شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ کا دو سال قبل تخلیق شدہ مجسمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دور تھا، جب مجسمہ سازی کو دنیا کے باقی خطّوں کی طرح دُنیا کے یہاں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اور قیامِ پاکستان سے قبل موجودہ پاکستان کی جغرافیائی حدُود میں آنے والے کئی شہروں کے چوراہوں پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو خراج پیش کرنے کے لئے مُختلف خوبصورت مجسمّے نصب ہوا کرتے تھے، جو فنِ مجسمہ سازی کی اعلیٰ مثال اور یہاں کے مصوّروں کی فنّی قامت کا منہ بولتا ثبوت ہوا کرتے تھے۔

پھر ایسی فضا چل پڑی کہ نسلوں کے دماغوں میں زبردستی یہ بات ڈال دی گئی کہ نہ صرف مجسمہ گرِی گناہ ہے، بلکہ اُس کو دیکھنا، اُس کی تعریف کرنا یا اُس کی پسندیدگی بھی روا نہیں ہے۔ پھر 1947 ء کے فوراً بعد قصداً ایسے کئی مجسمّوں کو سنگ و خِشت سے مسمار کردیا گیا۔ بھلا ہو! شکار پور کے کسی فن کے دلدادہ صاحب کا، جنہوں نے رائے بہادر اُدھوداس تاراچند کے قائم شدہ اسپتال کے باہر نصب اُنہی کے مجسمّے کے ساتھ ایسا حشر ہونے سے پہلے اُسے کہیں چھپا کرمحفوظ کرلیا، جو بعد ازاں جام شورو میں قائم انسٹیٹیُوٹ آف سندھ الاجی کو عطیہ کر دیا گیا، جو آج بھی وہیں دیکھنے والوں کے لئے مشاہیر نمایش گیلری میں صحیح سلامت موجود ہے۔

اس کے علاوہ سندھ الاجی میں، امر گلوکار اور سَنت، بھگت کنور رام کا مجسمہ بھی موجود ہے، جو بھارت کے کسی مجسمہ ساز کی تخلیق ہے۔ فطرتاً انسان بت پرست نہ سہی، ”بت پسند“ تو ہے ہی۔ اُسے رُوح کے حسن سے زیادہ، ظاہری بدنی بناوت بھاتی ہے اور یہ فطرت کا تقاضا ہے، جس سے انکار کرنا بے وقوفی ہے۔ جو مجسّم کی طلب سے پار ہوا، وہ ’ولی‘ یا ’سادھو‘ کہلایا، اور ولی ہرکوئی نہیں ہوا کرتا۔ ہم نے جس (انسان یا مادّی تخلیق) کو نہیں دیکھا ہوتا، اُس کے مجسم کو دیکھنے کی بے چینی کی حد تک خواہش اور تجسّس کم و بیش ہردل میں موجود ہوتا ہے۔

اسی تجسس کی بنا پر مصوّروں نے ایسی مختلف شخصیات (جو کیمرے کی ایجاد سے پہلے گزر چکیں) کے حالاتِ زندگی پڑھ کر اُن کی خیالی تصویریں اور مجسّمے بنائے اور صرف یہی نہیں ہوا کہ مائکل اینجلو نے حضرت داؤد علیہ السلام کا مجسّمہ بنایا، بلکہ آدم سے عیسیٰ اور گوتم بدھ، سکندر یونانی سے کنفیوشس، چنگیز سے ہلاکو، ابنِ بَطوطہ سے مارکوپولو، سقراط سے بوعلی سینا اورارسطو سے البیرونی تک، مختلف شخصیات کو دنیا نے اُن کے خیالی پورٹریٹس اور مجسموں کی صورت میں دیکھا اور پہچانا۔

خود ہماری پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب، سندھُو وادی تہذیب (انڈس ویلی سِولائیزیشن) سمیت دنیا کی چاروں قدیم تہذیبوں کے رازوں کے پردے، ان تہذیبوں کے مختلف آثارِ قدیمہ سے ملنے والے مُجسموں اور کھلونوں سے اُٹھے۔ کھلونے بذاتِ خود مُجسمے ہی تو ہیں! جن سے بچّے اپنی عمر کا ایک بڑا حصّہ اپنا دل بہلاتے ہیں۔ بچیّوں کا مرغُوب ترین کھلونا ’گُڑیا‘ بھی مُجسّمے ہی کی بہترین مثال ہے۔ مشرق سے لے کر مغرب تک لگ بھگ ہر مُلک میں اپنے صدیوں پہلے گُزرے ہُوئے مشاہیر کو اُن کے مُجسمے بنا کر، نصب کرکے، خراج پیش کرنے کی صحت مند روایت سے تو ہم سب واقف ہیں۔ اور اب بدلتے ہوئے دور کے اتوار اور شعوری سطح بلند ہونے (جو کہ اب بھی مطمئن کُن حد تک نہیں ہے) کے پیشِ نظر ہم میں مجسمہ سازی کی بحیثیت فن، حیثیت کی قبولیت رفتہ رفتہ واپس آ رہی ہے۔

دو برس قبل، سندھ کے جواں عمر مُجسمہ ساز، نادر علی جمالی نے سندھی زبان کے عظیم صُوفی شاعر، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا مُجسمہ تخلیق کیا ہے، جسے شاہ لطیف کی نگری ’بھٹ شاہ‘ (ضلع مٹیاری۔ سندھ) میں بنیادی طور پر، ریسٹ ہاؤس اور ’شاہ جو باغ‘ سے بھٹ شاہ ثقافتی مرکز جانے والے راستے والے چوراہے پر نصب کیا گیا تھا، جو اس کی عارضی جگہ تھی، مگر پچھلے برس، عُرس مبارک ہی کے موقع پر اس مجسّمے کو ”کراڑ جھیل“ (جو روایت کے مطابق وہ جھیل ہے، جس کے کنارے شاہ لطیف پہروں بیٹھ کر عبادتِ الٰہی اور سخن گوئی میں مصروف رہا کرتے تھے) کے عین وسط میں نصب کیا گیا ہے، جہاں تک جانے کے لیے جھیل کے کنارے سے ریلنگ کے ساتھ ایک راہداری بنائی گئی ہے، جس پر چل کر زائرین اس مجسمے تک پہنچتے ہیں اور اس کے ساتھ یادگار تصویریں بنواتے ہیں۔ رات کے وقت برقی روشنیوں کے اجالے میں جھیل کے ساتھ ساتھ اس مجسمے کا حُسن بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

اس مُجسمے کا افتتاح دو برس قبل، 4 نومبر 2017 ء، 14 صفرالمُظفر 1438 ہجری کو، مُنعقد ہونے والے شاہ سائیں کے 274 ویں سالانہ عرس مُبارک کے موقع پر صُوبائی وزیرِثقافت، سیّد سردار علی شاہ نے کیا تھا۔ اس مُجسمے کو تخلیق کروانے کا بُنیادی تصوّر اور اس حوالے سے بُنیادی کوششیں لینے کا سہرہ بھی، سردار شاہ ہی کے سَر ہے۔

سندھ کی علمی، ادبی اور فنّی حوالے سے زرخیز سرزمین لاڑکانہ سے متعلق، نادر علی جمالی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی باکمال مُجسمے تخلیق کرچُکے ہیں۔ کچھ برس قبل سندھ یُونیورسٹی جامشورو کی مرکزی لائبرری کے سامنے مطالعے میں مصروف بچّے کا خوبصورت مُجسمہ، جس کا نام ’مُجسمہء آگہی‘ (سٹیچو آف وِزڈم) رکھا گیا ہے، نادر جمالی ہی کی تخلیق ہے۔ جو، یونیورسٹی آنے والے ہر خاص و عام کی توجّہ کا مرکز ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں کیڈٹ کالج پٹارو کے لیے ان کا بنایا گیا مجسمہ بھی قابلِ دید اور قابلِ داد ہے، جس میں چند کیڈٹس مطالعے میں مصروف دکھائے گئے ہیں۔

اس مجسّمے کو بھی چند ماہ قبل کالج میں نصب کر کے اس کا افتتاح کرایا گیا ہے۔ گوکہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے پورٹریٹ اور مُجسمّے اس سے پہلے بھی بن چُکے ہیں، اور یہ انتہائی مثبت امر ہوتا ہے کہ کسی بھی عالم گیر شخصیت کو دنیا کے مُختلف خطّوں کے آرٹسٹ اپنے اپنے زاویہء فکر سے تخلیق کریں۔ اس کی سب سے بڑی دومثالیں ’سکندر‘ (الیگزینڈر) اور ’بُدھا‘ ہیں، جن کی متعدد مُتفرق تصاویر اور مُجسمے دُنیا بھر میں بن چُکے ہیں اور بنائے جا رہے ہیں۔

شاہ لطیفؒ کے اس سے پہلے تخلیق ہونے والے پورٹریٹس میں اب تک سب سے زیادہ مقبُول مُحمّد علی بھٹی کا، کینوس پر آئل کلر کے ساتھ بنایا ہوا پورٹریٹ ہے، جو اصل پینٹنگ، سندھ الاجی میں موجُود ہے، جس میں شاہ صاحب ؒ کسی درخت کے نیچے کسی فکر میں گُم دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، بدرابڑو نے چھوٹے سائز میں شاہ لطیفؒ کا مُجسمہ تخلیق کیا ہے، جس میں اُن کو دُور اُفق میں گھُورتے ہوئے، کسی فکری پرواز میں محو دکھایا گیا ہے۔

یہ اصل مُجسمہ، اس وقت لاڑکانہ آرٹس کونسل کی آرٹ گیلری میں موجُود ہے۔ بدر ابڑو صاحب کے اس مجسمے کا تسلسل، سندھ کے ایک اور مایہء ناز مجسّمہ ساز (جن کے لیے حال ہی میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی کا اعلان ہوا ہے) ، ٹنڈو الہیار کے ”فقیرو“ نے ابھی چند ایک ماہ قبل تخلیق کیا ہے، جو بدر ابڑو کے تخلیق شدہ مجسّمے سے سائز میں کچھ بڑا ہے۔ اس کے علاوہ بھی شاہ لطیفؒ کے اس سے قبل چار پانچ اور کمرشل نان کمرشل آرٹسٹوں کی جانب سے بنائے گئے پورٹریٹس دستیاب ہیں، جن میں سے کچھ بھارتی مصوّروں کی کاوشیں بھی ہیں۔

نادر جمالی کے تخلیق شدہ اس زیرِ تذکرہ مُجسمے کی قامت 17 فٹ ہے، جو فائبر گلاس سے بنا ہے، جس کو کئی برسوں کی عمر پر مُحیط سمجھا جاتا ہے، جس پر موسمی اثرات اثرانداز نہیں ہوتے۔ مُصوّر کا خیال، جو اُن کے اِس مُجسمے میں اُبھر کر سامنے آتا ہے، وہ شاہ سائیں ؒ کے پہلے والے تخلیق شُدہ تمام تصوّرات سے الگ ہے، جسے دیکھ کر یہ گمان نہیں ہوتا، کہ مُصوّر، پہلے سے موجود پورٹریٹس میں دیے گئے تصوّرات میں سے کسی سے مُتاثر ہیں۔

اُنہوں نے شاہ لطیف کو اپنے تصوّر میں جس طرح دیکھا اور محسُوس کیا، اُس کے تحت اُن کو کسی یاد میں مُستغرق، گردن جُھکائے، اپنا ہی ایجاد کیا ہُوا ساز ’دنبورہ‘ تھامے دکھایا ہے۔ اُسی تصوّر کے تحت مصوّر نے اُن کی پیشانی اور چہرے کی بناوت کُشادہ بنائی ہے اور اُن کے لبوں پر انتہائی ہلکی مُسکراہٹ سجائی ہے۔ وہ شاہ لطیفؒ کو اپنی شاعری کے آئینے میں اقتصادیات اور ملکی خواہ عالمی سیاسی اور سماجی معاملات پر گہری نگاہ رکھنے والا فلسفی شاعرسمجھتے ہوئے اُنہیں، پریشانی سے کوسوں دُور، امید اور ہمت افزائی کا مُجسّم سمجھتے ہوئے اُن کا اطمینان سے بھرپُور تاثر بنانے میں کامیاب رہے ہیں، جو سب کے لیے اُمید کا باعث نظر آئے۔

ساتھ ساتھ وہ ان کے چہرے کو مقامی خدّ وخال کے ساتھ تخلیق کرنے کی شعُوری کوشش میں بھی کُلی طور پر کامیاب رہے ہیں۔ نادر کو یہ مُجسّمہ بنانے میں اندازاً آٹھ ماہ لگ گئے، جن میں سے آخری تین ماہ انہوں نے اپنے آپ کودن رات اس کام میں مصرُوف رکھا اور وہ اس امر کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کام قدرت نے اُن سے لینا تھا، جو اُس نے لیا۔ نادرجمالی اپنی رُوح کو پیدائشی طور پر صُوفی کہتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ اُن کو بچپن ہی سے اُن کے دوست اور دیگر متعلقین ’صُوفی‘ کہہ کر پُکارا کرتے تھے، جس کی وجہ وہ ماسوائے اس کے کوئی اور نہیں سمجھتے، کہ اُن کو بچپن ہی سے شاہ لطیفؒ اور اس سرزمین سمیت دُنیا بھر کے صُوفیوں سے بے پناہ عقیدت تھی۔

نادر علی جمالی کو شاہ لطیف کا اتنا عظیم الشان مُجسمہ تخلیق کرنے پر دو برس قبل (عین مجسمے کی تخلیق والے سال) ’لطیف ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا، جو بجا طور پر سندھ کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ نادر کا عشق اپنے عرُوج پر ہے اور اب وہ شاہ لطیف کی شاعری میں ان کے مذکُور میں آنے والی خواتین کے امر کرداروں (سوُرمیوں) بشمُول سسئی، مارئی، مومل، سُہنی، لِیلاں، سورٹھ اور نُوری، ہرایک کا الگ الگ مُجسّمہ تخلیق کر کے شاہ لطیف کو اپنی مُحبّتوں کا مزید خراج پیش کرنا چاہتے ہیں۔

چند روز میں ایک بار پھر، ہر سال کی طرح 14، 15 اور 16 صفر کو شاہ لطیف کا عرس منعقد ہونے جا رہا ہے، اور یہ مجسمہء لطیف اس بار بھی ہزاروں زائرین کو خوش آمدید کہنے کے لیے کراڑ جھیل کے بیچ میں، اپنے پر شکوہہ چبُوترے پر، اپنے تخلیقی حسن کے ساتھ کھڑا ہے، جو اب کی بار بھی سب کا مرکزِ نگاہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •