پاکستان کا مائیکل اینجلیو: فقیرو مینگھواڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹنڈوالہ یار کی مٹی اپنی ہریالی کی وجہ سے بڑی مشھور اور سندھ کی زرعی زمین میں سب سے زیادہ زرخیز ہے۔ یہاں کے لہلہاتے کھیت، ہری بھری فصلیں، آ موں کے باغات، پھلوں اور سبزیوں کی مشہورمنڈی سلطان آباد، پاکستان کا مثالی گاؤں ٹنڈو سومرو جس کے مثالی ہونے پر بی بی سی نے فلم بھی بنائی۔ کافیوں کے بادشاہ مصری شاہ کا تاریخی شھر نصرپور جو کبھی دریاے سندھ کے کنارے آباد تھا اور سندھو کی عظیم تہذیب کا ایک شہر تھا اور پھر دریا نے اپنا رستا تبدیل کر کے اپنے ہونے کے کئی نشان تاریخ کے طور پر چھوڑ دیے۔

میری یونین کاؤنسل شاہ عنایت کے نام سے منسوب ہے جو سندھ کے ا بتدائی اور اعلی پایے کے شاعروں میں سے ایک بہت ہی نامور شاعر رہے ہیں۔ راما پیر ہندؤں کا ایک اہم بزرگ ہے اور اس کی مزار پر خاص طور پر ان کے سالانہ میلے پر سندھ کے ہندو پیدل سفر کر کے اس میں شریک ہوتے ہیں اور وہ قابل دید سماں ہوتا ہے۔ شاہ عنایت رضوی جیسا صوفی منش شاعر، مرتضی شاہ ڈاڈاھی، قاسم اوٹھو، ڈھول فقیر جیسے فنکار، وتایو فقیر جیسا بزرگ جس کی مزاحیہ کھاوتیں مزاح کے ساتھہ سبق آموز بھی ہوتی ہیں۔

عہد حاضر میں نوجوانوں کے مقبول شاعر حسن درس جس کے نام کے بغیر جدید رومانوی سندھی نظم کا تصور نا مکمل ہے۔ اس سے اگلی نسل میں روحل کالرو جس کی شاعری اپنے مخصوص ڈکشن کی گواہی اس نوٹ کے آخر میں خود ہی دے گی، اس ضلعے کی شناخت ہیں۔ اس لسٹ میں خورشید قائم خانی کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی بھیل اور کولہی کمیونٹی کے ساتھہ مل کے بسر کی اور اپنی زمین ان میں تقسیم کر دی۔ خورشید قائم خانی نے اس کمیونٹی پر کئی کتابیں بھی لکھ ڈالیں۔

نذیر عباسی شہید کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جو بحالی جہموریت کے پہلے شہید بنے اور وہ ایم آرڈی کی تحریک سے پہلے مارشل لا کے ٹارچر کیمپ کی نذر ہوئے۔ عزیز سلام بخاری ترقی پسند اور بایں بازو کی سیاست کا بڑا نام اور ہمہ گیر شخصیت کا تعلق بھی اسی مٹی سے تھا۔ اس شناخت میں ایک اور چمکدار ستارا ابھی براجمان ہوا ہے جس کا نام فقیرو مینگھواڑ ہے۔ فقیرو مینگھواڑ جس کے دادا بیکارام ایک مشھہور مجسمہ ساز اور ڈزائینر تھے، اس طرح یہ فن فقیرو کو اپنے دادا اور بعد میں اپنے والد کے معرفت ملا۔

اس کے فن مجسمہ سازی کو دیکھتے ہویئے اس کی شدید خواھش تھی کہ آپ این سی اے لاھور سے کوئی ڈگری وغیرہ لیں لیکن گھر کے نا مساعد حالات کے وجھ سے اس کا یہ خواب ادھورا رہا لیکن ان تمام حالات کے بعد بھی فقیرو نے مجسمہ سازی کا کام جاری رکھا۔ آپ کے کام کی نفاست کو دیکھتے ہوئے ملک کی مشھور فنکارہ حمرا عباس نے فقیرا کو اپنے ساتھ شامل کیا اور دونون نے مل کے ہندستان کے مشہور آرٹ کاما سوترا سیریز پر مجسمے تراشے جن کو بنانے میں تین ماہ کا وقت لگا اور اس کی نمائش باسفورس سمندر کے کنارے آباد ایشیا اور یورپ کو اپنی لہروں سے تقسیم کرتے ترکی کے مشھہور شہر استنبول میں ہوئی جس سے ان کے کام کی پذیرائی ہوئی۔

فقیرا کا کام آج بھی کینیڈا، آمریکا، برطانیہ میں کافی مقبول ہے۔ فقیرا نے 2007 میں اسکاٹ لینڈ کی مشہور آرٹسٹ صوفی ارنیسٹ کے ساتھ بھی کام کیا۔ ان کے کام کے حوالے سے کینوس آرٹ گیلری کراچی، سندھ میوزم حیدرآباد، کوئل گیلری کراچی، پھلا انٹرنیشنل آرٹ گیلری نیپال اور ترکی میں نمائشیں ہوئیں۔ فقیرا نے آج تک تین سو پچاس سے زائد مجسمے مٹی، لکڑی، پلاسٹر آف پیرس، فایئبر گلاس اور پتھر سے بنائے ہیں۔ آپ نے ہندستان اور یورپ کی فن مسجمہ سازی کے امتزاج سے نئے طرز کے مجمسے بنائے۔ ، فقیرا کو ان کے کام کے صلے میں کافی مقامی اور عالمی اداروں نے انعام سے بھی نوازا۔

فقیرو کا کہنا ہے کہ وہ اس فن کو اپنے زمانے کے نوجوانون کو منتقل کرنا چاھتے ہین لیکن اس کے لئے سرکار ایسے ادارے قائم کرے جہاں پر وہ نوجوانون کو یہ فن منتقل کر سکے۔ اس سلسلے میں کوئی آرٹ کا ادارہ یا گیلری وغیرہ بنائی جائے جہاں پر نوجوان آ کے یہ علم سیکھ سکیں۔ فقیرو فنکار کے ہاتھوں کی حرارت، مٹی کے مجسمے بنا کے، ان میں زندگی کے رنگ بھر دیتی ہے۔ یہ مجسمے فقیرو کے سنگ تراش ہاتھوں کی حرارت سے حسن کی اڑان اڑنے لگتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے فقیرو حسن درس کے خیال کی خدائی کو مٹی سے بٹور کے اس کو مجسموں کی صورت میں زندہ کرتا ہے۔ فقیرو مینگھواڑ ایک ایسا غیر معمولی انسان ہے جس کے ذہن میں رنگون کی روشنی، جس کے دل میں ایسا اجلا پن اور ہاتھوں کی لکیروں میں کمال فن جادو اور خیال کی خدائی ہے جو ان مجسموں کے ہر خم، ہر لکیر اور اسٹروک میں ظاھر ہوتی ہے۔ اگر فقیرو جیسا انسان یورپ جیسے خطے میں پیدا ہوتا تو آپ کی یورپ کے کسی بڑے شہر میں ایک عدد گیلری ہوتی اور دنیا آپ کے فن سے واقف ہوتی اور آپ کئی ایوارڈ لے چکے ہوتے۔ لیکن وہ بدقسمتی یا خوشقسمتی سے پاکستان کے سب سے چھوٹے ضلع ٹنڈوالہ یار میں پیدا ہوا ہے اس لئے ابھی تک ان کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو اس جیسے با کمال فنکار اور مصور کو ملنی چاہیے یا اس جیسے فنکار کو بڑے شہروں میں ملتی ہے۔

جہاں فقیرو کے کام کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں پذیرائی ملی ہے کیا اس کا کام ہم سے اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ اس کے کام کو ملکی سطح پر بھی اسی طرح روشناس کرایا جائے جس طرح کہ اس کو کرنے کا حق بنتا ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ فقیرو ایک پسماندہ علاقہ کا فنکار ہے جس کی تعلیم بھی انٹرمیڈیٹ ہے، وہ نا تو این سی اے لاھور جیسے کسی بڑے تعلیمی ادارے سے پڑھا ہے نہ اس نے کسی عالمی ادارے سے کوئی سرٹیفکیٹ کورس کیا ہے، اس نے انگریزی کتابین پڑھی ہیں اور نہ انگریزی فر فر بولتا ہے پر دیسی مٹی کا خالص فنکار ایسے ہی پیدا ہوا ہے جیسے کہ ایک سچا ہیرا کوئلے کی کان میں ملے یا اصلی موتی کسی سیپ میں بند۔ کیا کہنے اس کنول کے پھول کے جو کیچڑ میں کھلا کرتا ہے۔ بس اس عظیم فنکار، دیسی مائیکل اینجلیو کے فن کو خراج تحسین دینے کا حق تو یہ بنتا ہے کہ اس کو پاکستان کا ادارہ برائے فن اعزازی ڈگری سے نوازے۔

اسی مٹی کے شاعر روحل کالرو نے فقیرو فنکار کے لئے ایک پوری نظم لکھی ہے جو کے سندھی زبان مین ہے لیکن یہاں اس کا ترجمہ دیا گیا ہے تا کہ آپ اس سے مستفیض ہو سکیں:

رہنے دو بات خزانوں کی غریب سے ہو جاؤ

تراش دو خود کو ایسے فنکار فقیرو بن جاؤ

یونان بھی تو اور ایتھنس بھی تیرے اندر

پتھروں کے چھونے کا لمس بھی تو ہے

سیفو کے گیسو کی مانند لپٹ جاؤ

اے میرے پرومیتھس اس آگ کو سلگاؤ

اندھیرون کو مٹاؤ اور چاندنی بن کے بکھر جاؤ

تراش دو خود کو ایسے فنکار فقیرو ہو جاؤ

آرام کہاں کا، تم ننیند کو سلجھاؤ

ایسے دل کو بھلا دو، آواز پہ نہ اٹھنے پائے

ایسے چھپ جا آوازوں سے، جیسے وہ بستی ہو رنگوں میں

اینجلو کی آنکھیں ہو جاؤ اور مسکن کی طرف

اپنے برش کو بھر دو، نیلے رنگ میں رنگ جاؤ

تراش دو خود کو ایسے فنکار فقیرو بن جاؤ

پتھروں سے آؤ تو کچھ موم لے آؤ

بت اپنا تراشتے، تیشے کو یہ بتلاؤ

کوئی ذرا نکلے اگر خون کو سفید سمجھو

آسان نہیں ہے سنگ مرمر جتنا تم کچا جانو

موھن جو دڑو لوٹو مسکن ملیر کا بن جاؤ

تراش دو خود کو ایسے فنکار فقیرو بن جاؤ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •