سلطان محمود غزنوی اور مسلم مورخین ہند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلمانوں کی تاریخ فاتحوں اور لشکر کشاوں کے باب میں ہرگز تہی مایہ نہیں لیکن جس قدر تعریف و توصیف سلطان محمود غزنوی پر نچھاور کی گئی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ اس کا مقام و مرتبہ بیان کرنے میں حد درجہ مبالغہ روا رکھا گیا ہے۔ جوزجانی نے سلطان محمود کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے جس رات محمود کی ولادت ہوئی اس رات ویہنڈ ( جو دریائے سندھ کے کنارے پر حدود پشاور میں تھا) کا بت خانہ گر پڑا۔ ۔ اس کا طالع ملت اسلام کے طالع کے عین موافق تھا۔ (طبقات ناصری، ص 411 ) اس کو پڑھنے کے بعد ذہن میں خود بخود میلاد ناموں کی روایات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مورخ قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ پیغمبر اسلام اور محمود کا طالع ایک ہی تھا۔ حکیم سنائی نے محمود کو اس اندازمیں خراج تحسین پیش کیا ہے :

ایں ز کعبہ بتاں بروں انداخت

آں ز بت سومنات را پرداخت

کعبہ و سومنات چوں افلاک

شد ز محمود و ز محمد پاک

(جامی کے ان اشعار کے لیے محبی ڈاکٹر محمد خورشید عبداللہ کا شکرگزار ہوں )

فرید الدین عطار نے اپنی مشہور زمانہ مثنوی منطق الطیر میں چودہ حکایتیں سلطان محمود کے حوالے سے بیان کی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ سلطان شہاب الدین غوری، جو صحیح معنوں میں ہندوستان میں مسلم مملکت کی بنیار رکھنے والا ہے، کسی ایک حکایت کا بھی موضوع نہ بن سکا۔

محمود کو اس قدر مقام بلند پر فائز کیے جانے کی کچھ وجوہ ہیں۔ لیکن ان کا جائزہ لینے سے پیشتر مسلم تاریخ کے ایک اہم پہلو کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔

مسلمانوں کی تاریخ یہی ہے کہ ابتدا ہی سے ان کے عساکر کے قدم بڑھتے چلے جاتے تھے۔ اسلامی فکر کے روایتی کلاسیکی موقف کی رو سے مسلمانوں پر یہ فریضہ عاید کیا گیا ہے کہ وہ تمام دنیا میں توحید کا پیغام پہنچائیں۔ اس لیے جہاد ایک اہم رکن اسلام ہے۔ اس نظریے کو ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

 ”ارباب دین میں جہاد ایک مقدس دینی فریضہ سمجھا جاتا تھا اور اسلام میں اس کی اہمیت ڈھکی چھپی نہ تھی کیونکہ مسلمان بدل و جان چاہتے تھے کہ اسلام دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیل جائے اور دنیا کا گوشہ گوشہ حلقہ بگوش اسلام ہو جائے اور لوگ خوشی سے مسلمان ہوں یا مسلمانوں کے ماتحت ہو کر رہیں۔ اسلام میں حکم ہے کہ مسلمان توحید کی آواز ہر کان تک پہنچا دیں خواہ کوئی مسلمان ہو یا نہ ہو مگر جزیہ دینا قبول کر لے۔ “

ابتدائی دور کے جوش و جذبہ کا تادیر برقرار رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ چنانچہ خالد یحییٰ بلینکن شپ نے اپنی کتاب ( Hisham and the End of Jihad State) میں بیان کیا ہے کہ ہشام بن عبدالملک کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی جہادی ریاست کا خاتمہ بھی ہو گیا تھا۔ آج ہم جس عالم اسلام سے واقف ہیں وہ زیادہ تر انہی علاقوں پر مشتمل ہے جو اس عہد میں فتح ہوئے تھے۔ عباسی عہد میں کوئی خاص نئے علاقے مملکت اسلامیہ کا حصہ نہیں بنے بلکہ مسلمان زیادہ تر باہمی جنگ و جدل میں ہی مبتلا رہے ہیں۔

ان جہادی حملوں اور محمود غزنوی کی مہمات میں ایک واضح فرق موجود ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ابتدائی عہد میں مسلمانوں نے جو یلغاریں کی تھیں ان کا مقصد علاقوں پر مستقل قبضہ قائم کرنا اور انہیں مسلم مملکت کا حصہ بنانا تھا۔ مال غنیمت کا حصول اس کا نتیجہ تھا، بجائے خود کوئی مقصد نہیں تھا۔ تیسرا مقصد ہوتا تھا لونڈیاں اور غلام حاصل کرنا۔

اس کے برعکس ہندوستان پر سلطان محمود کے ہند پر حملوں میں پہلا مقصد مفقود ہے۔ اس کا مقصد محض لوٹ مار دکھائی دیتا ہے، مستقل قیام کا اس کا کبھی ارادہ نہ تھا۔ دوسری بات جو زیادہ قابل غور ہے وہ اس کا مندروں پر حملہ آور ہونا ہے جس کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کوئی جواز فراہم کرنا مشکل ہے کیونکہ مسلمانوں نے جن علاقوں پر بھی قبضہ کیا تھا وہاں کی آبادی کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا تھا۔

غیر مسلموں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے حضرت عمر ؓ کا بیت المقدس کے نصرانیوں سے معاہدہ ایک مثالی نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کی عبارت میں بہت سے اختلافات ہیں لیکن اس شق پر شاید کوئی اختلاف نہ ہو:

 ”یہ امان ان کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار، اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے۔ اس طرح پر کہ ان کے گرجاوں میں نہ سکونت کی جائے گی، نہ وہ ڈھائے جائیں گے اورنہ ان کے احاطہ کو کچھ نقصان پہنچایا جائے گا، نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی، مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ (شبلی نعمانی۔ الفاروق۔ باب ذمی رعایا کے حقوق)

اس کے برعکس اگر محمود کے ہند پر حملوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ زیادہ تر مندروں پر کیے گئے ہیں۔ سبھی مسلمان مورخین بڑے فخر سے، متھرا، کالنجر، گوالیار، بھیم نگر، تھانیسر، قنوج کے بت خانوں پر حملوں، بتوں کو توڑ ڈالنے اور بت خانوں کو جلا دینے کا ذکر کرتے ہیں۔ متھرا کو بدایونی نے کفر کی کان کہا ہے۔ ان سب بت خانوں سے بے تحاشا مال و دولت ملنے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔

سومنات کے بت کی حقیقت

ان سب حملوں کے باوجود حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ سومنات پر حملہ اتنی زیادہ اہمیت کیوں اختیار کر گیا ہے۔ بلاشبہ ایک فوجی مہم کے طور پر وہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اتنی بڑی فوج کا تین صحرا پار کرکے اتنی دور جا کر حملہ کرنا اور صحیح سلامت لوٹ آنا یقینا ایک مہتم بالشان واقعہ ہے لیکن دوسری مہمات بھی اتنی آسان نہ تھیں۔ قنوج پر حملہ کرنے کے لیے بدایونی کے بقول سات خوفناک دریاوں کو عبور کرنا پڑا تھا۔

اس حملے کی اہمیت کا ایک بڑا سبب تو شاید وہی ہے کہ بہت سے مورخین نے سومنات میں پائے جانے والے بت کو خانہ کعبہ میں موجود بت منات سے تشبیہ دے ڈالی۔ اس مماثلت کو سب سے پہلے محمود کے درباری شاعر فرخی نے بیان کیا تھا اس کے بعد یہ مقبول عام قصہ بن گیا۔

فرخی کا دعویٰ ہے کہ وہ سومنات پر حملے کے وقت وہاں موجود تھا لیکن معلوم ہوتا ہے یا تو اسے مندر تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی تھی یا ہندووں کے متعلق معلومات نہ ہونے کی بنا پر وہ درست نتیجہ اخذ نہ کر سکا۔ البیرونی کے بیان کو رومیلا تھاپر نے بھی سب سے زیادہ متین قرار دیا ہے۔ البیرونی تاریخ نہیں لکھ رہا تھا۔ وہ تو ہندووں کے علوم حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھا۔ محمود کے حملے کا تو بس ضنمناً ذکر آ گیا ہے اس کی کتاب میں۔ وہ لکھتا ہے :

 ”سومنات کا پتھر[مہا دیو] کا لنگ ہے۔ سوم کے معنی ماہتاب اور نات [ناتھ] کے معنی صاحب (یعنی آقا) کے ہیں یعنی ماہتاب کا آقا۔ سلطان محمود نے 416 ہ میں اس پتھر کو اکھڑوا دیا اور اوپر کے حصے کو توڑ کر مع اس کے سونے کے جڑاؤ ¿ اور چمکیلے غلاف کے اپنے دارالسلطنت لے گئے۔ اس کا ایک جزو غزنی کے میدان میں، چکر سوام، مع پیتل کے ایک بت کے جو تھانیسر سے لایا گیا تھا پڑا ہے اورایک جز وہاں کی جامع مسجد کے دروازے پر ہے جس پر پاؤں کی مٹی اور نمی پونچھی جاتی ہے۔ (جلد دوم۔ ص 270۔ 71 )

البیرونی کی بات کو درست مانے سوا کوئی چارہ نہیں کہ سومناتھ کا پتھر مہادیو شیو کا لنگ تھا۔ فرخی اور دیگر مسلمان مورخین اور شعرا کو اس بات کا بخوبی علم تھاکہ لات، منات اور عزیٰ دیویاں تھیں۔ حیرت ہے کہ مہادیو شیو کے لنگ اور دیوی میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیا ان لوگوں کو۔ چنانچہ شناخت کی اس غلطی سے یہ نتیجہ نکالنا غلط نہ ہو گا کہ البیرونی کے سوا کسی مسلمان کو بھی سومنات کے مندر اور اس میں پائے جانے والے بت کی حقیقت کے متعلق کچھ علم نہیں تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •