی نے روسل کو مشورہ دیا کہ وہ نکاحِ متعہ کا عمل جاری رکھے اور مزید شادیاں کرے کیونکہ اس کی مشکلات کا خود اس کے پاس اور کوئی حل نہیں۔ اس مولوی نے روسل کی تصاویر بھی کھینچیں۔

روسل جانتی تھی کہ وہ اپنی تنخواہ کے بل بوتے پر گزارہ نہیں کر سکتیں اور تعلیم کی کمی کسی بہتر نوکری کی تلاش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ یہ حقیقت کہ وہ اب کنواری نہیں رہیں، ان کے لیے کسی مستقل شوہر کی تلاش میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

’چنانچہ وہ مولوی رابطہ کار بن گیا۔ وہ مجھے کام دیتا اور میرے پاس اس راستے پر چلنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ ‘

روسل نے یہ تو نہیں بتایا کہ انھیں کتنی آمدن ہوتی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ مولوی گاہک سے رقم لیتا ہے اور پھر انھیں ادائیگی کرتا ہے۔ روسل کے مطابق اب تک ان کے نکاحوں کی مدت چند گھنٹوں سے کئی ہفتوں پر مشتمل رہی ہے۔

’جب شیخ (مولوی) کال کر کے کہتا ہے کہ میں نے تمہارے لیے مناسب شخص تلاش کر لیا ہے تو میں نہ نہیں کر سکتی۔ ‘

روسل اب تک درجنوں مردوں کے ساتھ نکاحِ متعہ کے بعد ہم بستری کر چکی ہیں۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ خود انھیں بھی صحیح عدد یاد نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مولوی ہی انھیں مانع حمل انجکشن بھی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ حاملہ نہ ہو جائیں۔ ’یہ سلسلہ بہت پھیلا ہوا ہے۔ میرے جیسی بہت سی اور لڑکیاں بھی ہیں۔ ‘

کاظمین

کاظمین اسلام کے شیعہ مسلک کے پیروکاروں کے لیے مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں شیعوں کے ساتویں امام موسیٰ کاظم کے مزار پر حاضری کے لیے آتے ہیں۔

اس مراز کے اردگرد کے علاقے کی گلیاں ایسے دفاتر سے بھری ہوئی ہیں جہاں لوگ جج کے سامنے پیش ہو کر شادی کے سرٹیفیکیٹ کے حصول سے قبل اسلامی قانون یا شریعہ کے تحت شادی کروانے کے لیے آتے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر تو مستقل شادی کرتے ہیں لیکن کچھ نکاحِ متعہ کے خواہشمند بھی ہوتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10797 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp