ظفر اقبال: لا تنقید سے آب رواں تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم عطاءالحق قاسمی صاحب نے اپنے ایک کالم میں ”خود تشخیصی اسکیم“ کی لاجواب ترکیب استعمال کی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض مخلوقات اپنے مقام اور مرتبے کا تعین کر لیتی ہیں۔ ظفر اقبال صاحب کی ”لا تنقید“ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ انہوں نے اس اسکیم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو عصر حاضر کے خدائے سخن کے مرتبہ پر فائز کر لیا ہے۔ تاجر حضرات اس اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی کثیر آمدنی کو کم سے کم ظاہر کرتے ہیں اور اگر ان کے گوشواروں کی جانچ پڑتال کی جائے تو محکمے کو کرپٹ اور نا اہل گردانتے ہیں۔ ظفر اقبال صاحب نے اپنی قلیل سی یافت کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے کہ اگر کوئی شامت کا مارا ان کے کسی دعوے پر شک کا اظہار کرے یا اسے تسلیم نہ کرے تو وہ جانبدار، بد ذوق اور متعصب ہے۔

میر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”یہ ضروری نہیں کہ [میر] ہمیشہ ہی خداے سخن رہیں۔ اس وقت سخن کا جو عالم تھا وہ خدائے سخن ہو سکتے تھے اور تھے بھی لیکن اب سخن کی صورت حال بدل چکی ہے“۔ [ 393 ] یعنی اب ظفر اقبال کا ظہور ہو چکا ہے اور ان کی موجودگی میں میر کے لیے ایسادعویٰ کیونکر کیا جا سکتا ہے۔ مملکت شعر میں انقلاب برپا ہو چکا ہے اور وہ مملکت سخن کی کمان سنبھال چکے ہیں۔ بے چارے نقاد! انہیں اس انقلاب کی خبر ہی نہیں ملی۔

ظفر اقبال صاحب نے اپنی شعری کلیات کی متعدد جلدوں کے بعد ”لاتنقید“ کے نام سے اپنی نثر کی کلیات پیش کی ہے جس کا واحد مقصد دوسروں کی تنقیص اور ”اپنا پیپا کوٹنا“ ہے۔ اقبال کا زندگی کے بارے میں ایک مصرع ہے : ’پسند اس کو تکرار کی خو نہیں‘ ۔ مگر ہمارے خدائے سخن کو تکرار بہت مرغوب ہے۔ ایک ہی بات کو بیسیوں دفعہ دہرایا گیا ہے۔ جاحظ عربی زبان کا بہت بڑا ادیب ہی نہیں، ایک عمدہ خطیب بھی تھا۔ ایک دن اس نے اپنی لونڈی سے اپنی تقریر پر رائے طلب کی تو اس نے کہا کہ تمہاری تقریر توعمدہ ہوتی ہے مگر اس میں تکرار بہت ہوتی ہے۔ اس پر جاحظ نے کہا کہ تکراراس لیے ہوتی ہے تا کہ غبی بھی اس کی بات سمجھ جائیں۔ لونڈی نے جواب دیا، مگر اتنی دیر میں ذہین اکتا چکے ہوتے ہیں۔

”لاتنقید“ کے مطالعے کے بعد شدت سے خیال آتا ہے کہ کاش ظفر اقبال صاحب ڈاکٹر تحسین فراقی سے دیباچہ لکھوانے پر ہی اکتفا نہ کرتے بلکہ ان سے کتاب کی ایڈیٹنگ بھی کروا لیتے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ انہیں رطب و یابس بہت پسند ہے، رطب کم اور یابس زیادہ۔

خبط عظمت، اوریجنیلیٹی کا ادعا، تکرار، خود تردیدی، تناقض، بلند بانگ دعوے، من گھڑت بیانات تو اس کی خوبیاں ہیں ہی مگر اس کتاب میں معاصرین کے ساتھ لٹھ بازی کرتے ہوئے ظفر اقبال صاحب نے تیموری سپاہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔

