ظفر اقبال: لا تنقید سے آب رواں تک


”آب رواں“ کی ایک غزل، ’آنکھوں میں لہرائے لالہ زار، بہار آ گئی‘ ناصر کی 1956 ء کی اس مشہور غزل کی یاد دلاتی ہے : کنج کنج نغمہ زن بسنت آگئی

آب رواں میں ایک شعر ہے :

وہ ایک قطرہ وہ اک ذرہ ہی سہی لیکن

میں جس کو ڈھونڈتا ہوں تیرے بحرو بر میں نہیں

ناصرکا 1957 ء کا ایک شعر ہے :

بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں

میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی

ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ الٹا ناصر پر طنز کرتے ہیں کہ اس نے میر سے سرقہ کیا ہے :

اپنی ہی کرامات دکھاتے رہے سب کو

سرقہ نہ کیا معجزہء میر سے ہم نے

کرامات دکھانا اب اتنا بھی آسان نہیں۔ شعر بذات خود آپ کے دعوے کی تردید کر رہا ہے کیونکہ اس میں دو الفاظ (سب کو) زائد اور بھرتی کے ہیں۔ اس دعوے پر کیا شعر یاد آ گیا ہے :

برابری کا تری گل نے جب خیال کیا

صبا نے مار طمانچہ منہ اس کا لال کیا

ایک ناصر کی بات نہیں، ”آب رواں“ کے کتنے ہی مصرعے اور شعر ہیں جن کو پڑھتے ہی دوسرے شعرا کے مصرعے اور شعر ذہن میں گونجنے لگتے ہیں۔ حیات کی بے ثباتی ایک مرغوب اور سدا بہار مضمون ہے جس کو واقعتا سو رنگ سے باندھا گیا ہے۔ انیس کا یہ شعر کس نے نہیں سنا ہو گا:

انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ

چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے

ظفر اقبال صاحب کے اس شعر میں انیس کی باز گشت واضح طور پر سنائی دے رہی ہے مگر یہ انیس کے شعر سے کوسوں پیچھے ہے :

لرز رہی ہے مری لو پڑے پڑے ہی ظفر

وہ لے چلے ہیں کہاں سامنے ہوا کے مجھے

’رجحان ساز کتاب‘ میں ایک شعر یہ ہے :

چلو ہوا نہ سہی، لو ہی چل پڑے یارو

یہی بہت ہے اگر خشک ہو پسینہ بھی

جوش صاحب کا بہت مشہور شعر ہے :

اب بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ

وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

اب حبس اور لو کا تعلق تو بنتا ہے مگر ہوا اور لو کا تقابل نہیں بنتا کیونکہ لو بھی ہوا ہی ہوتی ہے۔

ظفر اقبال نے فیض صاحب کے بارے میں بھی بہت کچھ ارشاد کیا ہے مگر ان کا یہ شعر فیض کی یاد دلاتا ہے :

ساتھ کچھ ہمت بھی اب کرنی پڑے گی اے ظفر

وقت نازک ہے، اکیلی آرزو، کیا کیجیے

فیض کا شعر ہے :

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم

وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

علاوہ ازیں ظفر کے شعر میں ’وقت نازک ہے‘ بھرتی کا ٹکڑا ہے۔ اکیلی آرزو کسی بھی وقت کافی نہیں ہوتی، جیسا کہ فیض کے شعر میں بیان ہوا ہے۔

”آب رواں“ میں نو اشعار پہ مشتمل ایک غزل ہے : ’منزل پہ خاک ڈال، سفر کا نشاں تو ہے‘ ۔ اسی زمین میں منیر نیازی کا ایک شعر اس پوری غزل پر بھاری ہے۔

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائگاں تو ہے

اس مقام تک آتے آتے ڈاکٹر تحسین فراقی کا ”لا تنقید“ کا دیباچہ یاد آ جاتا ہے جہاں انہوں نے ظفر اقبال صاحب کا سوچ بچار کی دعوت دینے والا ایک مقولہ یہ لکھا ہے کہ ”اچھا شاعر وہی ہوتا ہے جو خراب شعر کہنے سے ڈرتا جھجھکتا نہ ہو“۔ اس نکتے سے کوئی اختلاف ممکن نہیں۔ اس میں اچھے یا برے شاعر کی کوئی قید نہیں۔ جب تک شعر کہا نہ جائے یہ فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہو گا کہ وہ شعر اچھا ہے یا برا۔ البتہ اچھے شاعر کی یہ نشانی بھی ہوتی ہے کہ وہ خراب شعر کی پہچان رکھتا ہو اور اسے چھپوانے سے ضرور ڈرتا جھجھکتا ہو کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس کے ثبوت کے لیے علامہ اقبال کے بہت سے کلام سے رجوع کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے رد کیا اور اب ”باقیات اقبال“ میں شامل ہے۔

”آب رواں“ کے مطالعہ کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی شاعری کے بارے میں لاف گزاف سے قطع نظر ان کے دل کے کسی نہاں خانے میں یہ اعتراف جاگزیں ہے کہ ان کی شاعری اعلیٰ درجہ کی نہیں ہے اور وہ ’بے ساختہ، برجستہ، رواں، صاف، شستہ، اور جھول سے پاک‘ مصرع بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے ہاں کبھی کبھار جو انکسار نظر آتا ہے وہ دراصل ان کی زیر لب دعا ہے کہ ان کی شاعری کو بھی قبول عام حاصل ہو۔ وہ اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کے بجائے ضد کرتے ہیں کہ اب کھیل کے اصول بھی وہ خود بنائیں گے۔ تحکمانہ انداز میں فرماتے ہیں ”شعر کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ میں نے کرنا ہے کسی غیر شاعر نے نہیں“۔ [ 393 ] وہ دوسروں کی شاعری کو تو روایتی اصولوں کی بنیاد پر جانچتے ہیں مگر جب اپنی شاعری میں وہی خامیاں ہوں تو انہیں جدت کے نام پر روا رکھتے ہیں۔ وہ بے شک صد مہر سلیماں کو ناچیز گردانیں مگر امر واقعہ یہی ہے کہ شاعری کی نیلم پری کو شیشے میں اتارنے میں ناکام رہے ہیں۔

مندرجہ بالا سطورسے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہو گا کہ ظفر اقبال صاحب نے کوئی اچھا شعر نہیں کہا۔ ”آب رواں“ میں یقینا چند شعر ایسے ہیں جو عمدہ ہیں، ان میں بیان کی تازگی بھی ہے، مگر یہ غیر معمولی اشعار نہیں۔ اپنے شاعرانہ مقام و مرتبہ کے بارے میں ان کی جو بھی رائے ہو، میرے خیال میں ظفر اقبال صاحب کا ایک شعر ضرور ایسا ہے جو انہیں اردو ادب میں زندہ رکھ سکتا ہے۔ تاہم وہ ”آب رواں“ کے بعد کا ہے :

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

(یہ مضمون روزنامہ پاکستان کے سنڈے میگزین میں 18 اکتوبر 2015ء کو شایع ہوا تھا۔ )

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4