ظفر اقبال صاحب کا ایک فرمان یہ بھی ہے کہ شاعری کی تنقید صرف شاعروں کو لکھنی چاہیے۔ اگر شاعر تنقید لکھیں گے تو دو ہی صورتیں ممکن ہیں : یا تو ایک دوسرے کی تعریف کر کے دل خوش کرتے رہیں۔ یا ہر شاعر اپنی شاعری کو کسوٹی مان کر دوسروں کو جانچے گا۔ ظفر اقبال صاحب تنقید لکھتے ہیں تو وہ خود کو بہت ہی بڑا شاعر سمجھتے ہوئے دوسروں کے کلام پر رائے دیتے ہیں۔ نقادوں سے وہ اسی لیے نالاں ہیں کہ وہ انہیں خدائے سخن مان کر نہیں دے رہے۔ شاعر کو اصل ضرورت ایک دو ایسے دوستوں کی ہوتی ہے جو سخن فہم تو ہوں مگر سخن ور نہ ہوں ؛ بے لاگ اور آزادانہ رائے دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ان کی رائے اور مشورہ شاعر کے لیے زیادہ مفید ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پاس سننے والے کان ہوں۔ ایک استاد موسیقی نے جب یہ کہا کہ گانے والوں کو اپنی آواز سنائی نہیں دیتی تو شاگردوں نے پوچھا یہ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر انہیں اپنا گانا سنائی دے رہا ہو تو ٹھیک سے گانا نہ شروع کر دیں۔

وہ نقاد سے مایوس ہوتے ہیں تو ان کو قاری کاخیال آتا ہے : ”قاری سے بڑا جوہر شناس اور کون ہو سکتا ہے، کہ شعری ادب تو معاملہ ہی تخلیق کار اور قاری کے درمیان ہے، یہ نقاد بیچ میں کہاں سے ٹپک پڑا۔ “ [ 394 ]

”آج کا قاری۔ ۔ ۔ اتنا سادہ بھی نہیں کہ اسے آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہو، چناں چہ شاعری کی کتاب اگر نہیں بکتی تو قاری کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ وہ اپنے اصلی پیسوں سے نقلی یا گھٹیا مال کیوں خریدے گا۔ “ [ 91 ]

یہاں اس حقیقت کا بیان کیاجانا ضروری ہو جاتا ہے کہ ”آب رواں“ کا پہلا ایڈیشن 1962 ءمیں شایع ہوا تھا اور دوسرا، انیس سال بعد، 1981 ء میں، جسے پنجاب یونیورسٹی لائبریری نے 2014 ءمیں خریدا؛ گویا 33 سال بعد بھی یہ ایڈیشن ناشر کے پاس موجود تھا۔ اس کے ایک سال بعد 2015 ء میں یہ کتاب پہلی بار کسی کے نام جاری ہوئی۔ بے شک یہ قاری کی سمجھداری کا ثبوت ہے کہ وہ نام نہاد شاعری کی کتب پر اپنا پیسہ برباد نہیں کرتا۔

ظفر اقبال صاحب کی یہ بات درست ہے کہ ”مقبول ہونا بڑے یا اعلی درجے کا شاعر ہونے سے قطعی مختلف چیز ہے۔ “ [ 54 ] ”اپنے زمانے کے مقبول شاعر اختر شیرانی کو اب کتنے لوگ پڑھتے اور یاد رکھتے ہیں“۔ [ 321 ] مگر سوال یہ ہے اختر شیرانی کے زمانے میں جو شاعر غیر مقبول تھے ان کو اب کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟ ہر مقبول عام شاعر بڑا شاعر نہیں ہوتا، اگرچہ یہ لازم نہیں کہ غیر مقبول شاعر بڑا شاعر ہو۔ یہ درست ہے کہ بعض اوقات کچھ لوگوں کو ان کے استحقاق سے زیادہ شہرت مل جاتی ہے مگر وہ بہت جلد طاق نسیاں کی زینت بن جاتے ہیں۔ تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی حقیقی شاعر اور فنکارکی اس کی زندگی میں تحسین نہ کی گئی ہو، کم یا زیادہ۔ نا قدری زمانہ کا شکار جینیئس محض ایک مغالطہ ہے اور بہت سے لوگ اس غلط فہمی کی بنا پر بھٹکتے رہتے ہیں کہ وہ آنے والے زمانے کی آواز ہیں اور ان کی اصل تحسین ان کے سو پچاس برس بعد کی جائے گی۔

اتنی ضخیم اور غیر مرتب و غیر مدون کتاب کا مطالعہ قاری کے لیے ایک سزا سے کم نہیں۔ ایک بار ظفر اقبال کی چند غزلیں پڑھنے کے بعد خامہ بگوش نے استاد لاغر مراد آبادی کے نام سے ظفر ہی کی زمین میں ایک شعر لکھا تھا:

ناگی نے جو چھاپیں ظفر اقبال کی غزلاں

جو ان کو پڑھیں گا وہ خسارے میں رہیں گا

خامہ بگوش نے جو بات ظفر اقبال کی ’غزلاں‘ کے بارے میں کہی تھی وہ ان کی ’نثراں‘ پہ بھی صادق آتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •